بین المذاہب مکالمہ :وقت کی ضرورت

0

محمد فاروق اعظمی

آج ہندوستان مختلف طرح کے فکری، نظریاتی، سیاسی، معاشرتی اور مذہبی چیلنجز کے دور سے گزررہا ہے۔ طرح طرح کے مذہبی، لسانی، معاشرتی اور سیاسی مفادات و تعصبات بڑی تیزی سے تشد د اور دہشت گردی میں تبدیل ہوتے جا رہے ہیں۔ہر آنے والادن فرقہ واریت اور تشدد کی نئی داستان لے کر طلوع ہورہاہے۔تریپورہ، آسام سے لے کر اترپردیش اور گجرات تک منافرت کی یہ لہرپورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔ اگر منافرت کی اس لہر پر قابو نہیں پایا گیا تو عین ممکن ہے کہ ہم آپس میں ہی لڑبھڑ کر خود اپنا ہی خاتمہ کرلیں۔ ملک عزیزکو اس ماحول سے نکالنا اورایک دوسرے کے تئیں روادارا نہ جذبہ اور اعتماد کیلئے ماحول سازگار کرنا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس ضرورت کا ادراک ملت کے اکابرین کو ہے یا نہیں اورا نہوں نے اس سمت میں کون سی پہل کی ہے لیکن مغربی بنگال کے چند باشعور دردمند مسلمانوں نے وقت کی ضرورت کا احساس کیااور ملک کو مفادات ، تعصبات اور ہر طرح کی منافرت کی چپقلش سے نکالنے کیلئے بین المذاہب مکالمہ کی دشوار گزار راہوں کا انتخاب کیاہے۔ ’’بنگال انسی ٹیوٹ آف ملٹی کلچر اسٹڈیز‘‘ کے نام سے ایک ادارہ کی داغ بیل بھی ڈالی ہے۔ملت کے یہ درمند افراد نجی اور اجتماعی زندگی میں پیدا ہوئے عدم اعتماد، نفرت، عدم مساوات اور بے توقیری کے ماحول کو ختم کرنے اور معاشرے میں بھائی چارہ ، سائنسی مزاج اور سماجی انصاف کے تصور کو فروغ دینے کے خواہش مندہیں۔ ان کے اغراض و مقاصد میں مختلف طبقات کے سماجی، معاشی، سیاسی، تاریخی اور ثقافتی مسائل کے مختلف پہلوئوں سے متعلق تحقیق اور رپورٹ تیار کرنا اور اس کی روشنی میں راہ عمل متعین کرنا ہے۔جادب پور یونیورسٹی، کلکتہ یونیورسٹی ، سینٹ زیویئرس کالج اورمغربی بنگال کے دیگر مایہ نازتعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے ماہرین تعلیم ، اساتذہ کرام ، صحافیوں اور صاحبان عقل و دانش پر مشتمل اس ادارہ نے گزشتہ دنوں ’بین المذاہب اور بین الثقافتی مکالمہ‘ کا آغاز کیا اور ملک و قوم کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ اگر امتیازو تعصب اور مخالفت و منافرت کی یہ فضا ختم کرنی ہے توہمیں محاذآرائی نہیں بلکہ مکالمہ آرائی کی راہ اپنانی ہوگی۔ پرامن بقائے باہمی کا ہدف حاصل کرنے کیلئے نظریاتی اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے مابین گفتگو اور مکالمہ ہی واحد حل ہے۔
اس میں کوئی کلام نہیں ہے کہ منافرت اور تشدد کا جواب منافرت اور تشدد نہیں ہوسکتا ہے۔ معاشرے میں امن و استحکام کے قیام اور ایک دوسرے کے جذبات و احساسات کا پاس و لحاظ رکھے بغیر پرامن بقائے باہمی کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا ہے۔ معاشرتی زندگی میں امن کیلئے ضروری ہے کہ معاشرے کا ہر فرد دوسرے کے ساتھ بلاکسی تفریق و امتیاز کے بہتر رویہ اختیار کرے۔ اختلاف کے باوجود تحقیر و بے توقیری کا رویہ اپنا نے کے بجائے مخالف کی عزت نفس مجروح کیے بغیر حسن سلوک سے پیش آئے اور یہی عین رواداری ہے، جو آج کے منافرت بھرے ماحول کو بہتر بنانے کا واحد راستہ ہوسکتا ہے۔
ہندوستان جیسے کثیر الثقافت و کثیر المذاہب ملک میں بقائے باہمی کیلئے یہ رواداری ناگزیر ہے۔ انفرادی اور اجتماعی زندگی میں رواداری کا یہ جذبہ پیدا کیے بغیر ہم پرامن بقائے باہمی کے ہدف تک نہیں پہنچ سکتے ہیں۔ یہ جذبہ بھی یوں ہی پیدا نہیں ہوسکتا ہے کہ اس کیلئے ضروری ہے کہ ہمارے درمیان چند ایسے لوگ اٹھیں جو بادمخالف کی تندی کے باوجود ثابت قدم رہتے ہوئے مخالفت برداشت کریں اور گفتگو اور مکالمہ کے ذریعہ مسئلہ کا حل تلاش کریںاو ردوسرو ں کو بھی اس کیلئے قائل کریں۔
اپنے مذہب اور عقیدہ سے دست بردار ہوئے بغیر دوسرے سے اچھے تعلقات قائم کرنے کی نہ تو کسی مذہب میں ممانعت ہے اور نہ ہی کوئی صحیح الدماغ اس کی مخالفت کرسکتا ہے۔بنیادی طور پر تمام مذاہب امن کا ہی پیغام دیتے ہیں مگر انسانوں کی یہ بدبختی ہے کہ وہ اسی مذہب کو ایک دوسرے کے تئیں تعصب و نفرت اور تشدد کیلئے استعمال کرنے لگے ہیں۔ آج ہندوستان میں منافرت کی اہم ترین وجہ بھی یہی مذہبی تعصب ہے۔یہ تعصب ایک دوسرے کے تئیں ناواقفیت اور کم آمیزی کی وجہ سے مزید بڑھ جاتا ہے۔اپنے مذہبی اقدار سے ناوابستگی اور بعض اوقات شدت پسندی کا رجحان بھی اس مذہبی تعصب کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس تعصب کو ختم کیے بغیر ہم نہ تو ایک دوسرے کو سمجھ سکتے ہیں اور نہ معاشرہ میں ہم آہنگی اور یگانگت کی فضا قائم ہوسکتی ہے۔ مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان خوشگوار ماحول کو فروغ دینے اور ایک دوسرے کے تئیں روادارانہ جذبہ قائم کیے بغیرمعاشرہ میں نہ توا من آسکتا ہے اور نہ ہماری معاشرتی اور سماجی زندگی میں استحکام و توازن آسکتا ہے۔
امن و امان، آزادی، مساوات اور ترقی ہر انسان کی خواہش ہے اور اس خواہش کی تکمیل، موافق سماجی و معاشرتی ماحول و حالات میں ہی مضمر ہے جو بوجوہ تعصب و منافرت روز بروز خراب ہوتے جارہے ہیں۔اس لیے ضروری ہے کہ ہم ایک دوسرے کو سمجھیں ،بین المذاہب اچھے تعلقات قائم کریں ، جب مختلف مذاہب کے ماننے والے ایک دوسرے کو قریب سے دیکھتے ہیں تو ان کی باہمی غلط فہمیاں دور ہوتی ہیں اور بہت سے مسئلے یوں ہی حل ہوجاتے ہیں۔شرط ہے کہ ہم پوری دیانت داری ، خوداعتمادی اور شائستگی کے ساتھ اپنا نقطہ نظر پیش کریںاوردوسروں کے اختلافی نقطہ نظر کو سننے کاحوصلہ بھی اپنے اندر پیداکریں اور اخلاص کی بنیاد پر دوسروں سے رشتے استوار کریں۔
امید ہے کہ ’بنگال انسی ٹیوٹ آف ملٹی کلچر اسٹڈیز‘ کی کوششیں اور کاوشیں ملک میں پرامن بقائے باہمی کیلئے ماحول کو سازگار بنانے میں اہم کردار اداکریں گی۔
[email protected]

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
1
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here