تشہیر سے نہیں ہوتی ہوا صاف!

0

پنکج چترویدی

یہ بات کہی گئی کہ دہلی حکومت نے پرالی کو کھیت میں ہی گلانے کی تکنیک ایجاد کرلی ہے مگر سبھی جانتے ہیں کہ راجدھانی دہلی میں دھان ہوتا نہیں ہے اور یہاں پرالی جلانے جیسا مسئلہ ہے نہیں، پھر بھی یہ بات کہی گئی کہ اب تو دہلی کی ہوا کسی ساحل کے گاؤں جیسی پاک ہوگئی ہے۔ پھر سپریم کورٹ کی سرزنش کے بعد آنندوہار اور کناٹ پلیس میں اسماگ ٹاور لگا دیے گئے جس پر خرچ کوئی 55کروڑ آیا اور اس کی تشہیر اور خود کی پیٹھ تھپتھپانے کا خرچ الگ۔ دیوالی کی رات سے کناٹ پلیس والا ٹاور خود ہی سانس نہیں لے پارہا ہے، جبکہ آنند وہار میں ہوا کی کوالٹی ساڑھے چار سو سے کم نہیں ہورہی۔ دہلی کی ہر ریڈلائٹ پر ادائیگی کے ساتھ نوجوانوں کو کھڑا کیا جارہا ہے جس میں وزیراعلیٰ کے چہرے والے پوسٹر ہوتے ہیں کہ ریڈلائٹ پر گاڑی بند کرو۔ جب کہ یہ سبھی جانتے ہیں کہ گاڑیوں سے آلودگی کا بنیادی سبب چالیس سے کم رفتار سے کار کا چلنا یا جام ہوتا ہے۔ اس پر ہر دن لاکھوں روپے خرچ کیے جارہے ہیں۔ نتیجہ سامنے ہے کہ اکیلے دہلی این سی آر کے چار کروڑ عوام ہی نہیں، دہلی سے 200کلومیٹر دور تک کے شہر قصبات بیماریوں کا گھر ہوگئے ہیں۔
دہلی میں یہ موسم بدلنے کے دن ہیں، دن میں گرمی اور اندھیرا ہوتے ہوتے درجۂ حرارت کم ہوجاتا ہے۔ ملک کی راجدھانی کے گیس چیمبر بننے میں 43فیصد حصہ داری دھول مٹی اور ہوا میں اڑتے درمیانہ سائز کے دھول کے ذرّات کی ہے۔ دہلی میں ہوا کی صحت کو خراب کرنے میں گاڑیوں سے نکلنے والے دھویں سے 17فیصد، پیٹ کاک جیسے پیٹرو ایندھن کی 16فیصد حصہ داری ہے۔ اس کے علاوہ بھی کئی وجوہات ہیں جیسے کوڑا جلانا۔ یہی نہیں سڑک پر گاڑیوں کے چلنے سے ٹائر کے گھسنے سے جو مہین کالے ربڑ کے ذرّات ماحولیات کی نچلی سطح میں ہوتے ہیں، وہ بھی کم جان لیوا نہیں ہوتے۔ المیہ ہے کہ جب ٹھنڈ کے دنوں میں دھند چھاتی ہے تو حکومت اسے سنگین ماحولیاتی بحران مانتی ہے اور سارا ٹھیکرا پرالی جلانے پر پھوڑ دیتی ہے۔ اس مرتبہ تو دیوالی کے بعد دہلی اور دوردراز تک زہر کی ایسی پرت چھائی ہوئی ہے کہ اسپتال سانس کی بیماری کے مریضوں سے بھرے ہیں۔ جو پیسے والے ہیں وہ شہر چھوڑ کر کسی دوردراز پہاڑی علاقہ پر جارہے ہیں اور وہاں بھی صلاحیت سے زیادہ بھیڑ ہونے کا خمیازہ ماحول بھگت رہا ہے۔
یہ کڑوا سچ ہے کہ اگر سپریم کورٹ سرگرم نہیں ہوتا تو دہلی کی آلودگی سے حکومتیں تو بے پروا ہی رہی ہیں۔ ایم سی مہتا بنام مرکزی حکومت، 1988کے فیصلہ کے بعد دہلی میں ای پی سی اے تشکیل دی گئی تھی جس کا کام دہلی خطہ راجدھانی میں آلودگی کو کنٹرول کرنے کے لیے کام کرنا تھا۔ چوں کہ دہلی کی آلودگی آس پاس کے اضلاع کی وجہ سے بھی متاثر ہوتی ہے، لہٰذا آدتیہ دوبے کی پٹیشن پر سپریم کورٹ کے ایک فیصلہ کے بعد مرکزی حکومت نے کمیشن فار ایئر کوالٹی مینجمنٹ (سی اے کیو ایم)کی تشکیل کی۔ چوں کہ اس کمیشن کے پاس آلودگی پھیلانے والوں کو پانچ سال کی جیل کی سزا سنانے کا بھی حق تھا، لہٰذا مرکزی حکومت نے آرڈیننس لاکر 28اکتوبر 2020 کو اس کی تشکیل کی رسم ادا کی۔ پٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت کے سابق سکریٹری ایم ایم کُٹّی کو اس کمیشن کا صدر بنایا گیا تھا۔ اس کے ممبر مختلف ریاستوں کے اعلیٰ افسر بھی تھے۔
اس کمیشن کی ایک میٹنگ 9نومبر2020کو ہوئی جس میں موجودہ اصول و ضوابط، قوانین اور ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیتے ہوئے ذاتی گاڑیوں کے استعمال کو کم کرنے، گھر سے کام کرنے کی حوصلہ افزائی، کوڑا جلانے پر سختی، دھول زدہ علاقوں میں پانی کے چھڑکاؤ جیسی ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ تجاویز پر کچھ عمل ہوتا اس سے پہلے ہی اس کی موت ہوگئی۔ واضح ہو کہ آرڈیننس کو قانون کی شکل دینے کے لیے اسے پارلیمنٹ کا سیشن شروع ہونے کے 6ہفتے کے اندر ایوان میں پیش نہیں کیا جاسکا، جس کی وجہ سے اس کی میعاد ختم ہوگئی اور کمیشن اپنے آپ ہی بھنگ ہوگیا۔
جس پارلیمنٹ کے رکن اپنے بھتے-تنخواہوں میں اضافہ کے بل کو پاس کرنے کی تیاری ایک سال پہلے کرلیتے تھے وہاں عام لوگوں کی زندگی سے کھلواڑ کررہی فضائی آلودگی کے حل کے لیے تشکیل ادارہ کے بارے میں یاد نہ رہنا حقیقت میں آج کی سیاست کے مفادعامہ سے دوری کی علامت ہے۔ ایک پاورفل کمیشن کوصحیح سے دفتر کی جگہ نہیں ملی، اس کے کام کو وسعت دینے کی بنیادی سہولتیں تک نہیں مہیا کروائی گئیں۔ ظاہر ہے کہ اس کمیشن کو بھی مرکزی حکومت نے سنجیدگی سے نہیں لیا۔
ظاہر ہے کہ اگر دہلی اور اس کے نزدیکی علاقوں کی سانس تھمنے سے بچانا ہے تو یہاں نہ صرف سڑکوں پر گاڑیاں کم کرنی ہوں گی، اسے آس پاس کے کم سے کم 100کلومیٹر کے سبھی شہر اور قصبات میں بھی وہی معیار نافذ کرنے ہوں گے جو دہلی شہر کے لیے ہوں۔ اب نزدیکی شہروں کی بات کون کرے جب دہلی میں ہی جگہ جگہ چل رہی گرامین سیوا کے نام پر اوور لوڈیڈ گاڑیاں، میٹرو اسٹیشنوں تک لوگوں کو ڈھونے والی دس دس سواری لادے تین پہیہ، پرانے اسکوٹروں کو جگاڑ کے ذریعہ رکشے کے طور پر دوڑائی جارہی پوری طرح غیرقانونی گاڑیاں ہوا کو زہریلا کرنے میں بڑا کردار نبھارہی ہیں۔ واضح رہے کہ گاڑیاں سی این جی سے چلیں یا پھر ڈیژل یا پٹرول سے، اگر اس میں صلاحیت سے زیادہ وزن ہوگا تو اس سے نکلنے والا دھواں جان لیوا ہی ہوگا۔ اگر دہلی کو ایک اربن سلم بننے سے بچانا ہے تو اس میں مبینہ مقبول فیصلوں سے بچنا ہوگا، جس میں سب سے اہم ہے یہاں بڑھ رہی آبادی کو کم کرنا۔ اس کے علاوہ دہلی میں کئی مقامات پر سرراہ کوڑا جلایا جارہا ہے جس میں گھریلو ہی نہیں میڈیکل اور کارخانوں کا بھیانک کیمیائی کچرا بھی ہے۔ نہ تو اس بڑے شہر اور اس کے چاروں طرف پھیلے ہوئے شہروں کے پاس کوڑا مینجمنٹ کا کوئی نظام ہے اور نہ ہی اس کے ڈسپوزل کا، لہٰذا سب سے آسان طریقہ اسے جلانا ہی سمجھا جاتا ہے۔ اس سے پیدا ہونے والا دھواں پرالی سے کئی گنا زیادہ ہے۔
واضح ہو کہ اتنی بڑی آبادی کے لیے چاہے میٹرو چلانا ہو یا پانی کا انتظام کرنا، ہر کام میں خرچ ہورہی توانائی کی پیداوار دہلی کی ہوا کو زہریلا بنانے کی جانب ایک قدم ہوتا ہے۔ یہی نہیں آج بھی دہلی میں جتنے ترقیاتی کاموں کی وجہ سے جام اور دھول اُڑ رہی ہے وہ یہاں کی صحت ہی خراب کررہی ہے، بھلے ہی اسے مستقبل کے لیے کہا جارہا ہو۔ لیکن ان انجان مستقبل کے لیے حال بڑی بھاری قیمت چکا رہا ہے۔ دہلی والے اتنی آلودگی خود پھیلا رہے ہیں اور اس کا قصور کسانوں کے سر پر ڈال کر محض خود کو ہی دھوکہ دے رہے ہیں۔ بہتر کوڑا مینجمنٹ، پبلک ٹرانسپورٹ کو این سی آرکے دوردراز علاقوں تک پہنچانے، راجدھانی سے بھیڑ کو کم کرنے کے لیے یہاں کی غیرضروری سرگرمیوں اور اداروں کو کم سے کم 200کلومیٹر دور شفٹ کرنے، دفاتر اور اسکولوں کے وقت اور ان کے بند ہونے کے دنوں میں تبدیلی جیسے دوررس قدم ہی دہلی کو مرتا شہر بنانے سے بچا سکتے ہیں۔
المیہ ہے کہ حکومتیں نعرے تو لگاتی ہیں، اپنا چہرہ چمکانے کے لیے اشتہار دیتی ہیں لیکن کوئی بھی سخت فیصلہ لینے یا طویل مدتی منصوبہ سے دامن بچاتی ہیں اور یہ صرف اسپتال اور دوا فروشوں کے مفاد کی تکمیل کی سازش ہی محسوس ہوتی ہے۔
[email protected]