مہنگائی کی مار: خوردنی تیل کی قیمت میں 15 سے 30 روپے تک کا اضافہ

0

نئی دہلی، (ایجنسیاں) : تہوار کا موسم ختم ہونے کے بعد بھی خوردنی تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاری ہے، جبکہ خوردنی تیل کی قیمتیں عام طور پر تہواروں کے اختتام کے بعد نیچے آتی ہیں۔ حالانکہ اس بار تیل کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافہ ہے۔ اس کی وجہ روس اور یوکرین کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو بتایا جا رہا ہے۔ تاجروں کے مطابق خوردنی تیل کی قیمتوں کا انحصار بھی عالمی صورتحال پر ہوگا۔ حالانکہ ابھی تہواروں کا سیزن گزرا ہے جس میں مانگ بڑھ گئی تھی۔ وہیں آگے بھی ایسی ہی ڈیمانڈ جاری رہے گی کیونکہ شادیوں کا سیزن شروع ہو چکا ہے۔ ایسی صورت حال میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہونا لازمی ہے۔ لیکن مارکیٹ میں تیل وافر مقدار میں دستیاب ہے۔گزشتہ ایک ماہ کے دوران ملک میں خوردنی تیل کی قیمتوں میں 15 سے 30 روپے فی کلو اضافہ ہوا ہے۔ ایک ماہ کے دوران ریفائنڈ سویا بین آئل کی تھوک قیمت 120-125 روپے سے بڑھ کر 140-145 روپے، سرسوں تیل کا بھاﺅ 130-135 روپے سے بڑھ کر 145-150 روپے، سورج مکھی تیل کا بھاﺅ 130-135 روپے سے بڑھ کر 160-165 روپے فی لیٹر ہو چکا ہے۔ اس دوران درآمدات شدہ پامولین آئل کی قیمت 90-95 روپے سے بڑھ کر 105-110 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے۔ تیل کی سنٹرل آرگنائزیشن فار آئل انڈسٹری اینڈ ٹریڈ سے وابستہ تاجروں کا کہنا تھا کہ روس اور یوکرین کے درمیان کشیدگی کے باعث بین الاقوامی منڈی میں خوردنی تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ہندوستان میں خوردنی تیل کی قیمت کا بہت زیادہ انحصار بین الاقوامی مارکیٹ پر ہے۔ اس لیے بین الاقوامی تیزی کے باعث ملک میں خوردنی تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ایک ماہ میں خوردنی تیل کی قیمتوں میں 15 سے 30 روپے فی لیٹر کا اضافہ ہوا ہے۔
آل انڈیا فیڈریشن آف ایڈیبل آئل سے وابستہ لوگوں نے بتایا کہ تہوار کی کمزور مانگ کی وجہ سے دیوالی کے بعد خوردنی تیل سستا ہونے کی امید تھی۔ لیکن بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمت میں اضافہ کے باعث مقامی مارکیٹ میں بھی خوردنی تیل مہنگا ہو گیا ہے۔ سورج مکھی کے تیل میں سب سے زیادہ 25 فیصد اضافہ ہوا ہے کیونکہ روس اور یوکرین کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ سورج مکھی کا تیل یوکرین سے ہندوستان کو بڑے پیمانے پر درآمد کیا جاتا ہے۔ تاجروں کے مطابق خوردنی تیل کی قیمتوں کا انحصار بین الاقوامی مارکیٹ پر ہوگا۔ اگر روس یوکرین اور دیگر ممالک کے درمیان تناو¿ کی صورتحال ہے، تاہم گزشتہ چند دنوں میں صورتحال قدرے پرسکون ہوئی ہے۔ اگر یہ صورتحال مزید جاری رہی تو اپ ٹرینڈ رک سکتا ہے اور نیچے کی طرف بھی ممکن ہے۔ کشیدگی بڑھنے سے قیمتیں بڑھنے کا امکان ہے۔