کورونا کے بعد مہنگائی کی مار

0

کلیم الحفیظ

جب سے ملک میں مودی کی حکومت آئی ہے تب سے عوام کی فلاح و بہبود اورغربت و جہالت کے ازالے کے سارے پروگرام ٹھنڈے بستے میں چلے گئے ہیں۔ کہنے کو تو ملک5-جی کی دوڑ میں شامل ہوگیا ہے۔ شہروں کی گلیوں میں وائی فائی کے ٹاور لگ گئے ہیں،مگر ملک کے باشندوں کی اکثریت دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہے۔گزشتہ سات سال میں کروڑوں نوجوان بے روزگار ہوگئے ہیں۔نوٹ بندی کے بعد سے بازار معمول پر نہیں آئے ہیں۔پرائیوٹ سیکٹر میں ملازمین کی تعداد میں کمی کیے جانے اورسرکاری اداروں کو نجی ہاتھوں میں دیے جانے کی وجہ سے بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔ کھانے پینے کی چیزوں سے لے کر تعلیم و صحت سے متعلق تمام اشیاء کے دام روز بڑھ رہے ہیں۔اگر یہی صورت حال رہی تو ایک بڑی آبادی رہزنی کا راستہ اپنائے گی یا خود کشی کرلے گی۔
ہوش ربا مہنگائی کے باوجود اہل ملک میں کوئی بے چینی نظر نہیں آرہی ہے۔کسی بیوپاری سنگٹھن کی طرف سے بازار بند کا نعرہ نہیں دیا جارہا ہے،کوئی ٹریڈ یونین ہڑتال کا اعلان نہیں کررہی ہے۔ سیاسی جماعتوںکو بی جے پی نے اپنی مکارانہ سیاست سے دفاعی پوزیشن میں کھڑا کردیا ہے۔اپوزیشن کو اپنے خیمے بچانے بھاری پڑ رہے ہیں، وہ غریبوں کی کٹیا کیسے بچائیں گے۔ نہیں معلوم ہمارے معاشرے سے انسانی محبت کی اعلیٰ قدریں کہاں گم ہوگئیں؟وہ جرأت مندی کہاں چلی گئی جو مہنگائی کے آسمان چھونے سے پہلے آسمان سر پر اٹھا لیتی تھی؟
ہم صرف پٹرول ڈیژل کا رونا رورہے ہیں،کیوں کہ اس کے دام کی خبر اخبارات میں آجاتی ہے،مگر سرسوں کے تیل کی خبر اخبار کا عنوان شاذ و نادر ہی بنتی ہے۔2014میں پٹرول کی قیمت 70روپے لیٹر تھی جو اب ایک سو روپے ہے لیکن سرسوں کا تیل اس وقت 65روپے لیٹر تھا جو آج 210 روپے لیٹر ہے۔سیمنٹ کی بوری 2014میں 195روپے کی ملتی تھی اب 410روپے میں دستیاب ہے۔اسٹیل کا ریٹ3600روپے کوئنٹل تھا، آج 6500روپے ہے۔ ریت کی پوری ٹرالی 1500روپے میں مل جاتی تھی، آج چار گنا قیمت دینا پڑتی ہے۔350روپے کا گیس سلینڈر آج 900روپے کے قریب ہوگیا ہے۔دالیں جو 40یا 50روپے کلو تھیں آج 150روپے سے 180تک پہنچ گئی ہیں۔ہر طرح کی سرکاری فیس میں اضافہ ہوگیا ہے، ڈرائیونگ لائسنس جو 2014میں صرف 250میں بن جاتا تھا، اس وقت 5500روپے سرکاری فیس دینا پڑتی ہے،زمینوں کی قیمتیں بھی بڑھیں اور رجسٹری کا خرچ بھی۔ 2014میں 27کروڑ خاندان خط افلاس سے نیچے تھے، آج 35کروڑ ہیں۔ 2014میں ملک ڈھائی لاکھ کروڑ کا مقروض تھا، آج 25لاکھ کروڑ کا مقروض ہے۔اس کے باوجود ہم سورہے ہیں،کہنے کو تو سماجی تنظیموںکی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے مگرعوام کی مشکلات پر ان کی آواز سنائی نہیں دے رہی ہے۔حکومتیں جو غربت کو دور کرنے کے نام پر اپنا انتخابی منشور جاری کرتی ہیں، وہ غریبوں کو ہی مٹانے کا منصوبہ بنانے لگتی ہیں۔مرکزی حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ کرپشن کو دور کرے گی،کالا دھن واپس لائے گی،ہر سال ایک کروڑ نوجوانوں کو نوکری دے گی،خوش حال ہندوستان بنائے گی،ہرت کرانتی لائے گی،آتم نربھرتا پیدا کرے گی،ملک کو وشو گرو بنائے گی،اس کے یہ وعدے محض جملے ثابت ہوئے۔

عدل و انصاف کا تقاضا ہے کہ ہمیں کورونا سے مرنے والے کم و بیش دس لاکھ افراد کے اہل خاندان کے مسائل بھی دیکھنا چاہیے جس میں تقریباً50لاکھ افراد بے سہارا ہوئے ہیں۔ آنے والی تیسری لہر کی تیاریوں کا جائزہ لینا چاہیے۔ غریبوں کے ٹھنڈے ہوتے چولہوں پر بھی نظر رکھنی چاہیے اور انھیںبھیک نہیں ان کا حق دینا چاہیے۔ ایک جمہوری فلاحی ریاست کی اصل ذمہ داری شہریوں کو زندگی کی بنیادی ضروریات فراہم کرنا ہے۔ مذہبی آزادی،ملک کی سالمیت، ایکتا کا تحفظ، افلاس کا ازالہ ا ور خوش حال ہندوستان کی تعمیر ہماری اولین ترجیح اور حکومت کے فرائض میں شامل ہے۔

ملک کی کئی ریاستوں میں آئندہ سال الیکشن ہونے والے ہیں۔ہر الیکشن کو کمیونل بنادیا جاتا ہے، میری رائے ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کو متحد ہوکر عوام کے سامنے حقیقی مسائل رکھنا چاہیے۔اس وقت مہنگائی عروج پر ہے،یہ صحیح وقت ہے اگر ہماری سیاسی اور سماجی جماعتیں مہنگائی کے خلاف آواز بلند کریں، احتجاج کریں، سڑکوں پر آئیں،جیل بھرو آندولن کی تحریک چلائیں،عدم تعاون اور ستیہ گرہ کا اعلان کریں۔کیا گاندھی جی کا نام استعمال کرنے والے گاندھی جی کا کردار فراموش کرچکے ہیں،کیا رام منوہر لوہیا کی تصویر لگانے والے ان کے سماجی آندولن کو بھول چکے ہیں۔کیا جمہوریت میں عوام کے مسائل اٹھانا،آئین کے دائرے میں رہ کر حکومت پر تنقید کرنا،اس کو متوجہ کرنا بھی جرم ہے؟زباں بندی کا یہ ماحول ہماری بے حسی کا منھ بولتا ثبوت ہے۔ہم میں سے ہر شخص اپنی دنیا میں مگن ہے۔ تعلقات اور رشتے بھی سوشل میڈیا پر نبھائے جارہے ہیں۔ہمیں اس دنیا سے باہر آنا ہوگا۔بھوک،افلاس اور مہنگائی کی مار جھیل رہی انسانیت کے درد کو سمجھنا ہوگا۔
ملک میںمہنگائی کا ناگ ڈس رہا ہے اور حکومتیں مذہبی فرقہ پرستی میں لگی ہیں۔کبھی آبادی کنٹرول کے نام پربل لایا جارہا ہے،کبھی تبدیلی مذہب کے خلاف قانون بنایا جارہاہے،سیاست داں تو سیاست داں رہے مجھے حیرت ہے کہ دہلی ہائی کورٹ کے فاضل جج صاحبان کو بھی آئین میں درج یکساں سول کوڈ کی یاد آرہی ہے اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحت ان کی مذہبی آزادی کی نہیں؟کیا ہندوستان کا سب سے بڑا مسئلہ یکساں سول کوڈ ہے، غربت،جہالت،فاقہ کشی،لنچنگ اور مہنگائی کوئی مسئلہ نہیں؟ معز ز عدالت نے یکساں سول کوڈ کا نیا شگوفہ چھوڑ کر حکومت کو ’نیا سیاسی ٹول فراہم ‘کردیا ہے جس کے ذریعے عوام کی توجہ آسانی سے بنیادی مسائل سے ہٹائی جاسکتی ہے۔ عدل و انصاف کا تقاضا ہے کہ ہمیں کورونا سے مرنے والے کم و بیش دس لاکھ افراد کے اہل خاندان کے مسائل بھی دیکھنا چاہیے جس میں تقریباً50لاکھ افراد بے سہارا ہوئے ہیں۔ آنے والی تیسری لہر کی تیاریوں کا جائزہ لینا چاہیے۔ غریبوں کے ٹھنڈے ہوتے چولہوں پر بھی نظر رکھنی چاہیے اور انھیںبھیک نہیں ان کا حق دینا چاہیے۔ ایک جمہوری فلاحی ریاست کی اصل ذمہ داری شہریوں کو زندگی کی بنیادی ضروریات فراہم کرنا ہے۔ مذہبی آزادی،ملک کی سالمیت، ایکتاکا تحفظ،افلاس کا ازالہ ا ور خوش حال ہندوستان کی تعمیر ہماری اولین ترجیح اور حکومت کے فرائض میں شامل ہے۔
[email protected]

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here