مغربی بنگال میں صنعت اور روزگار کی صورتحال

0

محمد فاروق اعظمی

کسی زمانے میں در مشرق کا خطاب رکھنے والا بنگال بڑی تیزی سے ’بیمار ہند ‘ کے خطاب کا بھی حقدار بن گیا ہے ۔بایاں محاذ کی سرمایہ دارانہ مخالف پالیسی اور ترنمول کانگریس کی موجود ہ نام نہاد صنعت دوست پالیسی کے نت نئے تجربات کی بھینٹ چڑھ جانے والے بنگال اور اس کے مختلف اضلاع میں واقع صنعتیں اب دھیرے دھیرے کرکے ختم ہونے کی دہلیز پر پہنچ گئی ہیں۔ 1948 سے 1965 کے درمیان کا عرصہ مغربی بنگال کا سنہرا دور تھا۔1950 تک ہندوستان کے کل صنعتی سرمایہ کا تقریباً 25 فیصد حصہ اسی ریاست میں تھا اور یہ ہندوستان کی انڈسٹریل سپر پاور اسٹیٹ سمجھاجاتا تھا۔ 1958 تک مغربی بنگال کی سالانہ شرح نموپورے ہندوستان میں سب سے زیادہ 3.31فی صد تھی۔ صنعتی سرمایہ میں بنگال کی حصہ داری 1960 میں گھٹ کر 13فی صد ہوئی، آج5فی صد کے آس پاس ہے ۔ کہاجاتا ہے کہ بنگال میں صنعتوں کی بربادی میں 34سال کے بایاں محاذ کی دور حکمرانی کا بڑا کردار ہے اور یہ بہت حد تک درست بھی ہے۔ 60کی دہائی میں یعنی 1951 سے 1959 تک ملک کی کل صنعتی پیداوار میں بنگال کا تناسب 24 فی صد اور قومی روزگار میں اس کی حصہ داری27فی صد تھی۔ 1965 میں یہ صنعتی پیدوار تھوڑا کم ہوکر 20تک آگئی ۔ 1977 کے بعد مغربی بنگال میں صنعتوں کی بربادی کا آغاز ہوا۔ یہ وہی وقت تھا جب مغربی بنگال میں سرخ آندھی چلنی شروع ہوئی تھی ۔1969میں نکسل تحریک نے زور پکڑا اوراس کے بعد ٹریڈ یونینوں کے ہنگاموں کا آغاز ہوا اور پھر صنعتوں میں سرمایہ کاری کم ہوتی گئی، کارخانوں میں تالا بندی، لاک آئوٹ کا دور شروع ہوگیا۔کل کارخانوں میں یونین کی وجہ سے لاک آئوٹ کی تعداد 49 سے بڑھ کر130تک جا پہنچی اورملک کی کل صنعتی پیدوار میں بنگال کی حصہ داری بھی کم ہوگئی ۔ ملک کی دوسری مشرقی ریاستوں کے مقابلے میں 1990 تک مغربی بنگال میں انفراسٹرکچر کی حالت بھی ٹھیک تھی لیکن اس کے بعد اس میں بھی کمی آنے لگی ترقیاتی کام نہ ہونے اور صنعتوں کیلئے منفی رجحان کی وجہ سے سرمایہ دوسری ریاستوں کو منتقل ہونے لگا، کل کارخانوںمیں چھنٹنی عام بات ہوگئی جس سے لاکھوں مزدور اپنا روزگار گنوا بیٹھے۔ اگلے 20 برسوں میں حالات اور زیادہ خراب ہوئے۔کل کارخانے بند ہوئے ‘ مزدوروں کے سماجی اور معاشرتی تحفظ میں ریاست ناکام ہونے لگی اور مزدوروں کی بھاری تعداد دوسری ریاستوں کو منتقل ہونے شروع ہوگئی ۔اس در میان ریاست پر قرض کا بھی بوجھ بڑھتا گیا۔

مغربی بنگال میں 40 ہزار ایکڑ اراضی بیکار پڑی ہوئی ہیں۔ ا ن زمینوں پر کسی زمانے میں مل اور کل کارخانے ہوا کرتے تھے لیکن آ ج یہ صنعتیں دوسری ریاستوں کو منتقل ہوگئی ہیں اور ان زمینوں پر بلڈر مافیا قبضہ کرکے عمارتیں کھڑی کر رہا ہے۔ حالانکہ کارخانوں کی زمین پر کسی بھی طرح کی دوسری تعمیرات کی قانونی اجازت نہیں ہوتی ہے لیکن حکومت کی سرپرستی میں یہ کام کھلے بندوں ہورہا ہے اور مزدور بڑی حسرتوں سے ان عمارتوں کو تک رہے ہیں۔

2011کے بعد سے اب تک ترنمول کانگریس کے دور حکومت میں بھی حالات جوں کے توں ہیں۔ ان 10برسوں میں بے روزگاری اور ریاست پر قرض کا بھاری بوجھ کم ہونے کی بجائے بڑی تیزی سے بڑھا ہے۔ روزگار کی شرح 4%فی صد رہ گئی ہے۔ فی کس آمدنی میں50فی صد کی کمی واقع ہوگئی ہے اور ان سب کی وجہ کل کارخانوں بالخصوص مغربی بنگال کی جوٹ ملوں کا بند ہونا ہے۔ مرکزی وزارت صنعت کے مطابق ملک بھر میں واقع 94 جوٹ ملوں میں سے 70 بڑی جوٹ ملیں صرف مغربی بنگال میں ہیں جن میںڈھائی لاکھ رجسٹرڈ مزدور اور اتنے ہی یومیہ اور غیر رجسٹرڈ مزدور کام کرتے ہیں ۔ اس کے علاوہ چھوٹی چھوٹی سیکڑوں جوٹ اور ٹیکسٹائل مل‘ پاور لوم کارخانے اور دیگر صنعتیں ہیں جن سے اندازاً25لاکھ افراد براہ راست وابستہ ہیں۔ان ملوں نے زیادہ بہار اور مشرقی اترپردیش کے لاکھوں مزدوروں کو روزگار فراہم کیا۔ لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ بنگال کی یہ صنعت قصہ پارینہ بن گئی ہے زیادہ تر جوٹ ملیں اور دیگر کل کارخانے بند ہوگئے ہیں۔ ان کارخانوں پر مزدوروں کے پی ایف اور گریچویٹی کے اربوں روپے بقایا ہیں۔ سبکدوش ہوجانے والے مزدوروں کا بھی کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ صرف گزشتہ دو مہینے کے دوران مغربی بنگال کے16بڑے کارخانوں میں تالابندی ہوگئی ہے جس سے 75ہزار افراد بے روزگار ہوگئے ہیں۔باقی جوٹ ملوں اور دوسرے کارخانوں کی حالت بھی ٹھیک نہیں ہے ۔
مغربی بنگال میں40ہزارایکڑ اراضی بیکار پڑی ہوئی ہیں۔ ان زمینوں پر کسی زمانے میں مل اور کل کارخانے ہوا کرتے تھے لیکن آ ج یہ صنعتیں دوسری ریاستوں کو منتقل ہوگئی ہیں اور ان زمینوں پر بلڈر مافیا قبضہ کرکے عمارتیں کھڑی کررہاہے ۔حالانکہ کارخانوں کی زمین پر کسی بھی طرح کی دوسری تعمیرات کی قانونی اجازت نہیں ہوتی ہے لیکن حکومت کی سرپرستی میں یہ کام کھلے بندوں ہورہاہے اور مزدوربڑی حسرتوں سے ان عمارتوں کو تک رہے ہیں ۔
صنعت کار اور سرمایہ دار نہ ہونے کی وجہ سے محصولات کی مد میں ریاست کی آمدنی میں بھی زبردست کمی آئی ہے جس کی وجہ سے حکومت کو اپنے ملازمین کی اجرتوں کیلئے بھی قرض لینا پڑ رہا ہے۔ 2011میں جب بایاں محاذ کی حکومت کا خاتمہ ہوا اور ترنمول کانگریس نے اقتدار سنبھالا تو ریاست پر2لاکھ20ہزار کروڑ روپے کاقرض تھا جو 10برسوں میں بڑھ کر آج5لاکھ کروڑ روپے ہوچکا ہے ۔ آج مغربی بنگال میں ہر بچہ50ہزار روپے کے قرض کے ساتھ پیدا ہو رہاہے۔ ممتا بنرجی کی نت نئی اسکیمیں بھی اسی قرض کی رقم سے ہی چلائی جارہی ہیں ۔ 2011 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے اب تک وزیرا علیٰ ممتابنرجی نے صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں کے کئی اجلاس منعقد کئے ۔ بنگال گلوبل بزنس سمٹ کیاگیا۔ وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ اس سمٹ کے توسط سے مغربی بنگال میں 12.32 کھرب روپے کی سرمایہ کاری ہوگی لیکن اب تک اس سمت میں کوئی سرگرمی نظرنہیں آرہی ہے ۔متوقع کامیابی کا دور دور تک پتہ نہیں ہے ۔ بند کارخانے تو کھلے نہیں اور جو کارخانے چل رہے تھے وہ بھی لڑکھڑانے اور بند ہونے لگے۔ خاص کر مغربی بنگال کی سنہری جوٹ صنعت ختم ہونے کی دہلیز پر پہنچ گئی ہے ۔ اس صورتحال میں یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ صنعتوں کے لحاظ سے ترنمول کی یہ تیسری حکومت بھی بایاں محاذ کا ہی تسلسل ہے ۔ ضرورت ہے کہ مغربی بنگال کی ممتاحکومت اپنے منشور کے مطابق صنعتوں کی بحالی اور بند کل کارخانوں کو کھولنے کی سمت کارروائی کرے ورنہ وہ دن دور نہیں جب صنعتی نقشہ پر مغربی بنگال کا نام ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گا۔
[email protected]

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
2
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here