ہندوستان کی بڑی حصولیابی

0

بین الاقوامی پلیٹ فارم پر ہندوستان کو ایک ہی دن میں 2بڑی ذمہ داریاں ملیں۔ پہلے اس نے جہاں ایک سال کے لیے اقتصادی لحاظ سے دنیا کے طاقت ورملکوں کے گروپ جی- 20کی صدارت سنبھالی، وہیں اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ماہانہ صدارت بھی ملی۔ جی 20-کی صدارت تو پہلی بار ملی ہے، لیکن گزشتہ 2برسوں میں یہ دوسرا موقع ہے جب ہندوستان کو سلامتی کونسل کی ماہانہ صدارت ملی ہے۔اس سے پہلے اگست 2021 میں ماہانہ صدارت ملی تھی۔ہندوستان 15 رکنی سلامتی کونسل کا غیرمستقل رکن ہے اور اس کی2سالہ رکنیت کی مدت اسی سال 31دسمبرکو ختم ہوجائے گی۔ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے ضوابط کے مطابق بین الاقوامی ادارے کے 15 ممبران کو باری باری سے صدارت ملتی ہے۔ ایک ساتھ 2بڑے پلیٹ فارم کی ذمہ داریاں سنبھالنا بہت بڑی حصولیابی ہے۔سلامتی کونسل میں نئی ذمہ داری کے بعدجہاں وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی نے کہا کہ ہندوستان کی اہم ترجیحات دہشت گردی کامقابلہ کرنا اورکثیرالجہتی کو فروغ دینا ہے،وہیں اقوام متحدہ میں ہندوستان کی مستقل مندوب روچیرا کمبوج نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ میں اعتماد کے ساتھ کہہ سکتی ہوں کہ کونسل کی ہماری رکنیت کے 2سالوں میں ہم اپنی ذمہ داریوں کو اچھی طرح سے نبھا رہے ہیں اور ادارے کے اندر مختلف مسائل کو اٹھانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کونسل حتی الامکان مختلف مسائل پر ایک سرمیں بات کرسکے۔ ہم اسی جذبے کے تحت اپنی دسمبر کی صدارت میں کام کریں گے۔
ہندوستان کو یہ دونوں بڑی ذمہ داریاں ایسے وقت ملی ہیں،جب ایک طرف روس- یوکرین کی جنگ جاری ہے،جس کی وجہ سے پوری دنیا میں سپلائی چین متاثر ہورہی ہے اوراس کا خمیازہ ہر ملک کو بھگتنا پڑرہا ہے۔ہر ملک کی معیشت 2قدم آگے بڑھتی ہے اور امید کی کرن جیسے ہی نظر آتی ہے پھر مایوسی چھانے لگتی ہے۔ اقتصادی کساد بازاری کا اندیشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے۔ظاہر سی بات ہے کہ ہندوستان دونوں پلیٹ فارموں کا استعمال کرے گا اوروہ ایک الگ ہی رول میں نظر آئے گا۔کیونکہ جی-20 عالمی اقتصادی تعاون کی ایک بااثر تنظیم ہے جو عالمی مجموعی گھریلو پیداوار(جی ڈی پی) کے تقریباً 85 فیصد، عالمی تجارت کے 75 فیصد سے زیادہ اور دنیا کی تقریباً2 تہائی آبادی کی نمائندگی کرتی ہے تو سلامتی کونسل پوری دنیا کی نمائندہ تنظیم اقوام متحدہ کی فیصلہ ساز باڈی ہے۔ یہ اوربات ہے کہ اس کے فیصلے عموماً اس کے 5مستقل ویٹوپاوروالے ارکان امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس اورچین کی مرضی کے تابع ہوتے ہیں۔اس لیے زیادہ تبدیلی کی گنجائش نہیں ہوتی اورنہ ہی ادارہ میں اصلاحات کے عمل کو آگے بڑھایا جاسکتا ہے، کیونکہ مستقل ارکان اس کیلئے تیار نہیں ہوتے،انفرادی طور پر ادارہ سے باہرسبھی اصلاحات خصوصاً ہندوستان اورکچھ دیگر ممالک کو مستقل رکن بنانے کی حمایت کرتے ہیں، لیکن ادارہ کے اندر اس کی پرزور وکالت نہیں کرتے ہیں۔یہ بات روچیرا کمبوج نے بھی کہی ہے کہ اقوام متحدہ میں جامع اصلاحات کے مطالبہ کے 22سال بعد بھی ہم ایک انچ بھی اس سمت میں نہیں بڑھے، یہاں تک کہ بات چیت کا بھی فقدان ہے۔ پھر بھی امید کی جاسکتی ہے کہ صدر ہونے کی حیثیت سے ہندوستان متعدد ایشوز پر وہاں بحث کراسکتا ہے، اپنے ایجنڈوں کو اٹھاسکتا ہے اوربعض فیصلوں میں اہم رول بھی اداکرسکتا ہے۔چنانچہ ہندوستان کی سفیر کا کہنا ہے کہ 14 اور 15 دسمبر کو وزیر خارجہ ایس جے شنکر اصلاح شدہ کثیرالجہتی پروگرام پر کونسل میں دستخطی پروگراموں کی صدارت کریں گے اور انسداد دہشت گردی کے عالمی نقطہ نظر پرآگے بڑھنے کے لیے ایک نیا رخ اختیار کریں گے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جتنی بڑی ذمہ داری ملتی ہے، اتنی ہی جوابدہی بھی ہوتی ہے۔ بڑی حصولیابی ہے اوردنیا کے بڑے پلیٹ فارم سے بہت کچھ کرنے کا موقع بھی ملے گااور کریں گے بھی جیسا کہ وزیراعظم نریندرمودی نے جی20-کی صدارت سنبھالنے اور کمبوج نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت سنبھالنے کے بعد اشاہ دیا۔یہ تو طے ہے کہ اب دنیا میں ہندوستان کی آواز پہلے سے زیادہ سنی جائے گی اوربین الاقوامی تنازعات اورمسائل کے حل میں وطن عزیز اہم رول اداکرے گا۔
[email protected]