ڈاکٹر وید پرتاپ ویدک: G-20: ہندوستان کیوں نہ بنے وشوگرو؟

0
ڈاکٹر وید پرتاپ ویدک: G-20: ہندوستان کیوں نہ بنے وشوگرو؟

ڈاکٹر وید پرتاپ ویدک

یکم دسمبر سے ہندوستان جی-20 (بیس ممالک کے گروپ) کی سربراہی کررہا ہے۔ سلامتی کونسل کا بھی وہ اس ماہ کے لیے سربراہ ہے۔ ہندوستانی خارجہ پالیسی کے لیے یہ بہت اعزاز کی بات ہے لیکن یہ بڑا چیلنج بھی ہے۔ سلامتی کونسل گزشتہ کئی ماہ سے یوکرین کے معاملہ پر منقسم ہے۔ اس کی میٹنگوں میں سرد جنگ کا سا گرماگرم ماحول نظر آتا ہے۔ تقریباً سبھی تجاویز آج کل ’ویٹو‘ کی شکار ہوجاتی ہیں، بالخصوص یوکرین کے سوال پر۔ یوکرین کا سوال اس بار جی-20کے بالی میں ہوئے اجلاس میں غالب رہا۔ ایک طرف امریکہ اور یوروپی ممالک تھے اور دوسری طرف روس اور چین۔ ان کے لیڈروں نے ایک دوسرے پر حملہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی لیکن پھر بھی ایک متفقہ اعلامیہ بالی کانفرنس کے بعد جاری ہوسکا۔ اس کامیابی کا سہرا واضح طور پر ہندوستان کو نہیں ملا لیکن جی-20نے ہندوستان کا راستہ ہی اپنایا۔ ہندوستان غیرجانبدار رہا۔ نہ تو وہ روس کے ساتھ گیا اور نہ ہی امریکہ کے! اس نے روس سے اضافی تیل خریدنے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی، جب کہ یوروپی ممالک نے ہر روسی ایکسپورٹ کا بائیکاٹ کر رکھا ہے لیکن نریندر مودی نے روسی صدر ولادیمیر پتن سے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ یہ جنگ کا وقت نہیں ہے۔ ہندوستان کے اس رویہ سے امریکہ خوش ہے۔ وہ ہندوستان کے ساتھ مل کر جنوب مشرقی ایشیا میں چار فریقی گروپ چلا رہا ہے اور مغربی ایشیا میں بھی اس نے اپنے نئے چار فریقی گروپ میں ہندوستان کو شامل کیا ہوا ہے۔G-20کی سربراہی کرتے ہوئے ہندوستان کو ان پانچوں سپرپاورس کو تو پٹائے/راضی رکھنا ہی ہوگا، اس کے ساتھ ساتھ افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکی ممالک کی اقتصادی ترقی کی بھی راہ ہموار کرنی ہوگی۔G-20کی صدارت کی ذمہ داری سنبھالتے ہی وزیراعظم نریندر مودی کے نام سے اخبارات میں جو مضمون شائع ہوا ہے، اس میں ہمارے نوکرشاہوں نےG-20کے پرانے پٹے ایشوز کو ہی دہرایا ہے۔ ان میں بھی کچھ نہ کچھ میں کامیابی ضرور حاصل ہوسکتی ہے لیکن یہ کام تو کسی بھی قوم کی سربراہی میں ہو سکتے ہیں۔ ہندوستان کو یہ جو موقع ملا ہے، اس کا استعمال اگر اصل اور ہندوستانی نقطۂ نظر سے کیا جاسکے تو 21ویں صدی کا نقشہ ہی بدل سکتا ہے۔ ’واسودھیو کٹم بکم‘کا محاورہ تو بہت اچھا ہے، لیکن ہم مغربی ممالک کی تقلید کرنے والے بن کر اس طاقتور تنظیم کے ذریعہ کون سا چمتکار کرسکتے ہیں؟ کیا ہم نے ہندوستان میں کچھ ایسا کرکے دکھایا ہے جو سرمایہ داری اور کمیونزم کا متبادل بن سکے؟ ہندوستان اور دنیا میں پھیلنے والے معاشی عدم مساوات، مذہبی منافرت، جوہری عدم تحفظ، بے حد صارفیت، ماحولیاتی نقصان وغیرہ ایشوز پر ہمارے پاس کیا کوئی ٹھوس متبادل ہیں؟ اگر ایسے متبادل ہم دے سکیں تو ساری دنیا کے وشو گرو تو آپ خود بخود ہی بن جائیں گے۔
(مضمون نگار ہندوستان کی خارجہ پالیسی کونسل کے چیئرمین ہیں)
[email protected]