ہندوستان غریب اور ترقی پذیر ممالک کی آواز اٹھاتا رہے گا: مودی

0

نئی دہلی، (یو این آئی) وزیر اعظم نریندر مودی نے ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک کے فورم وائس آف گلوبل ساؤتھ سمٹ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جمعرات کو کہا کہ ہندوستان جنوبی ممالک کی آواز عالمی پلیٹ فارمز پر اٹھا رہے گا۔
جی- 20 ممالک کے گروپ کے صدر کے طور پر ہندوستان کی جانب سے منعقد اس دو روزہ آن لائن کانفرنس میں 120 ممالک کو مدعو کیا گیا ہے۔ اس دوران نصف درجن سے زائد وزارتی سطح کے اجلاس ہوں گے جس میں تعلیم، صحت سے لے کر عالمی اداروں میں اصلاحات تک کے ایجنڈے پر بات کی جائے گی۔ اس کا مقصد ترقی پذیر ممالک کے تحفظات اور ترجیحات کو جی20 کے ایجنڈے میں شامل کرنا ہے۔
وزیر اعظم مودی نے افتتاحی اجلاس میں کہا کہ ہندوستان کا مقصد جنوب کی آواز کو بلند کرنا ہے اور اس کی آواز ہندوستان کی آواز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے ہمیشہ ہی دنیا کے جنوب کے ممالک کے اپنے بھائیوں کے ساتھ اپنے ترقیاتی تجربات کوشیئر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ترقیاتی شراکت داریوں میں دنیا کے ہر خطے کے ممالک اور مختلف موضوعات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے اس سال جی20 گروپ کی صدارت سنبھالی ہے اور ہندوستان کا مقصد جنوب کی آواز کو بلند کرنا ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ آج دنیا کو درپیش مسائل کے لئے دنیا کے جنوبی ممالک (ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک)ذمہ دار نہیں ہیں، لیکن ان کے سب سے زیادہ بدترین نتائج انہیں بھگتنا پڑ رہے ہیں۔ اس سلسلے میں، انہوں نے یورپ میں کوو ڈ 19 کی وبا، آب و ہوا کی تبدیلی، دہشت گردی اور جنگوں جیسے واقعات کے اثرات کا ذکر کیا۔ مسٹر مودی نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک نے نوآبادیاتی نظام کے خلاف جدوجہد میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا اور آج پھر سے ایک نئے عالمی نظام کی تعمیر کے لیے ایک دوسرے کا ساتھ دے رہے ہیں جو ہمارے شہریوں کی فلاح و بہبود کو یقینی بنائے۔
جنوب کے ممالک کو ہندوستان کی حمایت کا یقین دلاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ کی ترجیحات ہندوستان کی ترجیحات ہیں۔
اپنے مختصر خطاب میں مسٹر مودی نے نئے نظام کے تحت ترقی پذیر ممالک کے مسائل کے آسان حل تلاش کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ حل ایسا ہونا چاہیے کہ جس میں ضرورت کے حساب سے توسیع کی جاسکے۔
انہوں نے دنیا کے مسائل کے حل کے لیے ممالک کی صلاحیت کے مطابق مشترکہ ذمہ داری کے تعین کے اصول کو اپنانے پر زور دیا۔ وزیراعظم نے عالمی اداروں میں اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔