انڈیا سنگین بجلی بحران سے دوچار،جانیں یہ نوبت کیسے آئی ؟

0

نئی دہلی (بی بی سی):انڈیا کو اپنی تاریخ میں پہلی بار بجلی کے سنگین بحران کا سامنا ہے۔ ایک ارب سے زیادہ آبادی والے، دنیا کے دوسرے سب سے بڑے ملک (آبادی کے اعتبار سے) انڈیا میں بجلی پیدا کرنے کے لیے 70 فیصد ذریعہ کوئلہ ہے، لیکن وہاں کوئلے سے چلنے والے 135 بجلی گھروں کو اب شدید مشکالات کا سامنا ہے جہاں نصف سے زیادہ بجلی گھروں میں کوئلے کے ذخائر انتہائی کم رہ گئے ہیں۔اور یہ صورتحال انڈیا کے دوبارہ معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہونے کی راہ میں رکاوٹ پیدا کر رہی ہے۔
انڈیا میں کووڈ کی دوسری لہر ملک کے لیے انتہائی مہلک ثابت ہوئی۔ لیکن اس کے گزرنے کے بعد آہستہ آہستہ ملک کی معیشتنے دوبارہ قدم جمانے شروع کیے ہیں اور اس کے ساتھ بجلی کی طلب میں بھی اضافہ ہوتا گیا ہے۔سنہ 2019 کے مقابلےمیں صرف گذشتہ دو ماہ میں بجلی کے استعمال میں 17 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اسی عرصے میں عالمی منڈی میں کوئلے کی قیمت میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ انڈیا کی  رآمدات دو سال میں اپنی کم ترین سطح تک گر گئی ہیں۔ دنیا میں کوئلے کے سب سے زیادہ ذخائر رکھنے والے ممالک میں انڈیا کا چوتھا نمبر ہے، لیکن اس کے باوجود وہ دنیا بھر میں کوئلہ درآمد کرنے والا دوسرا سب سے بڑا ملک بھی ہے۔لیکن وہ بجلی گھر جو درآمد شدہ کوئلے پر انحصار کرتے تھے، اب وہ انڈین کوئلے پر انحصار کر رہے ہیں اور یہ مقامی طور پر فراہم کیے جانے والے کوئلے پر مزید دباؤ میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مقامی ضروریات کے لیے کوئلے کی درآمد کرنا مسئلے کا مستقل حل نہیں ہے۔ انڈیا اکنامسٹ اور نومورا میں نائب صدر ڈاکٹر اورودیپ نندی کا کہنا ہے کہ’ہم نے ماضی میں بھی ایسی قلت دیکھی ہے لیکن اس دفعہ پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ کوئلہ اس قدر مہنگا ہوا ہے۔‘
اگر میں مہنگے داموں میں کوئلہ درآمد کر رہا ہوں، تو ظاہر ہے کہ میں قیمتوں میں بھی اضافہ کروں گا؟ کوئی بھی کاروبار اپنے اخراجات اپنے خریدار پر منتقل کرتا ہے اور یہ مہنگائی کا باعث بنتا ہے۔اور اگر یہ بحران جاری رہا تو بجلی کی قیمت میں اضافہ صارفین تک پہنچے گا۔ بازار میں مہنگائی تو ویسے ہی بڑھتی جا رہی اور صارفین کے لیے تیل سے لے کر اشیا خورد و نوش کی ہر چیز مہنگی ہو گئی ہے۔انڈیا ریٹنگ ری سرچ کے ڈائریکٹر ویوک جین نے اس صورتحال کو بہت’نازک‘ قرار دیا ہے۔ انڈیا کے وزیر توانائی آر کے سنگھ نے حال ہی میں انڈین ایکسپریس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ حالات بہت اچھے
نہیں ہیں اور شہریوں کو اگلے پانچ سے چھ ماہ کے لیے تیاری پکڑ لینی چاہیے۔انڈیا کوئلے کے بغیر کیوں نہیں رہ سکتا؟ دوسری جانب، ایک اور اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے بھی بی بی سی کو نام نہ بتانے کی شرط پر یہ اعتراف کیا کہ آنے والے مہینوں میں صورتحال کافی پریشان کن ہو سکتی ہے۔ ملک کے 80 فیصد کوئلے کی فراہمی کی ذمہ دار، انڈیا کی سرکاری کمپنی کول انڈیا لمیٹڈ کی سابق سربراہ زوہرا چیٹرجی نے
کہا کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ایشیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت کے پہیے کا اپنی ڈگر پر واپس آنا مشکل ہو سکتا ہے۔
’ہر چیز بجلی سے چلتی ہے، تو ہر شعبہ چاہے وہ تعمیراتی شعبہ ہو، یا کوئی اور، ہر چیز متاثر ہوگی اگر کوئلہ کم پڑ گیا۔‘ انھوں نے موجودہ صورتحال کے بارے میں کہا کہ ‘انڈیا کو جاگ جانا چاہیے’ اور مزید کہا کہ اب وہ وقت آ گیا ہے کہ انڈیا کوئلے پر انحصار کرنے کے بجائے دیگر ذرائع سے بجلی حاصل کرنے کی حکمت عملی بنائے۔ اب سوال یہ ہے کہ انڈیا یہ توازن کیسے حاصل کرے جہاں وہ نہ صرف اپنی تقریباً ڈیڑھ ارب کی آبادی کو بجلی بھی فراہم کر سکے اور ساتھ ساتھ کوئلے کے استعمال کو بھی کم کر پائے۔ڈاکٹر نندی کہتے ہیں کہ مسئلے کا حجم اتنا بڑا ہے کہ قلیل مدتی حل سے کچھ نہیں ہوگا۔ ’یہ مسئلہ اس قدر بڑا ہے۔ ہماری بجلی کا اکثریتی حصہ کوئلے سے پیدا ہوتا ہے لیکن ہم ابھی اس مرحلے پر نہیں پہنچے
ہیں جہاں ہم تھرمل توانائی کو چھوڑ سکیں۔‘
ماہرین کہتے ہیں کہ طویل مدتی حل یہی ہے کہ کوئلہ اور توانائی حاصل کرنے کے دیگر صاف ذرائع پیدا کیے جائیں۔ ویوک جین نے کہا کہ نہ تو یہ اچھی حکمت عملی ہے، اور نہ ہی یہ ممکن ہے کہ آپ مکمل طور پر سو فیصد قابل تجدید توانائی کے ذرائع سے بجلی پیدا کریں۔ صاف توانائی کے ذرائع پر منتقل ہونا صرف اس وقت ممکن ہے جب آپ کے پاس کوئی متبادل ہو۔’ زوہرا چیٹرجی سمیت دیگر ماہرین کہتے ہیں کہ منصوبہ بندی میں بہتری لانے سے موجودہ بحران کی کیفیت سے بچا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کول انڈیا لمیٹڈ اور دیگر سٹیک ہولڈرز کے درمیان مزید تعاون ہونا چاہیے۔یہ تو واضح نہیں ہے کہ موجود
صورتحال کب تک جاری رہے گی لیکن ڈاکٹر نندی حالات میں بہتری کے بارے میں پر امید ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ مون سون کا موسم ختم ہونے والا ہے اور سردیوں میں بجلی کی طلب میں کمی آ جاتی ہے۔
ویویک جین کہتے ہیں کہ یہ ایک عالمی رجحان ہے۔ یہ صرف انڈیا تک محدود نہیں ہے۔ اگر آج گیس کی قیمتوں میں کمی آتی ہے تو لوگ واپس گیس پر چلے جائیں گے۔ یہ ہر دم تبدیل ہوتی صورتحال ہے۔لیکن اس وقت انڈیا کی حکومت اپنی سرکاری کمپنیوں کے ساتھ کام کر رہی ہے تاکہ پروڈکشن میں اضافہ کیا جا سکے اور کوئلے کی کان کنی میں اضافہ لایا جائے تاکہ رسد اور طلب میں فرق کو کم کیا جا سکے۔لیکن اکثر ماہرین اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ موجودہ بحران سے نمٹنے کے لیے انڈیا کو قلیل مدتی حل ڈھونڈنے ہوں گے لیکن ساتھ ساتھ انھیں طویل مدتی حکمت عملی پر بھی کام کرنا ہوگا اور ایسے متبادل ذرائع ڈھونڈنے ہوں گے تاکہ مقامی طور پر بڑھتی ہوئی بجلی کی طلب کو پورا کیا جا سکے۔

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
1
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here