بھارت اپنی آبادی سے فائدہ اٹھائے!

0

مالک کائنات نے ایک منہ اور دوہاتھ یوں ہی نہیں دیے ہیں۔ اس کی بظاہر یہی وجہ سمجھ میں آتی ہے کہ اسے ضرورت سے دگنی حصول کی طاقت دی گئی ہے۔ اسی لیے یہ سمجھا جاتا ہے کہ اگر کوئی ملک آبادی کا بہتر فائدہ اٹھاتا ہے تووہ اس کے لیے باعث رحمت ثابت ہو سکتی ہے۔ اس سلسلے میں چین کی مثال پیش کرنا ضروری نہیں ہے، ہمارا ملک بھی اپنی مثال آپ ہے۔ یہ اس ملک کی 140 کروڑ کی آبادی کا بھی کمال ہے کہ اس نے 6.8کروڑ آبادی والے برطانیہ کو اقتصادی محاذ پر پیچھے چھوڑ دیا ہے جبکہ بھارت کی فی کس آمدنی 2,500 ڈالر ہی ہے اور اس سے کہیں زیادہ فی کس آمدنی برطانیہ کی ہے۔ اس کی فی کس آمدنی 47,000 ڈالر ہے، اس لیے یہ کہنے میں تامل نہیں ہونا چاہیے کہ ملک کے زیادہ تر لوگ اگر میک اِن انڈیاپر سنجیدگی سے توجہ دینے لگے اور لوکل فور ووکل کی اہمیت سمجھ گئے توپھر نہ صرف وہ روزگار دینے کا وسیلہ بنیں گے بلکہ ملک کی ترقی و خوشحالی میں بھی اہم کردار بھی ادا کریں گے، البتہ اس کے لیے حکومتوں کو تین کام کرنے ہوں گے۔ پہلا کام یہ کہ نئی صنعتوں کے لیے ماحول اور سازگار بنایا جائے، دوسرا یہ کہ مہنگائی کو کنٹرول میں رکھا جائے اورتیسرا یہ کہ مذموم سیاست سے ملک کے حالات کو بگڑنے سے بچایا جائے تاکہ کہیں بھی صنعتیں لگاتے وقت یا کاروبار کے سلسلے میں کہیں آتے جاتے وقت سوچنا نہ پڑے۔ ان تینوں کاموں میں سے پہلا کام بڑی حدتک آسان ہے، دوسرا اور تیسرا کام آسان نہیں ہے، کیونکہ حکومت کو اپنی آمدنی کا بھی خیال کرنا ہے۔ اس کے لیے مجبوراً وہ کئی چیزوں کی قیمت زیادہ کم نہیں کر سکتی۔ مثلاً، پیٹرول، ڈیزل اور گیس کی قیمتوں کوہی لے لیں۔ حکومت ان کی قیمتوں کو ایک حدتک ہی کم کر سکتی ہے جبکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کے بڑھنے سے بہت سی چیزوں کی قیمتوں میں اضافے کی راہ خود بخود ہموار ہو جاتی ہے۔ اس سے مہنگائی بڑھتی ہے اور ایسے وقت میں مہنگائی کا بڑھنا ٹھیک نہیں ہے جبکہ کورونا نے اقتصادی طور پر بہتوں کو توڑ دیا ہے، بے روزگار کیا ہے، کیونکہ مہنگائی اگر بڑھے گی تو قوت خرید گھٹے گی، اس کا اثر فطری طور پر پروڈکشن پر پڑے گا، کیونکہ کوئی بھی صنعت کار گھاٹے کے لیے تو پروڈکشن نہیں بڑھائے گا۔ پروڈکشن گھٹے گا تو اس کا اثر ٹیکس کلیکشن پر پڑے گا۔ اور ٹیکس کلیکشن پر اثر ایسے وقت میں پڑنا ٹھیک نہیں جب ایکسپورٹ کے مقابلے امپورٹ بڑھا ہوا ہے، گزشتہ کئی مہینوں میں روپے کی قدر میں کمی آئی ہے، زرمبادلہ مسلسل گھٹتا جا رہا ہے۔ رواں سال کے اپریل سے اب تک اس میں آنے والی کمی تشویشناک ہے۔ فی الوقت دنیا کے جو حالات ہیں، اس میں ملک اقتصادی طور پر جتنا مستحکم رہے اتنا ہی اچھا ہے۔ اس کے لیے زرمبادلہ کا ذخیرہ بھی خاصا رہے تو بہتر ہے، کیونکہ امپورٹ کے بڑھنے کی صورت میں اس کابہت زیادہ اثر ملک کی معیشت پر نہیں پڑتا۔ ویسے اچھی بات یہ ہے کہ زرمبادلہ میں مسلسل کمی کے باوجود بھارت آج بھی زرمبادلہ کے لحاظ سے ٹاپ 5 ملکوں میں شامل ہے۔ اس کے زرمبادلہ سے ان ملکوں کا زرمبادلہ کم ہے جو پیٹرول اور ڈیزل کی دولت سے مالامال ہیں اورانہیں اپنی اقتصادیات کو مستحکم بنائے رکھنے کے لیے زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی ہے، کیونکہ توانائی کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے آج بھی کئی ممالک بڑی حد تک پیٹرول اور ڈیزل پر ہی انحصار کرتے ہیں۔n

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS