دہلی میں آلودگی کے خاتمے کیلئے تدابیر ناکافی

0

دہلی ہندوستان کا دل ہے ، دل کی خرابی ، جسم اور زندگی کے ہر گوشے کو متاثر کرتی ہے، اسی طرح دہلی میں ہونے والے واقعات ، حادثات کی باز گشت پورے ہندوستان اور بعض اوقات پوری دنیا میں محسوس کی جاتی ہے۔ ہندوستان ایک جدید ملک ہے ، ہندوستان کی راجدھانی کو دوسری عالمی شہروں اور راجدھانیوں کی طرح تمام مکروہات اور منفی چیزوں سے پاک ہونا چاہیے۔ مگر بدقسمتی سے ہندوستان کی راجدھانی سیاسی چکرویوں میں پھنس کر عام آدمی کے لیے اجیرن ہوگئی ہے۔ ہر سردی راجدھانی کے لیے ایک مصیبت بن کر آتی ہے ، کہرے اور آلودگی کی دبیز چادر راجدھانی وگردونواح کے آسمان پر چھائی رہتی ہے، جس سے سانس لینے میں پریشانی ہوتی ہے اور کمزور قوت مفادعت کے لوگوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ گھر سے نہ نکلیں اور گھروں میں رہ کر بسر اوقات کریں۔
سپریم کورٹ نے آلو دگی کے مسئلہ پر سماعت کرتے ہوئے راجدھانی دہلی کی سرکار کو اور آڈ اور ایون کے فارمولے کو نافذ کرنے کی صلاح میں شکوک وشبہات کا اظہار کیاتھا۔ دراصل دہلی کی سرکار سیاسی مخالفت اور دیگر حلقو ں کی مخالفت اور دبائو میں آڈ جبت ایون فارمولہ نافذ کرکے اپنی ذمہ داریوں سے پلہ جھاڑنے کی کوشش کرتی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دہلی جیسے جدید، تیز رفتار اور اہمیت کے حامل کے شہر میں آڈ اورایون نافذ کرنے کا مقصد روز مرہ کی زندگی کو متاثر کرنا ہے۔ سرکار عوام پر ذمہ داری تھوپ کر اپنا پلہ جھاڑ لیتی ہے ،جبکہ آلودگی کا مسئلہ اتنا آسان نہیں جتنا کہ تصور کیا جاتا ہے اور اتنا بھی مشکل نہیں اس جس کو حل نہیں کیا جاسکے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام ادارے چاہے وہ دہلی سرکارکے ہوں یا مرکزی سرکار کے ۔ ان سب کو آپس میں تال میل کرکے اقدام کرنا چاہیے۔
دہلی پولیس، دہلی ٹریفک پولیس اور قانون نافذ کرنے والے تمام اداروںکی ذمہ داریاں مرکز کے پاس ہے اور گورنر جو مرکز کے نمائندے ہیں۔ ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ دہلی اور مرکز کے تمام اداروں کے تال میل کے ساتھ اس میدان میں سرگرم رول ادا کرکے دہلی کا ماحول بہتر بنائیں ، جبکہ یہ کام محکمہ وزارت ماحولیات دہلی سرکار کے تحت آتے ہیں، دہلی میں آلودگی کی اہم وجہ یہاں کی گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں اور کثافت ہے، ظاہر ہے کہ ٹریفک کے نظام کو بہتر بنائے بغیر آلودگی کے مسئلہ کو حل نہیں کیا جاسکتا۔ دہلی کے رہنے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ ٹریفک پولیس کا طرز عمل کیا ہوتاہے۔ زیادہ تر بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں ٹریفک پولیس یا دہلی پولیس کتنی سرگرم رہتی ہے۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔ اکثر ٹریفک پولیس اہلکار آڑ میں کھڑے ہو کر درختوں کے پیچھے چھپ کر ایسے گاڑی والوں کا انتظار کرتے ہیں جو ٹریفک کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ایک خطاکار کے پیچھے کئی کئی پولیس والے دوڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اکثر پولیس کانسٹبل ریڈ لائٹ کراس کرنے والے ایسے مقامات پر کھڑے ہوتے ہیں جہاں ان کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر یہی پولیس اہلکار بھیڑ بھاڑ والے مراکز پر ذمہ داری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں تو آلودگی کے مسئلہ کو کافی حد تک کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔
پچھلی مرتبہ دہلی سرکار نے تعمیراتی کاموں پر پابندی عائد کرکے آلودگی کو کم کرنے کی کوشش کی تھی، مگر یہ فارمولہ بھی اتنا موثر نہیں ہواتھا کہ اتنے بڑے مسئلہ کو حل کرسکے۔ دہلی میں دہلی شہر کے باہر سے آنے والی گاڑیو ںکی تعداد بہت زیادہ ہے۔ تمام انٹر اسٹیٹ ، بس اڈوں پر جو بدنظمی اور افرا تفری رہتی ہے وہ ہر ایک کی نظر میں ہے۔ باہر سے آنے والی گاڑیوں کا معیار وہ نہیں ہوتا جو ہونا چاہیے تھا۔ اکثر گاڑیاں ڈیزل کی ہوتی ہیں اور ان سے نکلنے والی صوتی آلودگی ماحول کو مزید پراگندہ کرتی ہے۔ باہر سے آنے والے اور شاہراہوں پر چلنے والے ڈرائیوروں کا طرز عمل ایسا نہیں ہوتا جو یہاں کی فضا اور حالات کے مطابق ہو۔ باہر سے آنے والے ڈرائیور بہت تیز آواز میں اور دیر تک ہارن بجاتے ہیں جو ماحول میں آلودگی کا سبب بنتے ہیں۔ یہ صورتحال ان دنوں میں زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہے جب تہواروں کی تقریبات کا موسم ہوتا ہے۔ دیوالی کے آس پاس کے دنو ں میں آلودگی خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے۔ یہ صورتحال مریضو ں، بوڑھوں اور بچوں کو متاثر کرتی ہے۔ اس کا ازالہ اسکولوں کو بند کرکے کیا جاتاہے جو یہ غیر مناسب طریقہ ہے اس سے بچوں کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں، یہ تمام شارٹ کٹس ایک دور اندیش قیادت کی شایان شان نہیں ہے۔ اس کے علاوہ سیاسی جماعتیں قرب وجوار کے صوبوں کی سرگرمیوں پر نکتہ چینی کرکے اپنا دامن بچا نے کی کوشش کرتی ہیں۔ اگرچہ پرالی جلانے کا مسئلہ بہت سنگین ہے اور غیر سائنٹفک ہے۔ اس کا اثر ماحول پر بہت براپڑتا ہے۔ پرالی سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے قرب وجوار کی وزرائے اعلیٰ اور انتظامیہ کے سربراہان سے تال میل کرکے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ پرالی کو ٹھکانے لگانے کے لیے کسانوں کی مدد لینی چاہیے اور ان کو مدد بھی دینی چاہیے۔ محض تعزیراتی اقدامات سے اس مسئلہ کا حل ممکن نہیں ہے۔ یہاں پر یہ بات بھی قابل تعریف ہے کہ عدلیہ نے پٹاخوں کے جلانے پر پابندی عائد کی ہے جو یہ ایک خوش کن فیصلہ تھا اور اس کا خیر مقدم بھی ہونا چاہیے۔ پٹاخے پھوڑنا اور آتش بازی کرنا صحت مندانہ طرز عمل نہیں ہے۔ بہت زیادہ آواز کرنے والے پٹاخے عام آدمی کی صحت پر غلط طریقے سے اثر انداز ہوتے ہیں۔ مگر سپریم کورٹ کا فیصلہ اس نوعیت کے معاملات میں کس حد تک موثر ہوسکتا ہے۔ اس بات کا اندازہ دیوالی والے دن ہی لگا لیا گیاتھا۔ جب بے دریغ انداز سے پٹاخے پھوڑے گئے تھے ۔

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS