اتراکھنڈ کے اسمبلی انتخابات میں 40 فیصد امیدوار کروڑپتی

0

دہرادون: (یو این آئی) اتراکھنڈ میں 14 فروری کو ہونے والے اسمبلی انتخابات میں قسمت آزمائی کرنے والے 632 امیدواروں میں سے کل 40 فیصد امیدوار کروڑ پتی ہیں۔ اب وہ ایک معزز ایم ایل اے بننے کے خواہش مند ہیں۔ ریاست میں 632 میں سے 626 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کا تجزیہ کرنے کے بعد جاری کردہ ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمس (اے ڈی آر) کی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے۔ ان 626 میں سے اس مرتبہ ریاست میں 252 کروڑ پتی امیدوار ہیں جن میں بی جے پی کے پاس سب سے زیادہ 60 امیدوار ہیں۔ اے ڈی آر کے کوآرڈینیٹر منوج دھیانی نے یو این آئی کو بتایا کہ پانچویں اسمبلی کے لیے ہونے والے ان انتخابات میں سال 2017
کے مقابلے کروڑ پتی امیدواروں کی تعداد میں تقریباً نو فیصد اضافہ ہوا ہے۔ تب یہ تعداد 31 فیصد تھی۔ اس مرتبہ 40 فیصد امیدوار کروڑ پتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس مرتبہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے 60، کانگریس کے 56 اور 40 آزاد امیدوار کروڑ پتی ہیں جب کہ عام آدمی پارٹی کے 31، بہوجن سماج پارٹی کے
18، اتراکھنڈ کرانتی دل کے 12، سماج وادی پارٹی کے آٹھ، آزاد سماج پارٹی ( کانشی رام) کے چھ ، پیپلز پارٹی آف انڈیا (ڈیموکریٹک) کے تین کروڑ پتی امیدوار میدان میں
ہیں۔ ان کروڑپتی کے زمرے میں اے آئی ایم آئی ایم، راشٹریہ سماج دل (آر)، بھارتیہ جن جاگرتی پارٹی، سی پی آئی (ایم)، نیشنلسٹ جن لوک پارٹی (ستیہ) اور اتراکھنڈ پریورتن پارٹی سے 2-2 امیدوار الیکشن لڑ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ راشٹریہ لوک دل، جے مہابھارت پارٹی، اتراکھنڈ کرانتی دل (ڈی)، اتراکھنڈ جن ایکتا پارٹی، سی پی آئی، اتراکھنڈ جنتا پارٹی، شرومنی اکالی دل سے ایک ایک امیدوار معزز بننے کے لیے بے تاب ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان کروڑ پتیوں میں سے سب سے زیادہ جائیداد والے لکسر اسمبلی حلقہ سے کانگریس کے امیدوار انترکش سینی ہیں جن کے پاس 123 کروڑ روپے کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادیں ہیں۔ دوسرے نمبر پر چوبٹاکھل سے بی جے پی کے امیدوار ستپال راوت عرف ستپال مہاراج کے پاس 87 کروڑ روپے کے اثاثے ہیں، جب کہ سری نگر کے علاقے سے
اتراکھنڈ کرانتی دل (یوکرانڈ) کے امیدوار موہن کالا کے پاس 82 کروڑ روپے، خانپور سے آزاد امیدوار امیش کمار کے پاس 54 کروڑ روپے کے منقولہ اور غیر منقولہ
اثاثے ہیں۔