عمران خان کے پاس محدود متبادل

0

صبیح احمد

وقت کا پہیہ اتنی تیزی سے گھومے گا، عمران خان کو اس کا اندازہ نہیں تھا۔ 5 سال کی مدت بھی نہیں گزری ہے کہ جس طرح سے کرپشن کا الزام لگا کر سابق وزیراعظم نواز شریف کو وزارت عظمیٰ کی کرسی سے اتار دیا گیا تھا، ٹھیک اسی طرح عمران خان کو پہلے تو تحریک اعتماد کے ذریعہ وزارت عظمیٰ سے بے دخل کیا گیا ا ور پھر اب بد عنوانی کے الزام میں قومی اسمبلی (پارلیمنٹ) کی رکنیت سے بھی محروم کر دیا گیا ہے۔ فرشتہ صفت ہونے کے دعویٰ کے ساتھ پاکستان کی سیاست میں قدم رکھنے والے عمران خان 5 سال بھی اپنے اس دعوے پر کھرے نہیں اتر سکے۔ عمران خان کے حامیوں کے لیے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ان کے آئیکون کو تکنیکی طور پر کم و بیش اسی طرح کی بنیادوں پر باہر کا راستہ دکھایا گیا جس طرح ان کے (عمران خان) کے سیاسی دشمن نواز شریف کو اقتدار سے ہٹایا گیا تھا۔ آخرالذکر کو اس تنخواہ کا اعلان نہ کرنے کی فلمی بنیاد پر جو انہوں نے کبھی حاصل ہی نہیں کی، لال کارڈ دکھایا گیا تھا جبکہ عمران خان کو اپنی ذمہ داریوں اور اثاثے کے غلط اعلان کے ناقابل تردید ثبوت کی بنیاد پر باہر کا دروازہ دکھایا گیا ہے۔
دراصل الیکشن کمیشن آف پاکستان نے توشہ خانہ ریفرنس معاملے میں سابق وزیر اعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو نااہل قرار دے دیا ہے۔ الیکشن کمیشن کی 5 رکنی کمیٹی نے متفقہ طور پر عمران خان کو آرٹیکل ’63 ون پی‘ کے تحت نااہل قرار دیا۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ عمران خان صادق اور امین نہیں رہے، لہٰذا وہ اب رکن قومی اسمبلی بھی نہیں رہے۔ عمران خان کی بطور رکن قومی اسمبلی نشست بھی خالی قرار دے دی گئی ہے۔ الیکشن کی جانب سے جاری کیے گئے تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کو آئین کے آرٹیکل ’63 ون پی‘ اور الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 137، 173 اور 167 کے تحت نااہل قرار دیا گیا ہے۔ تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کرپٹ پریکٹس کے مرتکب ہوئے اور انہوں نے توشہ خانہ سے حاصل ہونے والے تحائف اپنے گوشواروں میں جمع نہیں کرائے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کی جانب سے پیش کیا گیا بینک اکاؤنٹ تحائف کی قیمت سے مطابقت نہیں رکھتا۔ الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا ہے کہ غلط اعلان کرنے پر پی ٹی آئی صدر کے خلاف فوجداری کارروائی کی جائے گی۔ توشہ خانہ کابینہ ڈویژن کے انتظامی کنٹرول کے تحت ایک محکمہ ہے اور حکمرانوں، اراکین پارلیمنٹ، بیوروکریٹس اور دیگر حکومتوں اور سربراہان مملکت اور غیر ملکی معززین کی طرف سے دیے گئے قیمتی تحائف کو ذخیرہ کرتا ہے ۔ توشہ خانہ کے قواعد کے مطابق جن افراد پر یہ قواعد لاگو ہوتے ہیں، ان کو تحائف/تحفے اور اس طرح کے دیگر مواد کی اطلاع کیبنٹ ڈویژن کو دینا ہوگی۔ یہ الزام ہے کہ عمران خان نے توشہ خانہ میں رکھے گئے تحائف کی تفصیلات شیئر نہیں کیں اور ان کی رپورٹ فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی اگست میں حکمراں اتحاد کے قانون سازوں نے دائر کی تھی۔ ای سی پی نے جمعہ کو یہ نتیجہ اخذ کیا کہ عمران خان نے واقعی تحائف کے حوالے سے جھوٹے بیانات اور جھوٹے اعلانات کیے تھے ۔
الیکشن کمیشن کے فیصلے پر پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج کیا گیا اور دعویٰ کیا گیا کہ پورے پاکستان میں لوگ بڑے پیمانے پر اپنے گھروں سے نکل کر سڑکوں پر اتر آئے لیکن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ احتجاجی مظاہرے کافی محدود تھے۔ الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج بھی کیا گیا ہے۔ عمران خان کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے ان کی طرف سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کر کے درخواست کی تھی کہ اس حکم کو آرٹیکل 63 پر ’قانون کے قائم کردہ اصولوں کے خلاف‘ قرار دیا جائے۔ درخواست میں عدالت سے ای سی پی کے حکم کو غلط قرار دینے اور خارج کرنے کی اپیل کی گئی تھی لیکن درخواست پر فوری سماعت سے انکار کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے پیر کو اس پر سماعت کی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی نااہلی کا فیصلہ فی الحال معطل کرنے کی استدعا مسترد کر دی۔ بہرحال اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے یہ واضح کیا ہے کہ عمران خان دوبارہ الیکشن لڑنا چاہیں تو وہ لڑ سکتے ہیں ان پر الیکشن لڑنے کی کوئی پابندی نہیں ہے کیونکہ جس قانون کے تحت وہ نااہل قرار دیے گئے ہیں وہ صرف اسی نشست کی حد تک ہے۔ اب سب کی نظریں معاملے کی اگلی سماعت پر ٹکی ہے۔ مسئلہ صرف اس کیس کے حوالے سے ہی نہیں ہے۔ اس کے علاوہ بھی اور زیادہ نقصان پہنچانے والے کئی دیگر مقدمے بھی ہیں جو عدالتوں میں زیر سماعت ہیں اور جو نہ صرف عمران خان بلکہ سابقہ برسراقتدار پارٹی (پی ٹی آئی) کے لیے بھی تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ ان مقدموں میں غیر ملکی فنڈنگ کیس بھی شامل ہے جس میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تحریک انصاف پارٹی کو ممنوعہ فنڈنگ کو حاصل کرنے اور ان کا غلط استعمال کرنے کے لیے پہلے ہی قصوروار ٹھہرا چکا ہے۔
جہاں تک ادراک اور بیانیہ کا سوال ہے، سیاسی طور پر عمران خان کے مخالفین الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کو ان کی (عمران کی) خود کو تمام عیوب سے پاک اور صاف ستھرا سیاست داں کے طور پر پیش کرنے اور اپنے سیاسی مخالفین کو متعصب اور کرپٹ ثابت کرنے کی پوری مہم کے خلاف سنجیدگی سے استعمال کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔ یہ اب آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ عمران خان کے مداح ان دستاویزی ثبوتوں کو کس حد تک نظر انداز کرتے ہیں جن کی وجہ سے ان کی نااہلی کا فیصلہ آیا۔ ملک کی معیشت مکمل تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے اور اس کے زندہ رہنے کے لیے امریکہ، چین اور سعودی عرب جیسے ملکوں کی اقتصادی اور سفارتی امداد نا گزیر ہے اور یہ تمام ممالک کسی بھی صورت میں عمران کو پھر سے پاکستان کی باگ ڈور تھامتے ہوئے دیکھنے کو تیار نہیں ہوں گے۔ عمران خان کے پاس اب بہت محدود متبادل رہ گئے ہیں۔ وہ سیاسی طور پر متحرک رہ کر اگلا الیکشن جیتنے کے لیے جدو جہد کرنے کا متبادل اپنا سکتے ہیں یا پھراقتدار پر قبضہ کرنے کے لیے حکومت کو قبل از وقت الیکشن پر مجبور کرنے کے لیے سڑکوں پر اتر کر دبائو بنانے کا حربہ اپنا سکتے ہیں۔ لیکن ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ ملک کی فوج انتخابات میں جیت کے بعد بھی شاید ہی انہیں دوبارہ وزارت عظمیٰ کی مسند پر بیٹھنے کی اجازت دے گی، خواہ الیکشن جب بھی ہو۔
جہاں تک سیاسی طور پر مقبولیت کا سوال ہے، اس حوالے سے اب یقین کے ساتھ کچھ بھی کہنا جلد بازی ہوگی۔ عمران خان پہلے سیاسی طور پر کسی بھی طرح کی ذمہ داریوں سے بندھے نہیں تھے۔ اس لیے عوام کی نظر میں وہ معصوم تھے اور لوگوں نے انہیں ہاتھوں ہاتھ لیا تھا اور اپنے سر آنکھوں پر بٹھا لیا تھا۔ لیکن اب وہ تحریک عدم اعتماد کے ذریعہ ایک اعلیٰ ترین عہدے سے دستبردار ہو چکے ہیں اور حالیہ معاملہ اسی مدت کار کے دوران کا ہے۔ اب وہ سنگین الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس معاملے میں ا ن کے گرد قانونی شکنجے تنگ ہوتے جا رہے ہیں۔ اب تک جو عوامی مقبولیت تھی، وہ کسی فائدہ کے عہدہ پر فائز نہ رہنے کے دوران کی تھی۔ عمران خان کی شبیہ اب وہ نہیں رہی۔ عہدہ پر رہتے ہوئے بدعنوانی کے مقدموں میں وہ گھر چکے ہیں۔ اس لیے اب ان کی عوامی مقبولیت کا گراف فطری طور پر ویسا نہیں رہے گا، جیساکہ ان کی سیاسی اننگ کے ابتدائی دورمیں تھا۔ ضمنی الیکشن میں کچھ سیٹوں میں کامیابی کے حوالے سے بھی ان کی مقبولیت کا اندازہ لگایا جارہا ہے۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ یہ ضمنی انتخابات توشہ خانہ ریفرنس کیس میں فیصلے آنے سے پہلے منعقد ہوئے تھے۔
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS