یوپی میں شجرکاری مہم کی اہمیت!

0

ماحولیاتی تبدیلی نے ہر ذی ہوش شخص کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے، وہ جانتا ہے کہ صورتحال اگر اسی طرح بد سے بدتر ہوتی رہی تو اس زمین پر انسانوں کا جینا دوبھر ہو جائے گا۔ ماحولیاتی تبدیلی میں گرین ہاؤس گیسوں کا نہایت ہی اہم رول ہے اور ان گیسوں میں بھی سب سے زیادہ حصہ داری سی او ٹو یعنی کاربن ڈائی آکسائیڈ کی ہے جبکہ فضا کو اس گیس سے نجات دلانے کا سب سے سستا اور اچھا وسیلہ پیڑ، پودے ہیں۔ اسی لیے اترپردیش میں شجرکاری مہم کی اہمیت سے انکار کی گنجائش نہیں ہے۔ وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے دفتر سے موصولہ اطلاع کے مطابق، اس مانسون میں 35 کروڑ پیڑ لگانے کا ہدف طے کیا گیاہے۔ سماجی شراکت داری میں اضافہ کرنے کے لیے شجرکاری مہم کے تحت کسان، اساتذہ، طلبا کے ساتھ مختلف محکموں سے وابستہ افراد پیڑ لگائیں گے۔ ہر گاؤں میں 75 پیڑ لگائے جائیں گے۔ 15 اگست، 2022 تک اترپردیش کے 58000 گاؤں میں یہ شجرکاری مہم جاری رہے گی لیکن زیادہ بہتر یہ ہوگا کہ شجرکاری کی مہم ہمارے ملک سے کبھی ختم ہی نہ ہو، ملک کی سبھی ریاستوں میں لوگوں کو شجرکاری مہم سے جوڑا جائے اور انہیں اس کی اہمیت سے بھی واقف کرایا جائے۔ یہ بتایا جائے کہ پیڑ، پودوں کی اہمیت پھولوں اور پھلوں کی وجہ سے ہی نہیں ہوتی ہے، ان کی اصل اہمیت فضا کو کاربن ڈائی آکسائیڈ سے صاف رکھنے اور آکسیجن مہیا کرانے کی وجہ سے ہے مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ان کی اس اہمیت سے دنیا کے کم لوگ واقف ہیں، خود ہمارے ملک میں بھی اس سلسلے میں بیداری پیدا کرنے کی ضرورت ہے جبکہ سچائی یہ بھی ہے کہ اس ملک کے بیشتر لوگ ہمیشہ سے ہی پیڑ، پودوں کو اہمیت دیتے رہے ہیں، وہ ایسی ترقی کے خلاف رہے ہیں جس میں ہریالی ندارد ہو۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کے مطابق، 2010 میں ملک کے 22 فیصد علاقے میں جنگلات تھے، 2019 تک اس میں اضافہ ہوا اور جنگلات کے علاقے 24.56 فیصد ہو گئے یعنی ہمارا ملک پہلے سے زیادہ سرسبز و شاداب ہوا ہے۔ ویسے یہ ذکر بے محل نہ ہوگا کہ جن 10 ملکوں میں دنیا کے 67 فیصد جنگلات ہیں، ان میں ہمارا ملک ہندوستان بھی شامل ہے۔ اس کے باوجود شجرکاری کی مہم جاری رہنی چاہیے، کیونکہ ہمارے ملک میں بھی فضائی آلودگی ایک بڑے مسئلے کی شکل میں ابھرکر سامنے آئی ہے، کئی شہر فضائی آلودگی سے متاثر ہیں۔
حال ہی میں ماحولیاتی تبدیلی پر سوئٹزر لینڈ کے سائنس دانوں کی ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ اس میں ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں پیڑوں کو بڑی اہمیت دی گئی ہے۔ یہ بتایا گیا ہے کہ پیڑ ابتدائی دنوں میں تیزی سے بڑھتے ہیں، اس لیے ان کے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے کی رفتار زیادہ ہوتی ہے مگر وہ جیسے جیسے بڑے ہوتے جاتے ہیں، ان کے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے کی رفتار کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ دنیا بھر میں ہونے والے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں اگر دو تہائی تک کمی لانی ہے تو اتنے بڑے رقبے میں پیڑ لگانے ہوں گے جتنا بڑا رقبہ امریکہ کا ہے۔ ان کے مطابق، اتنے بڑے رقبے میں 1000 ارب پیڑ لگانے پڑیں گے یعنی دنیا کی 7 ارب، 80 کروڑ کی آبادی میں ہر آدمی کو 128 پیڑ لگانے ہوں گے۔ سائنس دانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ دنیا بھر میں اتنی غیر زرعی زمین ہے کہ اتنے پیڑ لگائے جا سکتے ہیں اور لوگوں کے لیے خوراک مہیا کرانے میں دشواری پیش نہیں آئے گی۔
وطن عزیز ہندوستان میں تو کئی ایسے پیڑ ہیں جو بہت زیادہ آکسیجن دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں برگد، نیم، پیپل، ارجن، اشوک، جامن اور بانس وغیرہ کافی اہمیت کے حامل ہیں۔ بانس کا استعمال آج بھی جھونپڑی یا پلیا بنانے اور دیگر کاموں میں ہوتا ہے مگر یہ قدرتی ایئر پیوریفائر بھی ہے۔ بانس کا ایک پیڑ سالانہ 70 ٹن آکسیجن دیتا ہے اور 80 ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتا ہے۔ اگست، 2013 میں دہلی کے ایک این جی او، ’دہلی گرینس‘ نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ایک صحتمند پیڑ سالانہ 23.72 لاکھ روپے کی آکسیجن دیتا ہے۔ اس این جی او نے یہ تخمینہ اس بنیاد پر لگایا تھا کہ ایک آدمی ایک دن میں 550 لیٹر آکسیجن لیتا ہے اور 2013 میں 2.75 لیٹر آکسیجن کے سلنڈر کی قیمت 6,500 روپے تھی، اس حساب سے ایک آدمی ایک دن میں تقریباً 13 لاکھ روپے کی آکسیجن لیتا تھا۔ ظاہر ہے، آکسیجن کے سلنڈر کی قیمت آج وہ نہیں جو 2013 میں تھی اور برس چند برس بعد یہی نہیں رہے گی جو آج ہے، آکسیجن کے لحاظ سے پیڑوں کی قیمت مسلسل بڑھے گی اور کسی پیڑ کا اندازہ اس کی اسی قیمت سے لگانا چاہیے، پھولوں اور پھلوں سے نہیں، اس لیے اترپردیش میں 35 کروڑ پیڑ لگانے کی مہم کو کھربوں روپے کی آکسیجن فراہم کرنے اور فضا کو کاربن ڈائی آکسائیڈ سے نجات دلانے کی ایک اچھی پہل سمجھنا زیادہ مناسب ہوگا۔
[email protected]