دینی مدارس کی اہمیت

0

ڈاکٹرحافظ کرناٹکی

انسانی زندگی کی تاریخ جہاں سے ملنی شروع ہوتی ہے وہیں سے تعلیم و تعلم کا سلسلہ بھی شروع ہوتا ہے، گو یا علم کا حصول بھی انسان کی فطرت کا حصّہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تہذیب، ثقافت، اور تاریخ کی بنیاد کے پتھروں کے ساتھ ہی تعلیم و تعلّم کے اوزار اور اوراق ملنے شروع ہوجاتے ہیں۔ اس میں شبہ نہیں ہے کہ ہر زمانے کی تعلیم کا معیار زمانے کے تقاضے کے مطابق ہوتا ہے اور ہر مذہب میں اپنی تعلیمات اور انسانی زندگی کے ارتقا اور اس کی انسانیت کے ارتفاع اور خدا اور بندے کے تعلق اور کائنات کے بنائے جانے کے اسباب سے آگاہی پر زور دیتا ہے۔ مگر یہ بھی ایک سچائی ہے کہ اسلام دنیا کا پہلا ایسا مذہب ہے جس کا باضابطہ آغاز تعلیم و تعلّم کی آیت کریمہ سے ہوا، اور اللہ تبارک وتعالیٰ نے حصول علم پر مسلمانوں کو توجہ دینے کی تاکید کی۔ حضورﷺ کی تعلیمات سے گھبرا کر جب اہل مکہ نے انہیں ہجرت پر مجبور کردیاتو وہ مدینہ تشریف لے آئے۔ اور پھر آہستہ آہستہ چاروں طرف سے عاشقان رسول مدینہ کی طرف ہجرت کرنے لگے۔ حضورﷺ نے صحابۂ کرام کی تعلیم و تربیت پر ابتداہی سے توجہ دینی شروع کردی تھی۔ اس لیے دین اسلام میں تعلیم و تعلّم کا رواج ابتداہی سے پایا جاتا ہے۔
مسلمان جب مدینہ منورہ میں رسنے بسنے لگے تو یہاں بھی ان کی تعلیم و تعلّم او ررہائش کا انتظام کیا گیا۔ جو صحابہ کرام گھر خاندان والے تھے وہ اپنے گھروں میں آباد ہوگئے اور وہ صحابۂ کرام جو گھر پریوار والے نہیں تھے، بیوی بچوں کی ذمہ داریوں سے آزاد تھے، اور جنہیں دینی تعلیم کے حصول اور خدا کی عبادت و ریاضت کے علاوہ دنیا کے کسی کام میں دلچسپی نہیں تھی وہ صفہ ہی کو اپنی کل کائنات سمجھتے تھے، اسی لیے انہیں اصحاب صفہ کہا جاتا ہے۔ صفہ کے اسی تصوّر نے بعد میں ترقی کرکے مدرسے کی شکل اختیار کی اور پھر مختلف مدارس اور مکاتب میں صورت گر ہو کر دین اسلام کی تعلیمات کو عام کرنے کا ذریعہ بنا اس طرح ظلمت کی ماقی اس دنیا اور تعلیم سے بیزار اقوام عالم میں علم کی روشنی پھیلنے لگی۔ آج جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مدرسوں کی تعلیم ازکار رفتہ ہے اور اسکول و کالج کی تعلیم جدید اور وقت کے تقاضے کے عین مطابق ہے۔ اس لیے مدارس کی تعلیم کو یا تو بند کردینا چاہیے یا اس کے نصاب تعلیم کو یکسر بدل دینا چاہیے۔ وہ لوگ شاید نہیں جانتے ہیں کہ ساری دنیا کی علم کی پیاس ابتدا میں مدارس نے ہی بجھائی۔ علم کیا ہے؟ اور اس کا حصول کتنا اہم ہے؟ یہ سبق مدارس نے ہی لوگوں کو پڑھایا۔ ہر شعبہ علم کی ترقی کی راہ مدارس نے ہی ہموار کی۔ کیوں کہ اسلام نے تو علم کا حاصل کرنا مرد اور عورت دونوں کے لیے لازمی قرار دے دیا تھا۔ اس لیے حصول علم سے محرومی کا تصوّر اسلام میں بہت تکلیف دہ ثابت ہو رہا تھا۔ اس تکلیف کو دور کرنے کے لیے اور اللہ کے بندوں تک علم کی روشنی پہنچانے کی ذمہ داری کو ادا کرنے کے لیے مسلم حکمرانوں نے بڑے پیمانے پر مدارس کھولے۔ آپ مدارس کے نام سے کسی قسم کے تعصب میں گرفتار نہ ہوں کیوں کہ یہ مدارس اپنے وقت کے بہت اعلیٰ پایہ کے جامعات تھے جنہیں آج کل یونیورسیٹیاں کہا جاتا ہے۔ ان مدارس میں صرف دین کی ہی تعلیم نہیں دی جاتی تھی۔ اور صرف حدیث، قرآن، فقہ، اور تفسیر پر ہی زور نہیں دیا جاتا تھا بلکہ سچ یہ ہے کہ علم کلام، بلاغت، کیمیا، طب، انجنیرینگ، مینجمنٹ، دواسازی، اور علاج و معالجے کے علاوہ سائنسی ایجادوں پر بھی بھرپور توجہ دی جاتی تھی۔ اسی روایت اور اسی روشنی سے کئی ممالک اور کئی اقوام نے اپنے خاکدان کو روشن کیا اور روشنی کے اس سفر کو دوام بخشا۔ خود ہندوستان میں بھی اسی روشنی سے نئے چراغ جلانے کی کوشش کی گئی جس میں ہندوستان نے بہت جلد بہت سارے ممالک پر سبقت حاصل کرلی کیوں کہ ہندوستان میں ابتداہی سے مادی اور روحانی تعلیم و تربیت کا ماحول بہت شاندار تھا۔ آج جب کہ بہت سارے لوگوں کو مدارس و مکاتب کے نام سے ایک خاص طرح کی چڑ پیدا ہوتی ہے ان لوگوں کو شاید معلوم نہیں ہے کہ انگریزوں کی آمد سے پہلے پہلے ہندوستان کے سبھی مذاہب کے ماننے والے لوگ مدارس میں ہی تعلیم حاصل کرتے تھے۔ کم لوگوں کو معلوم ہے کہ راجا رام موہن نے مدرسے سے فضیلت کا پورا کورس مکمّل کیا تھا۔ سند کے اعتبار سے وہ عالم فاضل مولانا تھے۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ اسلامی تعلیم ہی کے فیض سے انہوں نے یہ جانا ہو کہ ستی پرتھا غیر انسانی عمل ہے اور وہ اس کے دور کرنے اور اس رسم کو مٹانے کے لیے عملی زندگی میں نکل پڑے ہوں۔آپ ایک ذرا توجہ کریں گے تو معلوم ہوگا کہ ہمارے ابتدائی زمانے کے جتنے لیڈر اور ہیرو گذرے ہیں وہ سب کے سب مدارس کے تعلیم یافتہ تھے۔ ان میں علماوفضلا بھی تھے اور حکماو اطبا بھی۔ سچ تو یہ ہے کہ آج سے سو دو سو سال پہلے تعلیم یافتہ ہونے کا مطلب ہی مولوی اور مولانا ہوتا تھا۔ مولوی مہیش اور مولوی مدن تو آج تک اردو ادب میں مشہور و مقبول ہیں۔
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ مدارس اور مکاتب کے نظام نے ہی ہندوستان میں تعلیم و تعلّم کے رواج کو عام کیا اور اتنے بڑے ملک سے جہالت کو دور کرنے کا فریضہ انجام دیا، اس لیے مدارس اور مکاتب کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ سچ پوچھیے تو دینی مدارس اور علماء ملک کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ و معاون ہیں۔ دینی مدارس ہدایت کے سرچشمے، امن کے گہوارے اور اشاعت دین کا گہوارہ ہیں۔ ان مدارس اسلامیہ کا کسی بھی طرح کے تخریبی کاموں سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ یہ مغرب کا پروپیگنڈہ ہے کہ دینی مدارس کے طلبا تنگ نظر ہوتے ہیں جبکہ سچ یہ ہے کہ دینی مدارس کی تعلیمات اور دینی مدارس کے طلبا وسیع النظری کے حامل ہوتے ہیں کیوں کہ اسلام مساوات بھائی چارے اورا من کا درس دیتا ہے۔ اونچ نیچ مٹانے کا حکم دیتا ہے اور صاف لفظوں میں کہتا ہے کہ سارے انسان ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہیں، اس لیے کسی کو کسی پرفوقیت حاصل نہیں ہے۔ الّا یہ کہ انسان اپنے بہترین اعمال اور اخلاق و کردار کی پاکیزگی سے بلند مرتبہ حاصل کرے۔ سچ یہ بھی ہے کہ آج کا دور جو تہذیبی تصادم کا دور ہے اس دور میں نوجوانوں کے اندر اگر ایمان کا شعور زندہ ہے تو وہ مدارس اور علم کی بدولت زندہ ہے۔ دینی مدارس اور دینی مدارس کے طلبا وحدت کی نشانی اور اتحاد و یکجہتی کا عملی ثبوت ہیں۔ یہ مختلف قوموں، صوبوں، اور علاقوںسے تعلق رکھنے کے باوجود مدرسے کی ایک ہی چھت کے نیچے ایمان و ایقان کے روشن گلشن میںایک ساتھ مل کر رہتے ہیں اور پڑھتے لکھتے ہیں۔ ایک دسترخوان پر کھاتے اور ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر نماز ادا کرتے ہیں۔ جس سے یہ پیغام جاتا ہے کہ سارے انسان ایک جیسے ہیں، سب برابر ہیں۔
یہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ دینی مدارس نے قوم و ملّت کی آزادی ترقی اور اس کے وقار کو بلند کرنے میں ہمیشہ بنیادی رول ادا کیا اور اتحاد و یکجہتی کی روشن مثالیں قائم کیں۔ جب وطن عزیز غلامی کے دور سے گذر رہا تھا۔ اور ہندوستانی ثقافت اور ہندوستانیوں کی خوداری اور اس کا مذہب خطرے میں تھا تو اسے بحال کرنے کے لیے مدارس اور علماء کرام نے بہت ہی اہم اور بنیادی رول ادا کیا۔ شاہ ولی اللہ دہلوی، اورشاہ عبدالعزیز سے لے کر آج تک کے سبھی بڑے اور اہم علماء کرام نے ملک و ملّت کی تعمیر میں اہم رول ادا کیا۔علماء صادق پورکی خدمات سے ہندوستان کی آزادی کی تاریخ روشن ہے۔ آزادی کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے والوں میں سب سے بڑی تعداد علماء اور مدارس کے پروردہ لوگوں کی ہے۔ مولانا محمود الحسن اورعبیداللہ سندھی اور ان کے ساتھیوں سے لے کر مولانا ابوالکلام آزاد، حسرت موہانی، شوکت علی، محمد علی جوہر تک علماء کرام کی خدمات اتنی روشن اور تابناک ہے جس پر ہندوستان ہمیشہ فخر کرتارہے گا۔ سچ جانیے کہ دینی مدارس صرف دین کے ہی نہیں انسانیت، بلند اخلاقی، اعلیٰ کرداری، نیک نفسی، آپسی اتحاد، مساوات، بھائی چارے اور امن و امان کے عملی درس گاہوں کے مضبوط ترین قلعے ہیں۔ انہیں مدارس میں اپنے ملک، اپنی قوم سے محبت کا سچا سبق پڑھایا جاتا ہے۔ انسانیت کی خدمت کا درس دیا جاتا ہے۔ غریبوں، یتیموں، بے کسوں، مجبوروں، بیواؤں، ضعیفوں، مریضوں کی خدمت کا پاٹھ پڑھایا جاتا ہے۔
یہ مدارس ہی ہیں جہاں قوم وملّت کے نونہالوں کو روحانی غذا فراہم کی جاتی ہے۔ اور ان کے سینوں میں دین کی شمع کو روشن کیا جاتا ہے۔ ان کے ذہنوں میں آدمیت کی عظمت اور خدائے واحد کی قدرت کی روشنی بھری جاتی ہے۔ ہمدردی، ایثار، خلوص، خدمت خلق، حسن سلوک، معافی، درگذر، جیسے زندگی کے حقیقی اثاثے کی قدر وقیمت کا احساس دلایا جاتا ہے۔ عدل، انصاف، اور حق گوئی کے لیے جاں سپاری پر آمادہ کیا جاتا ہے۔ یہ مدارس ہی ہیں جہاں سے آج بھی علم کی وہ روشنی پھوٹتی ہے جو انسان کو باطنی طورپرمنزہ کر کے اسے انسانیت اور اشرف المخلوقات کے مقام بلند تک پہونچانے کی راہ دکھاتی ہے۔ اس لیے یہ کہنا بالکل درست ہے کہ ہندوستان میں عربی مدرسوں کی ضرورت جتنی آج ہے کل اس سے بھی زیادہ ہوگی۔ کیوں کہ ہندوستان کے عوامی مزاج اور جمہوری سوچ کو بگاڑنے کی جو کوششیں کی جارہی ہیں اور جس طرح انسانوں کی جماعت کو رنگ، نسل، ذات پات اور مذہب کے نام پر بانٹاجارہا ہے اسے آپس میں ملانے جوڑنے، اور جوڑ کر ایک متحدہ ہندوستان بنانے کا فریضہ ایک بار پھر مدارس کو ہی ادا کرنا پڑے گا۔ اس لیے مدرسوں کی حفاظت کرنا اسے سنبھال کر رکھنا، اس کے مستقبل کو محفوظ بنانا مسلمانوں کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔
اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ مدرسوں کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ مدرسوں میں پڑھنے والے بچوں کا مادی اعتبار سے کوئی مستقبل نہیں ہے تو بھی برا ماننے کی ضرورت نہیں ہے۔ کیوں کہ بچوں کو مادی اعتبار سے مستحکم بنانے والے تعلیمی درس گاہوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ جہاں مہنگی قیمت پر بچوں کو تعلیم و تربیت دی جاتی ہے۔ اس کے باوجود بے روزگاروں کی بھیڑ بڑھتی چلی جارہی ہے۔ یادر ہے کہ انسان صرف مادی خوشحالی سے زندہ نہیں رہ سکتا ہے اسے روحانی سکون کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔ اور یہ روحانی سکون صرف مدارس اسلامیہ فراہم کرتے ہیں۔ لوگوں کو روحانی طور پر پاکیزہ اور منزہ بنانے کا کام مدارس اسلامیہ اداکرتے ہیں۔ اور غریب سے غریب ترین بچوں کے لیے مفت تعلیم کا انتظام بھی یہ مدارس ہی کرتے ہیں۔ مادی اور عصری تعلیم کی الائشوں میں لت پت لوگوں کو روحانی تعلیم کی لطافت اور خوشبو کا احساس مدارس اسلامیہ ہی دلاتے ہیں۔ کیا یہ کہنے کی ضرورت رہ جاتی ہے کہ دین کی بقا و تحفظ اسلامی اقدار و روایات کی پاسداری و پاسبانی، اسلامی شریعت کے نفود اور تعلیم سے آگاہی اور ایمان و عقیدے کی پختگی کے جتنے سامان ہیں اس کی فراہمی کا فریضہ مدارس اسلامیہ ہی ادا کرتے ہیں۔
معاشرے کی دینی ضروریات کی تکمیل میں مدارس کا رول اور اس کا مقام اس کسان کی طرح ہے جو زمین کو ہموار کرتا ہے۔ پھر اس میں بیج بوتا ہے، فصل کی دیکھ بھال کرتا ہے اور پھر فصل تیار ہوجانے پر غلّہ تیار کرتا ہے۔ اور پھر اس غلّے کو مارکٹ تک پہونچاتا ہے اور اسے مارکٹ سے گھر گھر،شہر شہر، اور گاؤں گاؤں پہونچانے میں اپنی ساری قوّت لگادیتا ہے تا کہ کوئی بھوکا نہ رہے تا کہ کسی کا ایمان ادھوارا نہ رہے اور لوگ آسودگی اور ایمان و ایقان کی پختگی، روحانی تازگی اور شکم سیری اور ذہنی و فکری امنگ کے ساتھ زندگی گذاریں۔ حلال و حرام کے تصوّر سے واقف ہوں۔تا کہ کسی قسم کے نقصان کا شکار نہ ہوں۔ سچ پوچھیے تو دین کے تمام شعبوں کو زندہ رکھنے، ایمان کے تمام تقاضوں سے لوگوں کو آگاہ کرنے، نیکی کے سبھی راستوں سے لوگوں کو روشناس کرنے، بھلائی کے سارے کاموں کو اپنانے کے لیے لوگوں کو آمادہ کرنے میں مدارس بہت ہی بنیادی رول ادا کرتے ہیں۔ مکاتب اور مدارس کی اہمیت اپنی جگہ مسلّم ہے، آج جبکہ سارے بچے جدید تعلیم کے اسکولوں میں جوق در جوق بھرتی ہورہے ہیں اور والدین مستقبل کے روشن خواب آنکھوں میں بسائے اپنے بچوں کو مہنگے اسکولوں میں داخل کررہے ہیں اس بات کو یقینی بنانا بہت ضروری ہو گیا ہے کہ ان بچوں کو روحانی غذا اور ایمان وعقیدے کی خوراک کیسے کھلائی جائے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہر گلی، محلے، اور گاؤں کی مسجدوں کو صبح و شام کے مکاتب میں بدل دیا جائے۔ ان کے اوقات اس طرح رکھے جائیں کہ بچے اسکول جانے سے پہلے ایک گھنٹہ مسجدوں کے مکاتب میں دینی تعلیم حاصل کرلیں۔ یا پھر اسکول سے آنے کے بعد ایک گھنٹہ مسجدوں کے مکاتب میں گذار کراپنی دینی تعلیم سے آگاہی حاصل کریں۔ اس طرح ان بچوں اور ان بچوں کے والدین کی دنیا اور عاقبت سنور جائے گی۔ اور تبلیغ دین کافریضہ بھی ادا ہوجائے گا۔چنانچہ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ آج کے زمانے میں جبکہ علم نے اتنی ترقی کرلی ہے کہ وہ آسمان سے آگے اور پاتال سے نیچے کی خبر لانے میں لگا ہے۔ ایسے میں مدارس و مکاتب کی تعلیم کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ دراصل خود بھی حقیقت سے ناآشنا ہے اور اپنی ہی طرح دوسروں کو بھی حقیقت تک پہونچنے سے روکنا چاہتا ہے۔ کیوں کہ آسمان اور تحت الثریٰ کی ہر طرح کی تعلیم تب تک ادھوری اور گمراہ کن رہے گی جب تک اس میں ایمان و ایقان اور خدائے واحد کی حقانیت کا نور شامل نہیں ہوگا۔
مکاتب اور مدارس کی اہمیت کو کسی بھی حال میں کم کرکے دیکھا نہیں جاسکتا ہے۔ اس لیے دینی مدارس کی ترقی، اس کی ترویج اور اس کے مقام و مرتبے کو بلند کرنے میں سبھوں کو مل کر کام کرنا چاہیے۔ یہ دینی تعلیم کی وراثت کے وہ آبگینے ہیں جنہیں ٹھیس لگے گی تو ٹوٹ جائیں گے۔ اس لیے ان آبگینوں کی حفاظت کے لیے ہم سبھوں کو سینہ سپر ہونے کے لیے ہر وقت تیار رہنا چاہیے۔ اور یہ بات پوری طرح ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ جب تک یہ دینی مدارس قائم رہیں گے تب تک دین کے قلعے میں کوئی سیندھ نہیں لگاسکے گا۔ اس لیے ہر مسلمان کو اسے اپنی وراثت کی طرح محفوظ رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔