کھیت بچانا ہو تو دھان کا موہ چھوڑیں

0

پنکج چترویدی

اس مرتبہ مانسون آنے میں دیر ہوگئی، لیکن جن علاقوں کی روزی روٹی ہی کھیتی سے چلتی ہو، وہ بوائی-روپائی میں دیر نہیں کرسکتے، ورنہ اگلی فصل کے لیے تاخیر ہوجائے گی۔ کوئی ساڑھے بارہ لاکھ ٹیوب ویل گزشتہ ایک ماہ سے دن رات زمین کی بے پناہ گہرائیوںمیں بچے چُلّو بھر پانی کو کھینچتے رہے۔ ایسا نہیں ہے کہ حکومت اس سے لاپروا ہے کہ بے حساب دھان کی کھیتی نے زمین کی کوکھ کو نہ صرف خشک کردیا بلکہ اس کی پیداوار ی صلاحیت بھی کم ہورہی ہے۔ بھلے ہی آج کیمیائی کھاد-دوا کی بدولت کچھ زیادہ فصل لے رہے ہیں لیکن جلد ہی وہاں کچھ بھی نہیں اُگے گا۔ اکثر کہا جاتا ہے کہ دہلی کی سرحد پر چل رہی کسان تحریک کے زیادہ تر شراکت دار پنجاب-ہریانہ اور مغربی اترپردیش کے ہیں۔ سمجھنا ہوگا کہ جن جن علاقوں نے روایتی فصل نہ ہونے کے باوجود کھیتی میں دھان کو اپنایا، وہاں کئی طرح کی دقتیں کھڑی ہورہی ہیں- پانی کا قحط، بجلی کا مسئلہ، کم ہوتی کھیتی کی زمین اور بڑھتی مہنگائی کے بہ نسبت کم ہوتا منافع۔ یہی نہیں، دھان کے سبب دہلی تک ماحولیاتی بحران پیدا ہورہا ہے الگ۔ آخر ہم کو سمجھنا ہوگا کہ کسی بھی فصل کی لاگت میں بھلے ہی ہم آج پانی کی قیمت نہیں جوڑ رہے لیکن یہ پانی وہی ہے جسے اب شہری علاقہ میں 20روپے کا ایک لیٹر خرید کر پینا ہماری مجبوری ہوگئی ہے۔
کھیتی-کسانی ہندوستان کے معاشی نظام کی مضبوط بنیاد ہے اور اس پر زیادہ پانی خرچ ہونا لازمی ہے، لیکن ہمیں اگر فوڈ سیکورٹی کو یقینی بنانا ہے تو پانی کے تحفظ کی بات بھی کرنی ہوگی۔ جنوبی یا مشرقی ہندوستان میں اچھی برسات ہوتی ہے۔ وہاں کھیت میں برسات کا پانی بھرا جاسکتا ہے، لہٰذا روایتی طور پر وہیں دھان کی کھیتی ہوتی تھی اور وہیں کے لوگوں کی بنیادی خوراک چاول تھی۔ پنجاب-ہریانہ وغیرہ علاقوں میں ندیوں کا جال رہا ہے، وہاں کی زمین میں نمی رہتی تھی، لہٰذا چنا، گیہوں، راجما جیسی فصلیں یہاں ہوتی تھیں۔ بدقسمتی ہے کہ ملک کی زرعی پالیسی نے محض زیادہ فائدہ کمانے کا خواب دکھایا اور ایسے مقامات پر بھی دھان کی اندھادھند کھیتی شروع ہوگئی جہاں اس کے لائق پانی دستیاب نہیں تھا۔ نتیجہ سامنے ہے کہ ہریانہ-پنجاب جیسی ریاستوں کا زیادہ تر حصہ زیرزمین پانی کے معاملہ میں ’ڈارک زون‘ میں بدل گیا ہے اور حالات ایسے ہیں کہ زمین کے سوکھنے کی وجہ سے اب ریگستان کی آہٹ اس جانب بڑھ رہی ہے۔ بات پنجاب کی ہو یا پھر ہریانہ یا گنگا-جمنا کے دوآبہ کے درمیان آباد مغربی اترپردیش کی، صدیوں سے یہاں کے معاشرہ کی خوراک میں کبھی چاول تھا ہی نہیں، اس لیے اس کی پیداوار بھی یہاں نہیں ہوتی۔ سبزانقلاب کے نام پر مخصوص کیمیائی کھاد-دوا اور بیج کی تجارت کرنے والی کمپنیوں نے بس پانی کی دستیابی دیکھی اور وہاں ایسی فصلوں کی حوصلہ افزائی شروع کردی جس نے وہاں کی زمین بنجر کی، زیرزمین پانی سمیت پانی کے ذرائع خالی کردیے، کھیتی میں استعمال کیمیکل سے آس پاس کی ندی-تالاب او ر زیرزمین پانی آلودہ کردیا۔ حالات ایسے ہوگئے کہ پینے کے پانی کا بحران خوفناک ہوگیا۔ یہ سبھی جانتے ہیں کہ ہمارے پاس دستیاب کل پانی کا سب سے زیادہ استعمال کھیتی میں ہوتا ہے۔

بـجـلی، پـانـی کـے بـعـد دھان والـے عـلاقوں مـیـں ریگستان کـی آہٹ کا اشارہ اسرو کی ایک ریسرچ میں سامنے آیا ہے۔ تحقیق کہتی ہـے کـہ ہندوستان کـی کل 32 کروڑ، 87 لاکھ، 30ہزار ہیکٹیئر زمین میں سے 10 کروڑ، 51 لاکھ، 90 ہزار ہیکٹیئر زمین پر بنجر نے اپنا ڈیرا جمالیا ہے، جبکہ 8کـروڑ، 21لاکھ، 80 ہـزار ہیکٹیئر زمین ریگستان میں بدل رہی ہے۔ یہ ہمارے لیے تشویش کی بات ہے کہ ملک کے ایک چوتھائی حصہ پر آنے والے 100 سال میں ریگستان بننے کا خطرہ نزدیک ہے۔ اندھادھند سینچائی اور بـڑی مـقـدار میں فصل لینـے کـے برے نتیجہ کا نمونہ پنجاب ہے، جہاں دو لاکھ ہیکٹیئر زمین دیکھتے ہی دیکھتے بنجر ہوگئی۔

گزشتہ سال ہریانہ حکومت نے ’میرا پانی-میری وراثت‘ اسکیم کے تحت ڈارک زون میں شامل علاقوں میں دھان کی کھیتی چھوڑنے والے کسانوں کو 7ہزار روپے فی ایکڑ ترغیبی رقم/مراعات دینے کا اعلان کیا تھا۔ پڑوسی ریاست پنجاب نے بھی خریف فصل میں دھان کی بوائی، سیدھی بجائی اور مکئی کی کھیتی کی زیادہ حوصلہ افزائی کے لیے ریاستی حکومت نے زرعی مشینری کی خرید پر 50فیصد تک کی سبسڈی دینے کا فیصلہ لیا تھا۔
کبھی پنجاب میں ہمیشہ بہنے والی پانچ ندیاں تھیں جو اب پانی کے بحران کے سبب ریگستان میں تبدیل ہونے کی جانب بڑھ رہی ہیں۔ پنجاب کے کھیتوں کی سالانہ پانی کی ڈیمانڈ 43.7لاکھ ہیکٹیئر میٹر ہے اور اس کا 73فیصد زیرزمین پانی سے حاصل کیا جارہا ہے۔ یہی نہیں، ریاست کی ندیوں میں پانی کی دستیابی بھی ایک کروڑ70لاکھ ایکڑ فٹ سے گھٹ کر ایک کروڑ 30لاکھ ایکڑ فٹ رہ گئی ہے۔ جب حکومت نے زیادہ پانی پینے والی فصلوں اور زمین کا سینہ چیر کر پانی نکالنے والی اسکیموں کی خوب حوصلہ افزائی کی تو پانی کی کھپت کے تئیں عام لوگوں میں بے پروائی میں اضافہ ہوا اور ملک کا اوسطاً پانی کا استعمال-150لیٹر فی شخص، ہر دن کی حد یہاں دوگنی سے بھی زیادہ 380لیٹر ہوگئی۔
پنجاب سوائل کنزرویشن(Punjab Soil Conservation) اور سینٹرل گراؤنڈ واٹر لیول بورڈ کے ایک جوائنٹ سیٹیلائٹ سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ اگر ریاست نے اسی رفتار سے زیرزمین پانی کا استعمال جاری رکھا تو آنے والے 18سال میں صرف پانچ فیصد علاقہ میں ہی زیرزمین پانی بچے گا۔ سبھی زیرزمین پانی کے ذرائع پوری طرح خشک ہوجائیں گے اور آج کے بچے جب جوان ہوں گے تو ان کے لیے نہ صرف پانی کا بحران، بلکہ زمین کے تیزی سے ریت میں بدلنے کا بحران بھی پیدا ہوگا۔ 1985 میں پنجاب کے 85فیصد حصہ کی کوکھ میں لبالب پانی تھا۔ 2018 تک اس کے 45فیصد میں بہت کم اور 6فیصد میں تقریباً ختم کے حالات بن گئے ہیں۔ آج وہاں 300سے ایک ہزار فٹ گہرائی پر ٹیوب ویل کھودے جارہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جتنی گہرائی سے پانی لیں گے اتنی ہی بجلی کی کھپت میں اضافہ ہوگا۔
بجلی، پانی کے بعد دھان والے علاقوں میں ریگستان کی آہٹ کا اشارہ اسرو کی ایک ریسرچ میں سامنے آیا ہے۔ تحقیق کہتی ہے کہ ہندوستان کی کل 32کروڑ، 87لاکھ، 30ہزار ہیکٹیئر زمین میں سے 10کروڑ، 51لاکھ، 90ہزار ہیکٹیئر زمین پر بنجر نے اپنا ڈیرا جمالیا ہے، جبکہ 8کروڑ،21لاکھ، 80ہزار ہیکٹیئر زمین ریگستان میں بدل رہی ہے۔ یہ ہمارے لیے تشویش کی بات ہے کہ ملک کے ایک چوتھائی حصہ پر آنے والے 100سال میں ریگستان بننے کا خطرہ نزدیک ہے۔ اندھادھند سینچائی اور بڑی مقدار میں فصل لینے کے برے نتیجہ کا نمونہ پنجاب ہے، جہاں دو لاکھ ہیکٹیئر زمین دیکھتے ہی دیکھتے بنجر ہوگئی۔ بھٹنڈا، مانسا، موگا، فیروزپور، مکتسر، فریدکوٹ وغیرہ میں زمین میں ریڈیوایکٹیو ایلیمنٹ کی مقدار لائن کراس کرچکی ہے اور یہی ریگستان کی آمد کا اشارہ ہے۔
دہلی میں ٹھنڈ کی آمد کے ساتھ ہی جان لیوا اسماگ کی وجہ بھی دھان کی زیادہ بوائی ہے۔ ہریانہ-پنجاب میں دھان کی بوائی 10جون سے پہلے ہوتی نہیں۔ اسے تیار ہونے میں لگے 140دن، پھر اسے کاٹنے کے بعد گیہوں کی فصل لگانے کے لیے کسان کے پاس اتنا وقت ہوتا ہی نہیں ہے کہ وہ فصل کی باقیات کا نمٹارہ حکومت کے قانون کے مطابق کرے۔ جب تک ہریانہ-پنجاب میں دھان کی فصل کا رقبہ کم نہیں ہوتا، دہلی کو پرالی کے بحران سے نجات نہیں ملے گی۔
حکومت ہند کے بفر اسٹاک میں دھان مناسب مقدار میں ہے اور اب صرف مقبولیت کی وجہ سے ہی ریاستی حکومتیں اندھادھند دھان خریدتی ہیں اور اوسطاً ہر سال خریدے گئے دھان کا 10فیصد تک بغیر مناسب اسٹوریج کے برباد ہوجاتا ہے۔ جان لیں، یہ صرف دھان ہی نہیں برباد ہوتا، بلکہ اس کو اگانے میں استعمال کیا گیا پانی بھی ضائع ہوجاتا ہے۔ ابھی تک ریاستی حکومتوں نے جو اسکیمیں بنائیں ان سے دھان کی کھیتی کی کہیں حوصلہ شکنی ہوتی نظر آرہی ہے لیکن اگر ہمیں اپنے اناج فراہم کرنے والی ریاستوں کو بچانا ہے تو اس کے لیے کچھ سخت فیصلے بھی لینے پڑسکتے ہیں۔
rvr

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS