مدھیہ پردیش میں انسانیت ہوئی شرمسار، بھائی کی لاش کو گود میں لیکر سڑک کنارے بیٹھا رہا معصوم

0

دانش رحمٰن
نئی دہلی : مدھیہ پردیش کے مورینا سے انسانیت کو شرم سار کرنے والا ایک دردناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ ایک اٹھ سال کے معصوم کو اپنے بھائی کی لاش کو گھنٹوں اپنی گود میں رکھ کر سڑک کنارے بیٹھنے پر مجبور ہونا پڑا۔ انیما اور پیٹ میں زیادہ پانی بھرنے کی وجہ سے دو سال کے معصوم راجا کی اسپتال میں علاج کے دوران موت ہوگی۔ معصوم راجا کو جس ایمبولینس سے لایا گیا تھا وہ اسپتال پہچنے کے بعد لوٹ گئی تھی۔ راجا کی موت کے بعد اس کے والد پوجا رام جاٹو نے اسپتال کے ڈاکٹر و اسٹاف سے لاش کو گائوں لے جانے کے لئے ایمبولینس کے لئے کہا تو اسپتال نے ایمبولینس دینے


سے صاف انکار کردیا۔ کہا کہ اگر لاش کو لے جانے کے لئے اسپتال میں کوئی گاڑی نہیں ہے۔ گاڑی چاہئے تو اسپتال کے باہر سے لے لو۔اسپتال میں ایمبولینس کھڑی تھی لیکن انہوں نے اس سے لاش کو  لے کر چلنے کی بات کی تو ان سے 1500سو روپئے مانگے گئے۔ ان کے ساتھ ان کا 8سال کا بیٹا گلشن بھی تھا۔ بیٹے گلشن کو نہرو پارک کے سامنے سڑک کے کنارے بنے نالے کے پاس بیٹھا کر پوجا رام سستی ریٹ کی گاڑی تلاشنے چلے گئے۔ تقریبا پون گھنٹے تک 8سال کا بیٹا


گلشن اپنے دو سال کے بھائی کی لاش کو گود میں لے کر بیٹھا رہا۔ اس معصوم کی مدد کے لئے کوئی بھی نہیں آیا۔ بچے کی موت کے بعد باپ لاش لے جانے کے لئے ضلع استپال کے باہر ایمبولینس والوں سے گزارش کرتا رہا۔ یہ پورا معاملہ  مقامی جرنلسٹ نے اپنے کیمرے میں قید کرلیا۔ معاملے نے طول پکڑا تو پولیس نے معاملے کو سلجھایا۔ ٹی آئی یوگندر سنگھ جادون موقع پر پہنچے۔ انہوں معصوم گلشن کی گود سے اس کے بھائی کی لاش  اٹھایا اور دونوں کو ضلع اسپتال لے گئے۔ جہاں سے ایمبولینس ملی اورلاش کو اس کے گھر بھیجا گیا۔
پوجارام نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کے چار بچے ہیں۔ تین بیٹے اور ایک بیٹی جن میں بادشاہ سب سے چھوٹا تھا۔ اس کی بیوی تلسا تین ماہ قبل گھر چھوڑ کر اپنے ماموں کے گھر (ڈبرا) چلی گئی تھی۔ وہ خود بچوں کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ وہ کام پر بھی جاتا ہے۔