ہندوستان کے کندھوں پر بڑی ذمہ داری

0
Nusa Dua: India's Prime Minister Narendra Modi, left, and Indonesia's President Joko Widodo take part in the handover ceremony at the G20 Leaders' Summit, in Nusa Dua, Bali, Indonesia, Wednesday Nov. 16, 2022.AP/PTI Photo(AP11_16_2022_000095B)

دنیا کی خطیر آبادی دولت اور وسائل کی نمائندگی کرنے والے 20ممالک کے سربراہان مملکت وحکومت کی کانفرنس مثبت پیغام کے بعد برخاست ہوگئی۔ انڈونیشیا کے سیاحتی مرکز بالی میں ہونے والی اس کانفرنس کا سب سے اہم ایجنڈا دنیا کو درپیش سب سے اہم مسائل غذا اور توانائی رہے۔ پوری دنیا اس وقت جس بحران سے دوچار ہے اس کے پیچھے اگرچہ عالمی وبا کا آسیب اور یوکرین پر امریکہ روس کا حملہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ یہ کانفرنس ایسے دور میں ہوئی ہے جب دنیا کے سامنے عام آدمی کے پیٹ بھرنے کا مسئلہ کھڑا ہے۔ اس کے لیے غذا کی کمی کا بحران لاحق ہے ۔
دنیا کے سامنے سب سے بڑا چیلنج توانائی ہی ہے، یوکرین بحران کے بعد اس کی شدت بہت گہری ہوگئی ہے۔ پچھلے سال 2021 میں اکتوبر کے ماہ میں جی-20کا اجلاس ہوا تھا تو اس وقت بھی دنیا تقریباً اسی قسم کے بحران سے دوچار تھی۔ مگر اس وقت جنگی بحران اور اس سے پیدا ہونے والی کشیدگی نہیں تھی۔ یوکرین پر روسی حملے کے بعد جو تصادم اور منفی ذہنیت پیدا ہوئی ہے۔ اس کا اثر ترقی کے رفتار پر صاف دکھائی دے رہا ہے۔ اس اجلاس کا سب سے اہم پہلو یہ رہا کہ اب ہندوستان اس نمائندہ تنظیم کا سربراہ مقرر ہوگیا ہے۔ ہندوستان اگلے سال سے اپنی ذمہ داریاں نبھالے گا۔ یعنی ہندوستان اب اگلے سال 2023میں جی-20 سربراہ اجلاس کی میزبانی کرے گا۔
یہ ہندوستان کے لیے اہم ذمہ داری ہے۔ جس وقت یہ کانفرنس اپنے ایجنڈا طے کررہی تھی اس کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ صحت تھا اور ہوتا بھی کیوں نہیں ۔ آخر کار اس وقت پوری دنیا کووڈ -19کے بحران سے دوچار تھی اور اس کے اثرات ابھی تک پوری دنیا کی معیشت اور سیاسی اور سماجی حالات پر صاف نظرآرہے ہیں۔ ہندوستان کے سامنے سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ وہ کس طرح بدلتے ہوئے حالات میں اپنے کاندھوں پر اتنی بڑی ذمہ داری کو کس طرح اور کس خوش اسلوبی کے ساتھ ادا کرپائے گا۔ بالی میں ختم ہونے والی حالیہ کانفرنس میں دوسرا سب سے اہم ایشو توانائی رہا ہے۔ اس وقت پوری دنیا توانائی کے بحران سے دوچار ہے۔ اس کی اہم وجہ اگرچہ یوکرین بحران ہے مگر یہ بحران یوکرین جنگ سے پہلے ہی محسوس کیا جارہا تھا۔ وہ تمام ممالک جو کہ بدلے ہوئے حالات میں توانائی کے وسائل پر گرفت رکھتے ہیں اور بڑی مقدار میں توانائی پیدا کرتے ہیں، اوپیک ممالک نے دیگر مغربی ممالک کے دبائو کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے اور یہ ممالک اپنی مرضی اور مفادات کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی پیداوار کو کنٹرول کررہے۔
ظاہر ہے کہ اس صورت حال سے اوپیک ممالک فیصلہ کن پوزیشن میں آگئے ہیں۔ ایسے حالات میں ہندوستان کا رول قائدانہ ہوگیا ہے۔ ہندوستان چونکہ پوری دنیا میں زراعتی اور توانائی کے وسائل کے لیے جانا جاتا ہے۔ ہندوستان کی آبادی اور اس کی متنوع تہذیب اور مضبوط جمہوریت نے اس مقام پر کھڑا کردیا ہے کہ وہ دنیا کی عظیم ترین طاقتوں اور ممالک کو اپنی قیادت دے سکے۔ پچھلے دنوں وزیراعظم نریند ر مودی نے یوکرین بحران پر رو س کے صدر ولادیمر پوتن کو سمجھا دیا تھا کہ آج کا دور جنگ وجدال کا نہیں بلکہ افہام وتفہیم اور باہمی تعاون کا ہے۔ پوری دنیا میں وزیراعظم نریندر مودی کے اس موقف کو سراہا گیا تھا۔ اس وقت بھی روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے بھی ہندوستان کے موقف کو مثبت انداز سے لیا تھا۔ ان کے کسی بیان سے یہ نہیں لگا کہ روسی صدر ہندوستان کے اس انداز سے ناراض تھے۔
ہندوستان اور روس کے رشتے کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ ہندوستان نے ہمیشہ روس کو اپنا قریبی حلیف سمجھا ہے۔ ناوابستہ ممالک کے قائد رہنے والے ہندوستان نے کسی بلاک کی طرف جھکائو ظاہر کیے بغیر اپنا موقف ظاہر کیا ہے۔ افغانستان پر جس زمانے میں روس نے فوجی مداخلت کی تھی اس وقت بھی ہندوستان کی قیادت نے یہی بے باکی ظاہر کی تھی اور برملا اس مداخلت پر ناگواری ظاہر کی تھی۔
آج کے حالات بالکل بدلے ہوئے ہیں۔ لیکن ہندوستان نے ایسے سخت مشکل حالات میں جبکہ وہ خود بھی مختلف مسائل سے دوچار ہے۔ اپنا موقف سامنے رکھنے میں کسی تامل کا اظہار نہیں کیا ہے۔ ہندوستان کی بے بانے پوری دنیا کی توجہ اپنی طرف مبذول کرادی ہے۔ جیسا کہ اوپر کی سطروں میں بتایا گیا ہے کہ ہندوستان ایک زراعتی ملک ہے اور ہماری یہی صلاحیت دنیا کو غذائی بحران سے پاک کرنے میں اہم رول ادا کرسکتی ہے۔
توانائی کا بحران اس قدر شدید ہوگیا ہے کہ یوروپی ممالک علاقائی سطح پر پڑوسی اور توانائی پیدا کرنے والے ممالک کے ساتھ سمجھوتے کررہے ہیں اور اپنے اپنے ممالک میں توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔
گروپ20سربراہ اجلاس میں وزیراعظم نریندر مودی کی تقریر کافی اہمیت کی حامل رہی ہے۔ نریندر مودی نے دنیا کو سخت ترین صورت حال سے آگاہ کیا ہے اور کمیوں اور خامیوں کی طرف بھی توجہ دلائی ہے۔ کھاد اور توانائی کی قلت غذائی بحران کو شدید کررہی ہے۔ وزیراعظم نے متنازعہ ایشوپر توجہ دینے کی بجائے قیام امن اور تصادم کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیراعظم کا افہام تفہیم پر زور دنیا کو مثبت پیغام دیتاہے۔ دنیا میں غذائی اجناس کی پیداوار میں ہندوستان سب سے آگے ہے۔ ہندوستان کی یہ صلاحیت دنیا کو درپیش مسائل کو حل کرنے میں بہتر پوزیشن پر لا کر کھڑا کرتی ہے۔ توانائی کے میدان میں بھی ہندوستان نے قابل تجدید وسائل پر زور ڈالا ہے۔ ہندوستان نے اپنی خانگی ضروریات کا ایک تہائی حصہ قابل تجدید وسائل سے حاصل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ جیسے ہی 2030 تک حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔