ترکی اور شام کے درمیان تعلقات کی بحالی کے کتنے امکانات؟

0

ڈاکٹر محمد ضیاء اللّٰہ

ترکی اور شام دونوں پڑوسی ممالک ہیں اس لئے جو واقعات و حادثات ان میں سے کسی ایک ملک میں رونما ہوتے ہیں ان کا سیدھا اثر دوسرے ملک کے حالات پر مرتب ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 2011 میں عرب بہاریہ کی جو ہوا تیونس سے چلی تھی اس نے جزیرۃ العرب اور مصر و لیبیا کے علاوہ ملک شام کو بھی بری طرح متاثر کیا اور اس کے اثرات پڑوسی ممالک پر پڑے جن میں ترکی کو بطور خاص اس کے اثرات قبول کرنے پڑے کیونکہ وہ ملک شام کا بالکل متصل پڑوسی ہے۔ عرب بہاریہ کا طوفان جب تھم گیا تو تیونس اور مصر میں کسی قدر استحکام تو پیدا ہوگیا لیکن وہاں بھی وہ اقتصادی اور سماجی مسائل حل نہیں ہوئے جن کو حل کرنے کے لئے یہ تحریک کھڑی ہوئی تھی۔ البتہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ سیاسی طور پر یک گونہ استحکام ان ملکوں میں موجود ہے۔ لیکن شام اور لیبیا دو ایسے ممالک ہیں جہاں نہ صرف اقتصادی اور سماجی بحران کا ڈیرا اب تک قائم ہے بلکہ سیاسی بحران میں بھی روز بروز اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ شام کی حالت قدرے زیادہ نازک ہے کیونکہ جس بشار الاسد کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لئے مسلح تحریکیں وجود میں آئی تھیں اور دنیا کی بڑی طاقتوں نے اپنے اپنے مفادات کو پیش نظر رکھ کر ان مسلح گروہوں کا استعمال کیا تھا اور شام کے معصوم عوام پر مہلک ترین ہتھیاروں کا تجربہ کرکے لاکھوں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا اب اسی بشار الاسد کو دوبارہ سے اقتدار میں واپس لانے کے لئے راہیں ہموار کی جا رہی ہیں۔ ترکی کے صدر طیب اردگان جو ماضی میں بشار الاسد کے تئیں اپنے موقف میں کئی بار تبدیلیاں کر چکے ہیں وہ ایک بار پھر اپنے ملک کے اندرونی حالات کے دباؤ اور روس کے سمجھانے پر اس بات کے لئے تقریبا راضی ہو چکے ہیں کہ شام کے بشار الاسد کے ساتھ تعلقات کو بہتر کیا جائے اور 2011 سے قبل کے حالات کو واپس لایا جائے۔ اس سلسلہ میں اب باضابطہ ملاقاتوں کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ہے۔ پہلے ترکی اور شام کے اعلی عہدیداران کے درمیان جو ملاقاتیں ہوتی تھیں ان کے بارے یا تو میڈیا کو اطلاع نہیں دی جاتی تھی یا پھر ان کے بارے میں گول مول جواب دے دیا جاتا تھا۔ لیکن 28 دسمبر 2022 کو موسکو کے اندر ترکی اور شام کے وزراء دفاع کی جو ملاقات روس کی وساطت سے ہوئی تھی اس کو کسی طرح بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی گئی بلکہ باضابطہ طور پر اس کے متعلق تفصیلات کو میڈیا میں پیش کیا گیا۔ اسی ملاقات کے تناظر میں یہ بات بھی بتائی گئی تھی کہ اس کے بعد اب دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کے درمیان بھی فروری 2023 میں ملاقات متوقع ہے۔ اگر سب کچھ پلان کے مطابق جاری رہا تو تیسرے مرحلہ میں دونوں ملکوں کے صدور یعنی ترکی کے رجب طیب اردگان اور شام کے بشار الاسد کے درمیان بھی ملاقات ہوگی اور اس کے بعد بشار اسد کو جواز فراہم کرنے کے مسائل پر غور و خوض شروع ہو جائے گا۔ ان سطور کے عام قارئین کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ اگر ترکی کو شام کے ساتھ تعلقات کی بحالی میں اس قدر دلچسپی ہے تو آخر شام کے شمال اور شمال مشرقی علاقوں میں وہ بمباری کیوں کر رہا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ترکی نے اس بمباری کا جواز یہ پیش کیا ہے کہ حال ہی میں استنبول کے اندر ’تقسیم‘اسکوائر والے علاقہ میں جو بم دھماکہ ہوا تھا اس کے پیچھے ان مسلح کرد جماعتوں کے لیڈران کا ہاتھ تھا جنہیں ترکی نے دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔ یہ فوجی کارروائی انہی عناصر کے خلاف ہو رہی ہے جو ترکی کی نظر میں دہشت گرد اور اس کے اندرونی سیکورٹی کے لئے خطرہ ہیں۔ اس بات کی تائید ابراہیم کالین کے اس بیان سے بھی ہوتی ہے جو انہوں نے 13 جنوری 2023 کو استنبول میں دیا ہے۔ ابراہیم کالین ترکی صدر کے اعلی ترین افسر ہیں اس لئے ان کی باتیں پالیسیوں کی جہت کو سمجھنے میں زیادہ معاون ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی میڈیا کے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ فروری میں شام و ترکی کے وزرائے خارجہ کی جو ملاقات متوقع ہے اس سے قبل ایک بار دوبارہ سے دونوں ملکوں کے وزرائے دفاع کی ملاقات کا امکان ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دسمبر میں جس سیاسی عمل کا آغاز ہوا ہے ہم اس کی تائید کرتے ہیں۔ ساتھ ہی اس بات پر بھی زور دیا کہ شام میں جو فوجی کارروائیاں جاری ہیں وہ ملک شام یا وہاں کے شہریوں کے مفادات کو نشانہ نہیں بنا رہی ہیں۔ انہوں نے ترکی کی اس فوجی کارروائی کے پس منظر کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ 2019 میں ترکی نے کرد مسلح جماعتوں کے خلاف جو کارروائی کی تھی اس کا مقصد بھی ترکی کی سرحدوں کو محفوظ کرنا تھا۔ اس موقع پر ترکی نے شام میں اپنی فوجی کارروائی کا سلسلہ اس لئے روک دیا تھا کیونکہ امریکہ اور روس نے ترکی کو بعض سیکورٹی سے متعلق گارنٹیاں دی تھیں جن کے تحت کرد مسلح جماعتوں کو ترکی کی سرحد سے تیس کیلو میٹر دور ہٹ جانا چاہئے تھا۔ لیکن کرد اسلحہ برداروں نے اس وعدہ پر عمل نہیں کیا اور استنبول تک میں دہشت گردانہ حرکتیں کرنے لگ گئے۔ اس لئے ان کے خلاف یہ فوجی کارروائی ضروری ہوگئی۔ ترکی نے بار بار یہ کہا ہے کہ اگر کرد مسلح گروہ سرحد سے تیس کیلو میٹر دور نہیں ہٹتے ہیں تو زمینی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ شام کے ساتھ بحال تعلقات کے پیچھے صرف اتنا معاملہ نہیں ہے۔ دراصل ترکی کے اندر اس برس جون کے مہینہ میں صدارتی انتخابات ہونے والے ہیں اور بعض میڈیا رہورٹوں کے مطابق اس سے قبل یعنی مئی میں بھی انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔ اب ایسی حالت میں جب کہ ابھی تک اقتصادی محاذ پر مسائل میں کوئی خاص کمی نہیں آئی تھی اپوزیشن پارٹیوں نے اردگان کے لئے ایک نیا اور حساس مسئلہ پیدا کر دیا۔ ’عوامی جمہوریت پارٹی‘ کی قیادت نے سب سے پہلے یہ وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ انتخابات میں جیت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ترکی میں موجود شامی پناہ گزینوں کو ان کے ملک بھیجنے کا کام کریں گے۔ اس سلسلہ میں سب سے تیز حملہ اپوزیشن پارٹی کے لیڈر محرم اینجہ کر رہے ہیں جو کبھی ’عوامی جمہوریت پارٹی‘ سے وابستہ ہوا کرتے تھے لیکن اب انہوں نے اپنی الگ پارٹی بنالی ہے اور اس بات کا امکان ہے کہ گزشتہ بار کی طرح اس بار بھی صدارتی انتخابات میں وہ اردگان کے مقابلہ میدان میں اتریں گے۔ انہوں نے صدر اردگان پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے بہت سے شامی پناہ گزینوں کو شہریت عطا کر دی ہے جو آئندہ انتخابات میں اردگان کی پارٹی اے کے پی کے حق میں ووٹ کریں گے۔ گویا شامی پناہ گزینوں کا وجود اردگان کے لئے مفید ہے اور وہ اسی لئے انہیں واپس بھیجنا نہیں چاہتے جبکہ ترکی کی معاشی حالت اس بات کی متحمل نہیں ہے۔ انہوں نے اپنے حامیوں سے کہا کہ اگر ان کی پارٹی فتحیاب ہوتی ہے تو سرحدوں کو بند کر دیا جائے گا اور ایک ایک شامی پناہ گزیں کو پکڑ پکڑ کر واپس بھیج دیا جائے گا۔ اس سے پہلے ’عوامی جمہوریت پارٹی‘ نے اس موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ بشار اسد کے ساتھ اس مسئلہ پر سمجھ داری بڑھائیں گے اور شامی گزینوں کو ان کے ملک بھیجنے کا انتظام کریں گے۔ طیب اردگان نے در اصل اپوزیشن کے ہاتھوں سے اس بینر کو چھین کر خود اپنے ہاتھ میں لے لیا اور ان کے دباؤ میں انہیں بشار اسد کے ساتھ تعلقات کی استواری اور شامی پناہ گزینوں کی واپسی کا راگ الاپنا پڑ گیا اور اسد نظام کے ساتھ جو ملاقاتوں کا سلسلہ ان دنوں جاری ہے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے گزشتہ ہفتہ اردگان نے یہ اعلان بھی کر دیا کہ دس لاکھ شامی پناہ گزینوں کو واپس ان کے ملک میں بسانے کا پلان تیار ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ شام کے شمالی حصہ میں جاری ترکی کی فوجی کارروائی کے نتیجہ میں جو وسیع علاقے حاصل ہوئے ہیں ان میں اب تک پانچ لاکھ سے زائد شامی پناہ گزینوں کو بسایا بھی جا چکا ہے۔ ابھی 37 لاکھ سے زائد شامی پناہ گزیں ترکی میں موجود ہیں جن میں سے ساڑھے پانچ لاکھ تو خود استنبول میں پناہ گزیں ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اگر روس کی یہ ثالثی کامیاب ہوجاتی ہے تو بشار الاسد کا سیاسی مستقبل کیا ہوگا؟ کیونکہ بشار کے خلاف جنگی جرائم کی ایک طویل فہرست موجود ہے۔ امریکہ نے اس تناظر یہ اپنا بیان دے کر یہ صاف کر دیا ہے کہ وہ بشار الاسد کے لئے کوئی سیاسی مستقبل نہیں دیکھ رہا ہے اور اس سلسلہ میں اقوام متحدہ نے جو قرارداد پاس کیا ہے اس کی روشنی میں ہی شام کا مسئلہ حل ہوگا۔ اس کے علاوہ مقامی مزاحمت کار جماعتیں بھی اس سے خوش نہیں ہیں اور انہوں نے دوبارہ بشار اسد کے خلاف موچہ کھول دیا ہے۔ لیکن ترکی کو غالبا اس بات کا اندازہ ہے کہ روس۔ یوکرین جنگ نے امریکہ اور مغرب کے ہاتھ باندھ دیئے ہیں اس لئے وہ زیادہ رکاوٹیں پیدا نہیں کر سکیں گے اور موجودہ حالت میں ترکی کی ضرورت انہیں سب سے زیادہ ہے۔ البتہ اس کے باوجود ایک سوال حل نہیں ہوپائے گا۔ اور وہ یہ ہے کہ شام کی تعمیر نو کے لئے جو فنڈ درکار ہے وہ امریکہ اور مغرب کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہوگا کیونکہ روس مالی اعتبار سے اس پوزیشن میں بالکل نہیں ہے کہ اتنی بڑی ذمہ داری اپنے سر لے سکے۔ یہ دیکھنا بڑا دلچسپ ہوگا کہ اردگان اور پوتین اس مرحلہ کو پار کرنے میں کس حد تک کامیاب ہو پاتے ہیں۔
مضمون نگار سینٹر فار انڈیا ویسٹ ایشیا ڈائیلاگ کے وزیٹنگ فیلو ہیں