دہلی۔۔۔اقتدار کی کشمکش

0

قومی راجدھانی دہلی میں اقتدار کی تقسیم کے معاملے پر عرصہ سے تنازع ہے ۔ اس تنازع کا مرکزی نقطہ دہلی پر انتظامی کنٹرول کا ہے یا یہ بھی کہاجاسکتا ہے کہ یہ دہلی کی منتخب حکومت اورمرکزی حکومت کے ذریعہ مقرر کردہ لیفٹیننٹ گورنر ( ایل جی) کے درمیان اقتدار کی کشمکش ہے۔دونوں کے درمیان انسداد بدعنوانی بیورو، سول سروس، بجلی بورڈاور دیگراداروں و ایجنسیوں پر کنٹرول کیلئے متعدد مواقع پر جھگڑے ہوچکے ہیں۔ مرکز کاکہنا ہے کہ کسی بھی معاملے پر لیفٹیننٹ گورنر اور وزرا کی کونسل کے درمیان اختلاف کی صورت میں متعلقہ معاملہ لیفٹیننٹ گورنر صدر جمہوریہ کو بھیجے گا اور زیر التوا کیس کی صورت میں لیفٹیننٹ گورنر کو اپنی صوابدید کے مطابق اس کیس پر کارروائی کرنے کا حق حاصل ہوگا لیکن دہلی حکومت کے حقوق کو واضح کرنے کیلئے سپریم کورٹ نے جولائی 2018 میں ایک تاریخی فیصلہ دیتے ہوئے کجریوال حکومت کو دہلی کا بگ باس کہا تھا ۔تاہم اس فیصلے کے بعد بھی یہ تنازع ختم نہیں ہوا اور مرکزی حکومت نے سال 2021میں گورنمنٹ آف نیشنل کیپٹل ٹیریٹری آف دہلی ایکٹ 1991 میں ترمیم کرکے تنازع ختم ہونے کے امکانات کی ہی جڑ کاٹ ڈالی۔
اقتدار کی یہ کشمکش اب ایک بار پھر سپریم کورٹ جاپہنچی ہے۔ جہاں 5نفری آئینی بنچ اس معاملے کی سماعت کررہی ہے ۔یہ معاملہ دہلی میں افسران کے ٹرانسفر، پوسٹنگ اور سروس ڈپارٹمنٹ سے متعلق ہے ۔اس معاملہ میں تشارسالیسٹر جنرل کے طور پر مرکز ی حکومت کی وکالت کررہے ہیں۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ کسی علاقے کو یونین ٹیریٹری بنانے کا مقصد یہ ہے کہ مرکز اسے اپنے طور پر چلانا چاہتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ اس کا انتظام اپنے دفاتر کے ذریعے کرنا ہے۔اس لیے تمام مرکز کے زیر انتظام علاقے مرکزی سول سروسز اور مرکزی حکومت کے افسران کے زیر انتظام ہیں اور ان افسران کے ٹرانسفر اور پوسٹنگ کا اختیار بھی مرکز کے پاس ہونا چاہیے۔ یہ حق اور ا ختیارمرکزی حکومت کا ہی ہے کہ کس کا تقرر کیا جائے گا اور کون کس محکمہ کا سربراہ ہوگا۔
سالیسٹر جنرل کا دعویٰ ہے کہ قومی راجدھانی ہونے کے ناطے دہلی کی ایک ’منفرد حیثیت‘ ہے اور یہاں رہنے والے تمام لوگوں کو اپنائیت کا احساس ہونا چاہیے ۔’ منفرد حیثیت‘ کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دارالحکومت اقتدار کی کرسی ہے، جہاں مرکزی حکومت بیٹھتی ہے۔ باقی تمام ممالک کے نمائندوں کے اپنے سفارت خانے‘ کمیشن‘ قونصل خانے ہیں۔ عالمی رہنما بھی ملک کے دارالحکومت کا دورہ کرتے ہیں اور یہ کسی بھی ملک کا سرمایہ ہوتا ہے جو دنیا کے سامنے ملک کا چہرہ بن جاتا ہے۔اس لیے اس پر مرکز کا اختیار ہونا لازمی ہے ۔موصوف نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ آئین سے پہلے اور آئین کے بعد کے دور میں ملک کی راجدھانی کو خصوصی درجہ دینے اور تمام قانون سازی میں مرکز کا کنٹرول برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ دنیا کے تمام ممالک کے تمام دارالحکومتوں کے مطابق ہے کیونکہ کسی بھی ملک کے دارالحکومت کو ایک خاص حیثیت برقرار رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
دہلی پر انتظامی مرکز کے انتظامی کنٹرول کا سیدھا سادا مطلب ہے کہ وہاں منتخب حکومت کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی ہے اور یہی سوال سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے بھی کیا ہے۔ چیف جسٹس ڈی وائی چنڈر چوڑ کی قیادت والی آئینی بنچ نے پوچھا ہے کہ اگر دارالحکومت کا پورا انتظامی کنٹرول مرکزی حکومت کے پاس ہے تو دہلی میں منتخب حکومت کا کیا مطلب ہے؟ یہی بنیادی سوال ہے اور اسی کے جواب میں دہلی کی منتخب حکومت اور مرکز کے درمیان جاری تنازع کا حل بھی پوشیدہ ہے ۔
یہ درست ہے کہ دہلی کو مکمل ریاست کا درجہ حاصل نہیں ہے ۔ آئین کے شیڈول I کے تحت مرکز کے زیر انتظام دہلی راجیو گاندھی کی حکومت میں سرکاریہ-بالا کرشنن کمیٹی کی رپورٹ کے بعد آئین کے69ویں ترمیمی ایکٹ کے ذریعہ آرٹیکل 239AA کے تحت ’قومی دارالحکومت علاقہ‘ بنا۔اور اسی آئین کے تحت اسے ایسامرکزی علاقہ قرار دیاگیا جہاں لیفٹیننٹ گورنر جو منتخب قانون ساز اسمبلی اور وزارتی کونسل کی مدد اور مشورے پر کام کرتا ہے۔
اتنی واضح صراحت کے باوجود یہ رسہ کشی اور تنازع اقتدار اور بالادستی قائم رکھنے کی کوشش ہے ۔سالیسٹر جنرل چاہے جتنی اور جیسی دلیلیں گڑھ لیں کسی منتخب حکومت کے کام کاج میں ایل جی کی مداخلت آئین سے ماور اہی قرار دی جائے گی۔ بہتر تویہی ہوگا کہ دونوں ہی حکومتیں آئینی اعتماد اور معاونت کے اصول پر کام کریںاور اپنی اپنی مفوضہ ذمہ داریاں نبھائیں۔
[email protected]