زمین کھا گئی آسماں کیسے کیسے

0

نیاز احمد سجاد ندوی ( مقیم کویت )
برادرم محمود حسن سے ابھی ایک ماہ پہلے مؤرخہ 4 جولائی کو ان کی تکیہ رہائش گاہ پر ملاقات ہوئی تھی اور ملاقات کے دوران ان کی طبیعت ہشاش بشاش تھی لیکن نقاہت کا اندازہ اس طور پر ہو رہا تھا کہ وہ بمشکل سیدھے بیٹھ پا رہے تھے اس کے باوجود ہمت و جرأت اور عزم و حوصلہ کے آگے ساری چیزیں پست نظر آرہی تھیں۔ ان کا وہی انداز گفتگو جو کلاس کے درمیان طالب علمی کے دور میں ہوا کرتا تھا۔مرحوم چونکہ میرے ہم درس تھے، عالمیت کے ساتھ ساتھ فضیلت بھی ساتھ میں کیا تھا اور چند ایام رائے بریلی میں حضرت مرحوم علی میاں ندوی سے شرف تلمذ حاصل کرنے کی غرض سے دار عرفات میں رہنے کا اتفاق ہوا جہاں برادرم محمود کی ضیافت اور ساتھیوں کا خیال اس قدر کرتے تھے کہ لگتا تھا کہ ہم لوگ اپنے گھر پر ہیں۔ان کی خاکساری اور تواضع کے سبھی ساتھی قائل تھے۔ لا یعنی اور فضول باتوں سے ہمیشہ دور رہتے حالانکہ درجے کے کچھ ساتھی کبھی چھیڑتے یا کینٹین چلنے کے لئے کہتے تو وہ برجستہ کہتے کہ مجھے کینٹین بازی سے سخت نفرت ہے بلکہ انہیں دیگر بازیوں سے بھی سخت نفرت تھی اور جب بھی کوئی ایسا موقع آتا تو وہ مسکراتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے گزر جاتے کہ ٹھیک ہے ملتا ہوں۔ فضیلت کرنے کے بعد کچھ دنوں تک میں جمعیت شباب اسلام سے منسلک رہا پھر اس کے بعد مزید اعلی تعلیم کی غرض سے دلی آ گیا اور محمود حسنی دعوہ کرنے کے بعد درس و تدریس سے منسلک ہو گئے اور تا حیات اسی سے جڑے رہے اور میں مزید جامعہ ملیہ اور دہلی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرکے کویت چلا گیا اور جب کبھی انڈیا آتا تھا تو ندوہ بھی جانا ہوتا تھا اور برادرم محمود سے قصداً اور بلا قصداً ملاقات بھی ہو جایا کرتی تھی لیکن اس بار کی ملاقات ماضی کی ملاقات سے قدرے مختلف تھی لگتا ہے جس کا احساس برادرم کو قبل از وقت ہو گیا تھا جس کا عکس اظہار گفتگو میں نمایاں جھلک رہا تھا۔
عرصہ دراز کے بعد ایسی ملاقات ہوئی تھی جبکہ فون پہ گاہے بگاہے بات ہو جایا کرتی تھی یاں البتہ بالمشافہ گفتگو ایک عرصہ دراز کے بعد ہوئی تھی۔وہ ملاقات سے حد درجہ خوش تھے اور کہہ رہے تھے کہ نیاز واقعی تم نے ہم درس نہیں بلکہ ایک عزیز ہونے کا ثبوت دیا ہے اور صرف اور صرف تم مجھ سے ملاقات کرنے اور مزاج پرسی کے لئے یہاں آنے کی زحمت گوارہ کی،یہ بہت بڑی بات ہے، اللہ تمہیں سلامت رکھے اور خوب ساری دعائیں دیں اور مزید دوسرے ساتھیوں اور ہم درس احباب کا بھی تذکرہ ہو رہا تھا اور کہہ رہے تھے کہ دوران سال اپنے کئی ساتھی داغ مفارقت دے گئے۔ برادرم اعجاز قطب ندوی،برادرم شاکر بدایونی ندوی،برادرم عبد الرحمن ندوی اللہ کے پیارے ہو گئے اللہ ان تمام حضرات کی مغفرت فرمائے اور غریق رحمت کرے آمین ثم آمین اور مجھے برجستہ وہ شعر یاد آ رہا تھا کہ
ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے
زمین کھا گئی آسماں کیسے کیسے
اتنے میں عزیزم معاذ کچھ مشروب اور اپنے باغ کے پھل لے کر حاضر ہو گئے اور کہا کہ کھاؤ بھی اور ساتھ لیتے بھی جانا اپنے باغ کا ہے۔ ان کی ضیافت دیکھ کر مجھے خاتون منزل کی کچھ پرانی یادیں تازہ ہو رہی تھیں جب کبھی گھر میں ایام تعطیل کوئی نہیں رہتا تھا تو اپنے ساتھ گھر پہ بلا لیتے یا گھر کی چابی دے کر چلے جاتے اور میرے کھانے اور چائے ناشتہ کا پورا انتظام کرکے جاتے یا پھر استاد مکرم مولانا سلمان حسینی صاحب کے یہاں کہہ کر جاتے کہ نیاز میرے گھر پر رکے ہوئے ہیں ان کا خیال رکھیے گا۔
پھر انہوں نے کویت میں مقیم ندوی حضرات کے بارے میں پوچھا اور کہا کہ اپنے ساتھیوں میں وہاں کون کون ہیں اور سب ہی کو میرا سلام عرض کرنا اور خاص طور سے صحت کے لئے دعا کرنا۔
مرحوم کی کن کن صفات کا ذکر کروں، وہ ایک نابغہ روزگار شخصیت اور خانوادہ حسنی کے چشم وچراغ تھے ، ان کی کون کون سی یادوں کو زیر قرطاس کروں کہاں سے شروع کروں اور کہاں ختم کروں۔
زمیں کاغذ کی بن جائے سمندر روشنائی کا
قلم کچھ لکھ نہیں سکتا کہ صدمہ ہے جدائی کا
مرحوم نے واقعتاً بہت ہی قلیل عرصے میں وہ کارہائے نمایاں انجام دیئے۔کئی کتابیں تصنیف کر ڈالیں۔ کتنے مضامین کو مرتب کرکے طباعت سے آراستہ کرکے رہتی دنیا تک تابندہ کر دیا۔کتنے بزرگان دین،مشائخ اور اولیائے کرام کے ملفوظات اور تذکرہ حیات قلمبند کرکے علمی ذخیرہ کو محفوظ کر دیا، سوانح نگاری اور سیرت نگاری میں خاصا ملکہ حاصل تھا مثال کے طور پر امیر الدعوہ والتبلیغ حضرت مولانا زبیر الحسن کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ،محی السنہ حضرت شاہ ابرار الحق رحمۃاللہ علیہ، تذکرہ شاہ ولی اللہ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ ،تذکرہ حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ، سوانح حضرت مولانا سید محمد ثانی حسنی رحمۃ اللہ علیہ، تذکرہ حضرت مولانا محمد یونس جونپوری رحمۃ اللہ علیہ،داعی حق حضرت استاد عبد اللہ حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ اور سوانح حضرت مولانا محمد عبد الباری بھٹکلی رحمۃ اللہ علیہ اور اس کے علاؤہ تجدید معاشرت، فرشتہ صفت انسان ،تاریخ اصلاح و تربیت ،سلاسل اربعہ ،ہدیہ درود و سلام اور کئی رسالے اور کتابچے شامل ہیں جو مرجع کی حیثیت رکھتے ہیں ، اس کے علاوہ بہت سے عنوانات پر ان کے قلم نے بیش بہا و قیمتی سرمایہ چھوڑا ہے اور کم وقت میں جو خدمات انجام دی ہیں اپنے ساتھیوں اور ہم عصروں میں شاید ہی کسی نے انجام دیئے ہوں۔
راہ دیکھا کرے گا صدیوں تک
چھوڑ جائیں گے یہ جہاں تنہا
لیکن کیا خبر تھی کہ مشیت یزدی کو کچھ اور ہی منظور تھا اور وہ گھڑی 12 اگست کو آ ہی گئی اور برادرم کے وصال پر ملال کی خبر ملی کہ انہوں نے اپنی جان جان آفریں کو سپرد کردی،انا للہ و انا الیہ راجعون۔ واقعتاً یہ حادثہ بہت ہی دل دوز ہے جس سے پورا دل،ماغ مائوف ومغموم و افسردہ ہے اور صبر کے علاؤہ کوئی چارہ کار نہیں۔
خزاں لوٹ ہی لے گئی باغ سارا
تڑپتے رہے باغباں کیسے کیسے
برادر مرحوم کا اس کم عمری میں چلا جانا صرف ہم ساتھیوں کے لئے نہیں بلکہ پوری ندوی برادری اور علمی دنیا کے لئے بہت بڑا خسارہ ہے اور ایسا خلا ہے جس کا پر ہونا ناممکن ہے۔
بس اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے یہی دعا ہے کہ اللہ ان کو غریق رحمت کرے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور امت مسلمہ کو اس کا صحیح نعم البدل عطا فرمائے اور وارثین اور پسماندگان اور احباب کو صبر جمیل عطا فرمائے۔آمین ثم آمین۔
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
ایک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

[email protected]