پاکستانی بھاگ چند کولھی کیسے قراردیا گیا جاسوس، کب ملی اسے انڈین جیل سے رہائی؟

0
Image: BBC Urdu

اسلام آباد (ایجنسی)17 سالہ بھاگ چند کولھی اب صرف ہندی زبان میں بات کرتے ہیں۔ ان کو نہ تو اپنی مادری زبان’ڈھاٹکی‘یاد ہے اور نہ ہی اب وہ سندھی زبان سمجھتے ہیں۔ انڈیا کے ’باڑ میر جووینائل جیل‘(نابالغوں کی جیل) میں تقریباً ایک سال کی قید کاٹنے کے بعد بھاگ چند اپنی مادری زبان بھول گئے تھے۔ بھاگ چند کولھی کا تعلق پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع عمرکوٹ سے ہے۔ رواں ہفتے وہ انڈیا کی جیل سے رہا ہو کر واپس پاکستان پہنچے ہیں۔ اُن کا تعلق ہندو کولھی کمیونٹی کے کسان خاندان سے ہے۔ بھاگ چند کے بھائی تارا چند نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا بھائی عمر کوٹ کے قصبے غلام نبی شاہ میں چچا کے ساتھ رہتے تھے اور وہاں پر کپاس کی چُنائی کا کام کرتے تھے۔
تارا چند کے مطابق ایک روز ان کے بھائی نے چچا کو بتایا کہ وہ اپنے گھر جا رہے ہیں۔ اُن کا مکان غلام نبی شاہ قصبے سے سو کلومیٹر دور کنری شہر کے قریب تھا جبکہ اُن کی بہنیں سرحدی علاقے کھوکھرا پار میں رہتی ہیں۔تارا چند کے مطابق بھاگ چند گھر جانے کے بجائے اپنی بہنوں کی طرف چلے گئے۔’زمینوں پر گھومتے گھومتے وہ سرحد کے اُس پار چلا گیا۔ یہاں اس کو روکنے یا خبردار کرنے والا کوئی نہیں تھا جبکہ سرحد پر بھی چھوٹی باڑ لگی ہوئی تھی۔ وہ سمجھا کہ جیسے زرعی زمینوں پر باڑ لگاتے ہیں، یہ ویسی ہی باڑ ہے۔ اس کو یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ دو ملکوں کی سرحدوں کو تقسیم کرنے والی باڑ ہے۔‘’وہ سمجھا کہ جیسے زرعی زمینوں پر باڑ لگاتے ہیں، یہ ویسی ہی باڑ ہے۔ اس کو یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ دو ملکوں کی سرحدوں کو تقسیم کرنے والی باڑ ہے‘۔تارا چند نے بتایا کہ ان کے بھائی بھاگ چند کو انڈین بارڈر سکیورٹی فورس نے باڑ میر پولیس کے حوالے کیا اور اس کے بعد انھیں میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا۔
بھاگ چند پر جاسوسی کا الزام عائد کیا گیا تاہم انھوں نے مسلسل یہی مؤقف رکھا کہ وہ جاسوس نہیں ہیں اور محض غلطی سے سرحد عبور کر کے انڈیا کی حدود میں داخل ہو گئے تھے۔
بقول تارا چند کے، اُن کے بھائی نے انھیں بتایا کہ جیل میں قید کے دوران ان پر کبھی بھی تشدد نہیں کیا گیا اور نہ ہی ہتھکڑیاں لگائی گئیں کیونکہ وہ اٹھارہ سال سے کم عمر تھے، اور اسی بنیاد پر ان کو نابالغوں کی جیل میں رکھا گیا۔
بھاگ چند کی حراست کی خبر آنے پر انڈیا کے بعض چینلز نے انھیں ’گھس بیٹھیا’ قرار دیا تھا۔انڈیا میں داخل ہوتے وقت بھاگ چند نے سبز رنگ کا لباس پہنا ہوا تھا جو پاکستان کے اس علاقے میں عام طور پر پہنا جاتا ہے اور انڈیا کے مطابق انھوں یہ ’کیمو فلاج‘ یعنی آسانی سے نظر نہ آنے کی غرض سے پہنا ہوا تھا۔تارا چند کے مطابق وہ ایک ماہ تک بے خبر تھے کہ ان کا بھائی گمشدہ ہے۔ انھوں نے جب اپنے چچا سے رابطہ کیا تو انھوں نے خبر دی کہ وہ تو ایک ماہ قبل ہی جا چکا ہے۔جب تارا چند نے اس کے بعد بہنوں سے رابطہ کیا تو وہ سمجھ رہی تھیں کہ وہ ان کے پاس پہنچنے والے ہیں لیکن انتظار کرنے کے باوجود وہ نہ پہنچے۔
‘ہمارے موبائل فون نمبر پر انڈیا سے فوج نے فون کیا اور کہا کہ یہ آپ کا لڑکا ہے جو سرحد پار آ گیا ہے۔‘تارا چند نے کہا کہ ہم لوگ تعلیم یافتہ نہیں ہیں تو وہ بھائی کی رہائی کے لیے نہ کسی سے رابطہ کر سکے نہ کسی کو درخواست وغیرہ دی اور صرف اس کو قسمت کا لکھا سمجھ کر خاموش ہو کر بیٹھے گئے۔
بھاگ چند پر جاسوسی کا الزام عائد کیا گیا تاہم انھوں نے مسلسل یہی مؤقف رکھا کہ وہ جاسوس نہیں ہیں اور محض غلطی سے سرحد عبور کر کے انڈیا کی حدود میں داخل ہو گئے تھے۔ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق حکام نے بتایا کہ بھاگ چند کھوکھرا پار مونا باؤ سرحد پر کانٹے دار تاریں پھلانگ کر انڈیا کی حدود میں داخل ہو گئے تھے۔
اس کے بعد انھیں نو ستمبر 2020 کو بارڈر سکیورٹی فورس نے مقامی پولیس کے حوالے کیا۔ بھاگ چند پر شبہ تھا کہ وہ پاکستان کے لیے جاسوسی کرنے داخل ہوا ہے لہٰذا اس کو جے پور میں تفتیش کے لیے پیش کیا گیا۔باڑ میر پولیس کے مطابق تمام ایجنسیز نے اس سے پوچھ گچھ کی لیکن اس سے کوئی بھی قابل اعتراض چیز دستیاب یا برآمد نہیں ہوئی۔اس کے بعد راجستھان حکومت نے این او سی جاری کیا تاکہ بھاگ چند کو پاکستان بھیجنے کے انتظامات مکمل کیے جائیں۔تارا چند کے مطابق جیل میں کھیلنے، پڑھنے کی سہولت موجود تھی اور ان کے بھائی نے انھیں بتایا کہ جیل میں ان کو سبزی اور چپاتی کھانے میں اکثر دی جاتی تھی۔
لیکن بھاگ چند کے اعتراض کے بعد انھیں راشن دیا جانے لگا اور وہ خود سے کچی پکی سبزی، دال اور چپاتی بناتے تھے۔ اس کے علاوہ ہولی، دیوالی اور دیگر تہواروں پر انھیں حلوہ اور دیگر میٹھی اشیا بھی دی جاتی تھیں۔’بھاگ چند نے راجستھان سرکار کو ایک عرضی بھی لکھی تھی کہ ان سے ملاقات کے لیے کوئی نہیں آتا اور نہ ہی کوئی سامان وغیرہ دے جاتا ہے۔ نہ ہی اس کی والدین سے ٹیلیفون پر بات کرائی جاتی بلکہ بہانے کیے جاتے ہیں لہٰذا اس کی مدد کی جائے۔ اس کے بعد راجستھان سرکار نے تیس ہزار روپے فراہم کیے تھے جس سے ان کے لیے کپڑے وغیرہ خریدے گئے۔’
تارا چند کا کہنا ہے کہ جیل میں ایک شخص ہندی کی ٹیوشن پڑھاتا تھا۔ اس کے علاوہ انھوں نے بتایا کہ بھاگ چند جیل کے اندر لوڈو، کیرم بورڈ، اور بیڈ منٹن کھیلتے تھے۔ جیل کے اندر کیمرے لگے ہوئے تھے جس سے ان کی اور دیگر قیدیوں کی نگرانی کی جاتی تھی۔ اس جیل میں ان کے علاوہ ایک درجن کے قریب دیگر نو عمر قیدی تھے جو سب انڈین تھے۔
انڈیا اور پاکستان کے درمیان بہتر تعلقات کے لیے کوشاں ایک تنظیم ’آغازِ دوستی‘ کے ذریعے حاصل کی گئی ایک فہرست کے مطابق 2019 جنوری میں انڈیا میں قید پاکستانی شہریوں کی تعداد 249 ہے اور پاکستانی حراست خانوں میں قید انڈین شہریوں کی تعداد 537 ہے۔ عام طور پر ایسے قیدیوں کو رہائی ملنے میں برسوں لگتے ہیں لیکن بھاگ چند کولھی بہت خوش قسمت رہے کہ وہ محض چند ہی مہینوں میں رہا ہو گئے۔ اس کی ایک بہت بڑی وجہ یہ تھی کہ ان کی عمر 18 سال سے کم تھی یعنی وہ نابالغ تھے۔
باڑمیر ڈسٹرکٹ چائلڈ پروٹیکشن یونٹ کے سربراہ اشونی شرما نے بی بی سی کو بتایا کہ ’کیوںکہ بھاگ چند کولھی غیر ملکی تھے، انھیں علیحدہ طور پر ’نیڈ اینڈ کیئر سیل‘ یعنی نگہداشت مرکز میں رکھا گیا تھا۔‘اشونی شرما نے مزید بتایا کہ ’جیسا کہ چائلڈ پروٹیکشن سینٹر میں بچوں کے تعلیم کا انتظام ہوتا ہے، انھیں بھی پڑھایا لکھایا جاتا تھا۔ کیونکہ وہ غیر ملکی تھے اور انھیں زیادہ تر علیحدہ رکھا جاتا تھا، اس لیے ان کے لیے الگ سے ٹیوٹر کا انتظام تھا۔ ’وہ پڑھنا نہیں جانتا تھے، لیکن دھیرے دھیرے ہندی پڑھنا سیکھ گئے۔‘
وہ مزید بتاتے ہیں کہ بھاگ چند کولھی ’سنجیدہ طبیعت کے مالک تھے لیکن چائلڈ پروٹیکشن سینٹر میں دیگر بچوں کے ساتھ کھیل کود میں بھی حصہ لیتے تھے۔‘’تم وطن جارہے ہو‘بھاگ چند اپنی رہائی کے فیصلے سے مکمل طور پر لاعلم تھے۔تارا چند کے مطابق انھیں بھاگ چند نے بتایا کہ انھیں رہائی ملنے کی خبر رہائی سے صرف ایک روز قبل ہی بتائی گئی تھی جو کہ ان کے لیے نہایت حیرانی اور خوشی کا باعث بنی ورنہ وہ اپنی واپسی کے حوالے سے مکمل طور پر مایوس ہو چکے تھے۔
تارا چند کے بقول چھ بھائی بہنوں میں سب سے چھوٹے بھاگ چند کی رہائی ہونے کے بعد ان کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں تھے کہ وہ بھائی کو لینے لاہور جاتے اور اسی وجہ سے ایدھی فاؤنڈیشن نے حیدرآباد پہنچایا جہاں جا کر تارا چند اپنے بھائی سے مل سکے۔

 

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS