ہمارے سماج میں کسان کا با وقار مقام: خواجہ عبدالمنتقم

0

خواجہ عبدالمنتقم

زراعت ایک طویل عرصے سے ہندوستانیوں کا ایک اہم پیشہ رہا ہے اور ہر شعبۂ حیات بالواسطہ یا بلاواسطہ زراعت سے جڑا ہوا ہے۔ زراعت انسانی زندگی کے لیے نسخۂ کیمیا ہے۔ معیشت کی پائیدار ترقی(sustainable development)کے لیے زراعت کی ترقی ضروری ہے۔ زرعی معیشت میں کسان کی وہی اہمیت ہے جو جسمانی نظام میں شہ رگ کی۔ کسان کی صرف اقتصادی نقطۂ نظر سے ہی اہمیت نہیں بلکہ وہ ملک کی آبادی میں ایک ایسا قوی طبقہ ہے جس کی ملک کی تہذیب بھی مرہون منت ہے اور اس کے بغیر ہندوستان کی تہذیب کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ زراعت اور کسان کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اقوام متحدہ نے 2018 میں ’اقوام متحدہ کاکسانوں اور دیہی علاقوں میں کام کرنے والے افراد کے حقوق سے متعلق اعلامیہ‘(United Nations Declaration on the Rights of Peasants and Other People Working in Rural Areas) کے نام سے موسوم ایک اعلامیہ کو منظوری دی تھی جس میں دیگر باتوں کے ساتھ ساتھ ان کے ساتھ انصاف کرنے، اپنے خیالات کا اظہار کرنے، انہیںاراضی سے متعلق حقوق عطا کرنے،بہتر ماحول مہیا کرانے،بہتر معیار زندگی کی ضمانت دینے جیسے اہم امور کا احاطہ کیا گیا ہے۔
ہمارے ملک کو زراعتی پیداوار کے معاملے میں دنیا میں کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ دودھ، پٹ سن اور دالوں کی پیداوار میں ہمارا ملک پہلے نمبر پر ہے۔ ہم چاول، گیہوں، گنے، مونگ پھلی، سبزیوں، پھل اور کپاس کی پیداوار کے معاملے میں دوسرے نمبر ہیں۔اس درجہ بندی میں وقتاً فوقتاً تبدیلی آتی رہتی ہے مگر ہر حالت میں ہمارا شمار دنیا کے چوٹی کے زراعتی ممالک میں ہی ہوتا ہے۔ ہندوستان کی 70فیصد آبادی آج بھی زراعت اور اس سے وابستہ دیگر سرگرمیوں سے جڑی ہوئی ہے۔یہ ملک کے58فیصدلوگوں کو روز گار کے مواقع مہیا کرتی ہے۔ اس سے تقریباً 15فیصد Gross Domestic Product (GDP) یعنی کل گھریلو پیداوار حاصل ہوتی ہے۔اگرچہ زراعت کا GDP میں حصہ بتدریج کم ہوتا جا رہا ہے لیکن اس کے باوجود آج بھی ملک کی GDP میں اس کی سب سے بڑی حصہ داری ہے۔ اگر ہمارے کسان مثبت رول ادا نہ کریں تو اس سے نہ صرف ملک کی معیشت پر منفی اثر پڑے گا بلکہ حکمراں کی شان میں بھی کمی آئے گی۔
یہ آفاقی تسلیم شدہ مفروضہ ہے کہ ہرشخص کو اس کی محنت کا حسب صورت پھل، معقول صلہ یا اجرت ملنی چاہیے۔ اس کا اطلاق ہمارے کسانوں پر بھی ہوتا ہے۔ہرکوئی شخص جو بھی کوئی تجارت کرتا ہے،برائے فروخت مال بناتا ہے،فصل اگاتا ہے یا کوئی بھی ایسا کام کرتا ہے جس سے فائدہ مقصود ہو،اس کی یہ خواہش اور کوشش ہوتی ہے کہ اسے اپنی محنت اور لگائے گئے پیسے کے تناسب سے مناسب قیمت ملے۔ ظاہر بات ہے ہمارے کسان کی بھی یہی کوشش ہوتی ہے کہ اسے اپنی اجناس کی معقول قیمت ملے تاکہ وہ اپنے خاندان کے ارکان کی حسب ضرورت صحیح دیکھ بھال یا پرورش کرسکے۔ ہمارا کسان جو بنجر زمین تک پر بھی فصل اگانے کی طاقت رکھتا ہے اور جس نے کتنی ہی بنجر زمین کو قابل کاشت بنا بھی دیا ہے (اب ملک میں مشکل سے چھ فیصد زمین ہی بنجر ہے)، جب چاندنی راتوں میں چاندچاندنی بکھیرتا ہے اور ستارے جگمگاتے ہیں اور ہم چاندنی رات میں تاج محل کے حسن کی دوبالگی سے لطف اندوز ہو رہے ہوتے ہیں تو وہ اپنے کھیتوں میں کام کرتے وقت چاند کی چاندنی اور ستاروں کی جگمگاہٹ سے روشنی حاصل کرکے اپنے کھیت میں پانی دے رہا ہوتاہے یا ہل چلا رہا ہوتا ہے۔ یہ رہی بات تو چاندنی رات کی، وہ گرمی کی تپش اور گرم ہوا کے تھپیڑوں اور لو کے دوران بھی اس حد تک محنت و مشقت کرتا ہے کہ وہ پسینہ میں شرابور ہو جاتا ہے اور اس کا پسینہ اس طرح بہتا ہے جیسے اس کے پسینے میں اس کا لہو بھی شامل ہومگر کسان کی جفاکشی اور اسے درپیش مشکلات کے باوجود بیشتر کسانوں کے خاندان کے افراد کو آرام و آسائش کی وہ زندگی نصیب نہیں ہو پاتی جو دیگر شعبۂ حیات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو میسر ہے۔ کبھی کبھی قدرتی آفات کے سبب ایسے حالات پیدا ہوجاتے ہیں یا سرکار کی جانب سے اتنی کم قیمت مقرر کردی جاتی ہے کہ ہمارے کسان کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کبھی کبھی وہ جب منڈی میں اپنا مال لے کر آتا ہے تو اسے اتنی بھی قیمت نہیں ملتی کہ وہ ٹرانسپورٹر کو کرایہ بھی دے سکے۔ ایسی صورت میں کسان اپنا مال بغیر کوئی قیمت لیے منڈی میں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں زیادہ پیداوار ہونے کے سبب کسانوں کو معقول قیمت نہیں مل پاتی۔
ہماری حکومت کی پوری کوشش یہ ہے کہ جہاں کسانوں کو ہرطرح کی دیگر سہولیات میسر کی جارہی ہیں، وہیں انہیں سوامی ناتھن رپوٹ کے مطابق اپنی اجناس کی بھی مناسب قیمت ملے یعنی کم سے کم کاشت کی لاگت سے پچاس فیصد زیادہ مگر اس کا مکمل اطلاق آج بھی سوالات کے گھیرے میں ہے۔آج بھی ہمارے کسان کو اپنی پیداوار کی معقول قیمت نہیں ملتی جبکہ مرکزی حکومت اجناس کی کم از کم قیمت خرید (Support Price) میں وقتاًفوقتاً اضافہ کرتی رہتی ہے مگر وہ موجودہ صورت حال سے مطمئن نہیں ہیں اور وہ اپنا احتجاج کا قانونی حق استعمال کر رہے ہیں۔کبھی کبھی یہ طریقۂ استعمال شدت اختیار کر لیتا ہے۔
علامہ اقبالؔ نے تو قدرے ترش لہجہ میں کسان کو کھیت سے روزی میسر نہ ہونے کی صورت میں کھیت کے ہرخوشۂ گندم کو جلانے تک کا مشورہ دے دیا تھا اور کچھ نو آموز یا شدت پسند معبرین اسے عزم بغاو ت و دعوت تشدد قرار دیتے رہے ہیں جبکہ اگر ا ن کے اس نظمیہ اشارتی پیغام میں پنہاں جذبہ کا معروضی تجزیہ کیا جائے اور الفاظ کی تعبیرلفظی معانی کے اصول کے بجائے تعبیر کے سنہری اصول کے مطابق کی جائے تو یہ متعلقین کے لیے لمحۂ فکریہ ہے اور دعوت فکر بھی نہ کہ دعوت نقص امن۔ لفظی معانی کے اصول کے مطابق تعبیر سیدھے سادے طریقے سے یعنی الفاظ کے جو عام معانی نکلتے ہیں، اس کے مطابق کی جاتی ہے مگر کبھی کبھی اس قسم کی تعبیر سے ایسا مطلب نکل آتا ہے کہ اس سے عبارت کا مفہوم ہی سمجھ میں نہیں آتا یا اس کے تئیں منفی رویہ اختیار کرنے کا خدشہ پیدا ہوجاتا ہے اور ایسی صورت حال میں الفاظ کی لفظی تعبیر نہیں کی جاسکتی۔ ایسی صورت میں تعبیر کرنے والے شخص کو یہ دیکھنا چاہیے کہ شعر میں جن الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے، ان سے کیا مقصود تھا یعنی وہ الفاظ کس غرض سے استعمال کیے گئے تھے۔ بہ الفاظ دیگر الفاظ کی تعبیر کرتے وقت سیاق عبارت کو نظر میں رکھنا چاہیے اور تعبیراس کی غرض و غایت کے مطابق کی جانی چاہیے۔ ایسی تعبیر منطقی ہونی چاہیے نہ کہ من مانی۔ خدا کرے کہ ہمارے کسانوں کے مسائل بھی بغیر کسی مزید بدمزگی، تشدد اور جانی و مالی نقصان کے پرامن طریقے سے حل ہو جائیں اور کسان و ملک دونوں تابناک مستقبل سے ہمکنار رہیں۔
(مضمون نگارماہر قانون، آزاد صحافی،مصنف،سابق بیورکریٹ و بین الاقوامی ادارہ برائے انسانی حقوق سوسائٹی کے تا حیات رکن ہیں)
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS