حضورؐ کی سیرت پاک: انسانی حقوق کاجامع منشور

0

پروفیسر اخترالواسع

رسول اللہؐ کی ذات گرامی اور رسول اللہؐ سے منسوب زمانے میں انسانی تاریخ جس عظیم الشان تہذیبی تجربے سے دوچار ہوئی، طبعی اورفکری سطح پر انسانیت کی بقا کے جو ضابطے سامنے آئے ان میں ایسی زرخیزی ہے کہ ہر عہد اس سے فیض یاب ہوسکتاہے اور ان میںایسی توانائی ہے کہ کوئی بھی زمانہ چاہے وہ کتنا ہی گمراہ کیوںنہ ہو جائے اس توانائی سے محرومی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اسلام نے زندگی کے لیے جو دستورالعمل بنایا تھا اور اس دستورالعمل کے مطابق رسول اللہؐ نے اجتماعی ترقی کا جو نمونہ فراہم کیا تھا، اس کی معنویت آج بھی مستحکم ہے۔
بیسویں صدی کے آخری برسوں سے ہم اس نظام عام کی طرف جس عالمگیر بے اطمینانی کاتماشہ دیکھ رہے ہیں، اس کے اسباب کوسمجھنا زیادہ مشکل نہیں۔ اس کے برعکس ظہور اسلام کے ساتھ اجتماعی تہذیب کاجو خاکہ سامنے آیا اس کے مطابق معاشرہ ایک ایسا دائرہ تھا جس میں ہزاروں انفرادی دائروں کاسما جانا ممکن تھا، ان کی ہیئت اور ماہیئت میں کسی بھی تخفیف کے بغیر اس معاشرے میںانفرادی آزادی کی بقا کے ساتھ ساتھ اجتماعی آزادی کاقیام ممکن تھا۔ یہ معاشرہ اجتماع تھا مختلف خود کفیل اور قائم بالذات اکائیوںکا، یہ معاشرہ اجتماع تھا مختلف انفرادی آزادیوں کا۔ اس معاشرے کو اپنی آزادی کے تحفظ کی خاطر کسی فرد کی آزادی میںتخفیف کی ضرورت نہیں تھی۔ بیسویں صدی کے بعض، مفکروں نے انفرادی اصلاح وتہذیب کے تصورات پر زور دیاہے کہ اگر افراد درست ہوں گے تو معاشرہ خودبخود درست ہوجائے گا، مثلا ً مذہبی وجودیت کے علمبرداروں میں کیکا گارڈ، سے لے کر مارٹن بوبر تک سب کے سب فرد کی آزادی ، فرد کی تربیت کے واسطے سے معاشرے کی آزادی اور معاشرے کی تربیت کاخواب نامہ سامنے لائے ہیں۔ ہمارے صوفیا، ہمارے قدیم سماجی مصلحین نے اپنے اپنے طور پر اسی خواب نامہ کی بشارت کی تھی اور اگر پچھلی چودہ صدیوں میں انسانی ارتقاکی صورتحال کا غیرجانبدارانہ تجزیہ کریں تو اندازہ ہوگا کہ اس خواب نامہ کی سب سے مضبوط بنیاد سیرت طیبہؐ اور ظہور اسلام کے ساتھ سامنے آنے والے معاشرتی نظام نے فراہم کی تھی۔
محسن انسانیتؐ کی سیرت طیبہ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ صرف خیرات ہی نہیں بلکہ ہر کار خیر گھر کی چہار دیواری سے شروع ہوناچاہیے۔ اس لیے آپ نے ہرشخص کو اپنی خانگی زندگی کوبہتر بنانے کی تعلیم دی کیوںکہ جب تک گھریعنی معاشرے کی بنیادی اکائی، سچی خوشی اور واقعی سکون سے منور نہ ہوگااس وقت تک معاشرہ بھلا کس طرح امن وخیر سگالی کا گہوارہ بن سکتاہے؟ اگرلوگ اپنے گھروںہی میں انصاف نہیں کرسکتے تووہ پھر سماج میں کس طرح کوئی منصفانہ کردار ادا کر پائیں گے؟ اس لیے ارشاد نبویؐ ہے:
تم اپنے انساب کا علم حاصل کرو، جس سے اپنے رشتے داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرسکو۔ کیونکہ صلہ رحمی گھر والوں میںمحبت، مال میں زیادتی اور عمر میں اضافے کا سبب ہے۔۔۔؟ اس کی وضاحت بھی جناب رسالت مآبؐ نے اس طرح بیان فرمائی کہ اہمیت بھی آشکار ہوگئی۔ آپؐ سے روایت ہے۔رحم (خونی رشتہ) رحم کی (رحمت ہی کی) ایک شاخ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’جو صلہ رحمی کرے گا میں اس سے اپنا رشتہ جوڑے رکھوں گا جو اس رشتہ کو کاٹ دے گا، میں بھی اس سے رشتہ کاٹ لوںگا۔‘‘ (بخاری)
سورہ نساء میں دین کی جو دواہم باتیں بتائی گئی ہیںوہ ہیں خدا ترسی اور رشتوں کاپاس ولحاظ۔ قرآن کریم کہتا ہے: ’’اللہ کی نافرمانی سے بچو،جس کاواسطہ دے کرتم ایک دوسرے سے ان کا حق مانگتے ہو اور رشتوں کاپاس ولحاظ کرو۔‘‘ اسی طرح سورہ رعد میں اللہ رب العزت نے نیک بندوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے ان کی ایک خوبی یہ بھی بتائی ہے کہ وہ رشتوں کا حق ادا کرتے ہیں۔ باری تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’ہمارے سچے بندے وہ ہیں جو اللہ سے کیے ہوئے عہد کو پورا کرتے اور عہد (بندگی) توڑتے نہیں، جو ان رشتوں، جنہیںجوڑے رکھنے کااللہ نے حکم دیاہے، جوڑے رکھتے ہیں، جواپنے رب سے ڈرتے اور حساب کے برے نتائج سے خوف کھاتے ہیں۔‘‘
رشتوں میںماں باپ بھی شامل ہیں۔ میاں بیوی بھی، اولاد بھی اور دیگر تمام عزیز واقارب بھی۔ سیرت محمدؐ میں ان سب کا احترام، باہمی محبت، شفقت اور مروت وحسنِ سلوک کے عملی نمونے بخوبی دیکھے جاسکتے ہیں ۔ حق تعالیٰ سبحانہ نے سورہ بنی اسرائیل میں والدین کے ساتھ اچھے برتائو کا ذکر اپنی بندگی کے ذکر سے جوڑ دیاہے۔ ارشاد ربانی ہے: ’’اور تمہارے رب نے فیصلہ فرمادیا کہ اس کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو اور والدین سے حسن سلوک کرو، اگر تمہارے یہاں وہ دونوں یاان میںکوئی ایک بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائیں تو انہیں ناگوار بات نہ کہو، نہ انہیں جھڑکو بلکہ ان سے شریفانہ بات کرو، رحمت وشفقت سے ان کے لیے عاجزی کے بازو جھکا دو اور کہو، اے میرے رب ان پر رحم فرما جس طرح انہوں نے مجھے بچپن میں پالا تھا‘‘۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ ’’ایک شخص رسول اللہؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا اے رسول خدا! میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ فرمایا: تمہاری ماں۔ اس نے پوچھا کون؟ فرمایا تمہاری ماں، اس نے پوچھا اس کے بعد کون؟ فرمایا: تمہاری ماں، اس نے پوچھا اس کے بعدکون؟ فرمایا: اس کے بعدتمہارا باپ۔‘‘ (بخاری)
ہر خاندان میں شوہر اور بیوی کا رشتہ محوری حیثیت رکھتا ہے۔ اگر ان دونوں کے تعلقات خوشگوار ہیں تو گھربھی جنت کا نمونہ بن جائے گا،اولاد کی تعلیم وتربیت بھی صحت مند انداز میں ہو سکے گی۔ قرآن حکیم نے سورہ نساء میں اگر ایک طرف مرد کو عورتوں کے ذمہ دار ونگراں کی حیثیت دی تو نیک عورتوں کی تعریف یوں بیان کی کہ وہ اطاعت شعار اور مردوںکی غیر حاضری میں ان کے مال اور آبرو کی حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں۔ ساتھ ہی مردوںپر یہ ذمہ داری بھی عائد کی کہ وہ اپنی بیویوںسے ’’شریفانہ برتائو‘‘ کریں اگر وہ انہیں ’’نا پسند ہوں‘‘ تب بھی کیوںکہ ہوسکتا ہے کہ انہیں ــ’’کوئی چیز ناپسند ہو اوراللہ تعالیٰ نے اس میں ان کے لیے ’’بہت بہتری‘‘ رکھ دی ہو۔ رسول اللہؐ نے بھی اپنی امت کے تمام مردوں کو یہ وصیت کی کہ:
’’عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کے بارے میں میری وصیت قبول کرو۔‘‘ (بخاری، مسلم)
آپؐ نے اولاد پرخرچ کرنے کو پسند فرمایا ہے، اس کے علاوہ دیگر عزیز پر خرچ کرنا صدقہ ہے اور رشتہ دار پرخرچ کرنے کا دوہرا اجر ہے، وہ صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی۔‘‘ (ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)
اسی طرح خطبہ حجۃ الوداع، وحدت الٰہ اور حضرت آدم کے روحانی، دانشورانہ اور تخلیقی سفر کی منزل مراد کہا جاسکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اگرانسانی تہذیب کے انتہائے کامل کو زبان میسر آجائے تو اس سے بالکل وہی الفاظ جاری ہوں گے جو اس خطبے میںنبی آخرالزماںؐ کی زبان سے ادا ہوئے۔ یہ اعلان اس ازلی وابدی انسانی موقف کی حتمی دستاویز ہے کہ تمام انسان اپنی اصل کے اعتبار سے ایک ہیں۔ ان کا خالق ایک ہے اور مورث اعلیٰ ایک ہے اور سب انسانوں کی تخلیقی ساخت ایک ہے یعنی مٹی۔ یہ اعلان ایک ایسی تلوار ہے جس نے انسانوں کے دل ودماغ اور نفس کے گرد لپٹی رنگ ونسل، ذات، برادری، خاندان اور طبقوں کی زنجیریں کاٹ کر رکھ دیں اورانسانی روح کو اس کے بے پناہ تخلیقی امکانات سے آشناکیا اور اس کی فطری صلاحیتوں کو پھلنے پھولنے کا ایساوسیع میدان عطا کیا جہاں ہرچیز کا معیار صرف انسانی عمل ہے۔ ایسا انسانی عمل جو تقویٰ اور پرہیز گاری سے عبارت ہے۔
لیکن یہ اعلان نامہ محض لفظوں کا مجموعہ نہیں ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ ان لفظوں کی بنیاد پرجو انسانی معاشرہ وجود میں آیا وہ فرد کی آزادی، فرد و معاشرے کے مابین رشتے کو توازن، انسانی صلاحیتوں کے اعلیٰ ترین تخلیقی اظہار اور اخلاقی وروحانی پاکیزگی کے لحاظ سے آج تک اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا۔
دوسری طرف حقوق انسانی کا وہ منشور ہے جسے 10دسمبر1948 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے منظور کیا۔ خطبہ حجۃ الوداع کی چودہ صدیوںکے بعد جاری ہونے والا یہ اعلان جو دنیا کے تقریباً تمام ملکوںکے اعلیٰ ترین دماغوں کی دانش ورانہ و تخلیقی کاوشوں کاثمرہ ہے، ہر لحاظ سے بصیرت محمدیؐ کے نور میںنہایا ہوا ہے۔ مسلمانوں کے تہذیبی وسیاسی زوال کے بعد انسانی تاریخ جن گلی کوچوں اور شاہراہوں سے گزری ہے، ان میں سے کئی انقلابِ فرانس اور انقلابِ روس اس سفر کے کچھ سنگ میل ہیں۔ یہ کہنا شاید غلط نہ ہوگا کہ دنیا کو تاریخ کی ان سنگلاخ وادیوں میں یوںنہ بھٹکنا پڑتا اور اس تہذیبی اذیت کے تجربے نہ کرنے پڑتے اگر وہ اسلام کی روحانی ودانشورانہ عرفان وآگہی سے وابستہ رہی ہوتی۔ آج دنیاکے پاس حقوق انسانی کا منشور تو ہے، حقوق انسانی کا احترام نہیں کیوںکہ وہ اس روحانی قوت، خلوص نیت اور جرأت عملی سے محروم ہے جسے محمدمصطفیؐ کی معجزہ کار شخصیت نے انسانوںکے پیکر خاکی میں ایک برقی رو کی طرح دوڑایا تھا۔
(مضمون نگار جامعہ ملیہ اسلامیہ کے
پروفیسر ایمریٹس (اسلامک اسٹڈیز) ہیں۔)
[email protected]

Previous articleیہ رشتہ کیا کہلاتا ہے مہشور ایکٹرس ویشالی ٹھکر نے خودکشی کی
Next articleبینکنگ خدمات گھر گھر پہنچاناحکومت کی اولین ترجیح : نریندر مودی
Akhtarul Wasey (born September 1, 1951) is the president of Maulana Azad University, Jodhpur, India, and a former professor of Islamic Studies. He taught at Jamia Millia Islamia (Central University) in New Delhi, where he remains professor emeritus in the Department of Islamic Studies. Early life and education: Wasey was born on September 1, 1951, in Aligarh, Uttar Pradesh to Hairat bin Wahid and Shahida Hairat. He is the oldest of six children. Wasey attended Primary School No. 16, the City High School of Aligarh Muslim University, and Aligarh Muslim University where he earned a Bachelor of Arts (Hons.) in Islamic studies in 1971, a Bachelor of Theology in 1975, a Master of Theology in 1976, and an Master of Arts in Islamic studies in 1977. He also completed a short-term course in the Turkish language from Istanbul University in 1983. Career: On August 1, 1980 he joined Jamia Millia Islamia, Delhi as lecturer and worked there till 31 August 2016.Wasey was a lecturer, reader and professor at Jamia Milia Islamia University in New Delhi from 1980-2016, serving as the director of Zakir Husain Institute of Islamic Studies and later becoming head of the Department of Islamic Studies and Dean of the Faculty of Humanities and Languages. He is currently the president of Maulana Azad University in Jodhpur and remains a Professor Emeritus in the Department of Islamic Studies at Jamia Millia Islamia. In March 2014, Wasey was appointed by Indian President Shri Pranab Mukherjee to a three-year term as Commissioner for Linguistic Minorities in India, and became the first Urdu-speaking commissioner since 1957. Wasey is the editor of four Islamic journals: Islam Aur Asr-e-Jadeed; Islam and the Modern Age; Risala Jamia; and Islam Aur Adhunik Yug. Awards and honors: 1985 Award from Urdu Academy, Delhi and UP Urdu Academy on "Sir Syed Ki Taleemi Tehreek" 1996 Maulana Mohammad Ali Jauhar Award 2008 Fulbright Fellowship 2013 Padma Shri award from President Pranab Mukherjee of India 2014 Makhdoom Quli Medal from the President of Turkmenistan 2014 Daktur-e-Adab from Jamia Urdu, Aligarh