آئین میں ہندوتوانظرآتاہے:موہن بھاگوت

0
timesofindia.indiatimes.com

نئی دہلی (ایجنسیاں) راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت نے اتوار کو کہا کہ ہندوستانی آئین میں ہندوتوا نظر آتا ہے۔ مراٹھی روزنامہ لوک مت کے زیر اہتمام ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھاگوت نے کہا کہ ہندوتوا ہندوستانی کلچر اور رسم و رواج کی 5000 سال پرانی روایت سے ماخوذ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمہ جہت اور ہمہ گیر سچائی وہی ہے جسے ہم ہندوتوا کہتے ہیں۔ یہ ہماری قومی شناخت ہے۔ ہم سیکولرازم کی بات کرتے ہیں، لیکن یہ ہمارے ملک میں برسوں سے موجود ہے اور ہمارا آئین بننے سے پہلے سے ہندوتوا کی وجہ سے موجودہے، تنوع میں اتحاد کا نظریہ قدیم زمانے سے ہندوستانی کلچر کا ایک موروثی حصہ رہا ہے اور ہندوستانی کلچرل شناخت ہے۔ ہندوتوا کی تعریف دنیا جانتی ہے کہ اتحاد کیلئے یکسانیت کی ضرورت ہے، لیکن تنوع میں اتحاد تلاش کرنے کا تصور ہمارے ملک میں زمانہ قدیم سے چلا آ رہا ہے۔ یہ ہندوستانی کلچر میں اتحاد کی بنیاد رہی ہے۔ عام لوگ اس کلچر کو ہندوتوا کلچر کا حصہ جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوتوا ہمارے ملک میں اتحاد کی بنیاد ہے۔بھاگوت نے واضح کیا کہ ہندوتوا کی اصطلاح سب سے پہلے گرو نانک دیو نے گڑھی تھی نہ کہ ویر ساورکر نے جیسا کہ کانگریس لیڈر راہل نے ان کا نام لیے بغیر دعویٰ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بدلتے وقت کے ساتھ بدلنا چاہیے اور دوسرے مذاہب اور رسوم و رواج سے کبھی متصادم نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کو مل کر چلنا چاہیے اور یہ ہندوتوا ہی ہے جو ہم سبھی کو ہندوؤں کے طور پر ایک ساتھ رکھتا ہے۔ ہمیں تمام غلط کاموں کو چھوڑ کر تنوع میں اتحاد برقرار رکھنا ہے۔

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS