ہائی کورٹ نے مرکز،دہلی سرکار، ڈی ڈی اے کو ٹریفک جام پر سوال

0

نئی دہلی (ایس این بی) : ہائی کورٹ نے مانسون کے مہینے میں بارش کے پانی کی ذخیرہ اندوزی کے لیے کوششوں کے فقدان اور اس دوران اور سال کے دیگر مہینوں میں ٹریفک جام کا مسئلہ عام ہونے کا نوٹس لیا ہے۔ جسٹس جسمیت سنگھ اور جسٹس دنیش کمار شرما کی بنچ نے کہا کہ یہ عوامی مفاد کا معاملہ ہے۔ اس پر مرکزی سرکارکی شہری ترقی اور روڈ ٹرانسپورٹ کی وزارت، دہلی سرکار، ڈی ڈی اے، کارپوریشن کمشنر، پرنسپل سکریٹری، پبلک پرسنل ڈپارٹمنٹ، دہلی پولیس کمشنر اور خصوصی ٹریفک پولیس کمشنر، دہلی جل بورڈ، دہلی۔ کنٹونمنٹ بورڈ، نئی دہلی میونسپل کونسل (این ڈی ایم سی) اور محکمہ سیلاب اور آبپاشی سے جواب طلب کیا گیا ہے۔بنچ نے سماعت 4 جولائی تک ملتوی کرتے ہوئے ہر کسی سے اپنا موقف واضح کرنے اور اس سے متعلق اسٹیٹس رپورٹ داخل کرنے کو کہاہے۔ اس نے تمام پارٹیوں سے بارش کے پانی کی ذخیرہ اندوزی کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں مطلع کرنے کو کہا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مانسون اور دیگر مہینوں میں ٹریفک جام سے پیدا ہونے والی پریشانیوں کو دور کرنے اور کم کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔ اس دوران بارش کے پانی کو جمع کرنے کی کوششوں کی کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بنچ نے کہا کہ دہلی میں ٹریفک جام کا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ہمارے مطابق اسے بارش کے پانی کے انتظام کے ساتھ ساتھ گوگل میپ کی مدد سے آسانی سے کنٹرول اور ریگولیٹ کیا جا سکتا ہے۔ اگلی سماعت کے دن اس معاملے پر چیف جسٹس کی بینچ سنوائی کرے گی۔