اسرائیل کی سامراجیت کے آگے بے بسی

0

ایران اور اسرائیل کے درمیان رقابت کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ اسرائیل نے ایران کے ساتھ نیوکلیر سمجھوتے کی اس وقت مذمت کی جب پوری دنیا نے اس قضیہ کو حل پر راحت کی سانس لی تھی اور اس کو لگتا ہے کہ خطے میں ایران کوکمزور اور بے بس کرنے کا سب سے بڑا بہانہ یعنی نیوکلیر خطرہ ہے۔ اسرائیل کی حکومتیں ایران کو الگ تھلگ کرنے کے لئے مغربی ایشیا کی دیگر حریف طاقتو کے ساتھ ہاتھ ملارہی ہیں۔ اسرائیل کئی عرب خلیجی ملکوںکے ساتھ امن سمجھوتے کرچکا ہے اوراس نے ایران کا ہّوا دکھاکر پڑوسی اور برسرپیکار ممالک کے ساتھ اقتصادی، تجارتی اور یہاں تک کہ دفاعی تجارتی سمجھوتے کئے ہیں۔ اسرائیل توقع کرتا ہے کہ تمام پڑوسی ممالک اس کے استقبال میں گلدستہ لئے کھڑا رہے اور وہ ان سب پر بندوقیں تانے رہے۔توپوں کے دہانے ان کی طرف موڑ دے اورآسمان سے آگ برسائے۔ مگراس کے ظلم و استبداد کی کوئی مزاحمت نہ کرے اور ایسے ہی اپنے بچوں کو مرنے دے، مسجدوں کی بے حرمتی کرتا رہے۔ اسرائیل نے اس مرتبہ سخت گیر عناصر اور مذہبی نسل پرست پارٹیوں کو حکومت سازی کا موقع دے کر ثابت کردیا ہے کہ اس کا وطیرہ ستر سال میں نہیں بدلا اور ابھی نہیں بدلے گا۔ مگروہ چاہتا ہے کہ اس کے پڑوسی ممالک اپنا سب کچھ بدل دیں۔ اپنی سرزمین، اقتداراعلیٰ، مذہبی سماجی اور فرد کی آزادی کواس کی بقا اور تحفظ کے لئے ترک کردیں۔
ایران اس کو ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ مذکورہ بالا تمام تراندیشوں اور حربوںکے باوجود اسرائیل کے ماہرین ایران کے ساتھ سمجھوتے کو ایک غیرمعمولی سمجھوتہ اور قیام امن کے لئے اہم پیش رفت قرار دیتے ہیں۔اسرائیل کے فوجی ماہر یایر گولان (Yair Golan) جن کو نیوکلر ایشو اور اسرائیل کے داخلی وخارجی امورپر زبردست قدرت حاصل ہے ایرا ن کے ساتھ سمجھوتہ پر اپریل 2022 میں کہا تھا کہ یہ سمجھوتہ اسرائیل کی سیکورٹی کے لئے کافی اہم ہے اور کچھ علامتی التزامات جیسے انقلابی گارڈز کو دہشت گردی کی لسٹ سے نکالنے کواس سمجھوتے پر غالب نہیں آنے دینا چاہئے۔
اسرائیل کے ملٹری انٹلیجنس کے سربرا رہے میجر جنرل تامیر ہیمین نے اکتوبر 2021 میں کہا تھا کہ ’’یہ (ایران کا نیوکلیر پروگرام) ہتھیار کا پروجیکٹ نہیں تھا، اقتصادی خطے یا کسی دوسرے میدان میں دوسال میں کچھ بھی نہیں بدلا ہے۔ ہتھیارسازی کے لئے ابھی بھی (ایران کو) کافی وقت (شاید دوسال) درکا ر ہیں۔ان کی نظر میں ایران کا نیوکلیر پروگرام ہتھیار بنانے کا پروجیکٹ نہیں ہے۔
خیال رہے کہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے 223ویں قرارداد میں اس سمجھوتے کی حمایت کی تھی اور اس کے اطلاق میں معاون ہونے کی بات بھی رکھی تھی۔ ٭٭٭