حجاب کے خلاف نفرت انگیزی

0

آئینکی حکمرانی، قانون کے لمبے ہاتھ، مستحکم جمہوریت، انسانی حقوق، اظہار رائے اور مذہب پر عمل آوری کی آزادی، فرد کی آزادی، فرقہ وارانہ ہم آہنگی، مذہبی رواداری جیسے روشن نظریات و اصولوں پر اب ادبار کی چادر تننے لگی ہے۔ جن کے پاس نفاذ قانون کا اختیارتھا و ہ اپیلوں اور درخواستوں پرا ترآئے ہیں اورجن کے پاس امن و امان کے قیام کی طاقت تھی، وہ قصداًحالات سے فرار کی راہ اپنارہے ہیں۔
کرناٹک میںآج منگل کو جو کچھ ہوا اسے ہندوستان کی بدبختی ہی کہا جائے گا۔ حجاب کو متنازع بنانے والے سماج دشمن عناصر کا قلع قمع کرنے کے بجائے ریاستی حکومت ٹال مٹول رویہ سے کام لے کر نہ صرف اس معاملہ کو ہوا دے رہی ہے بلکہ اس نے اگلے تین دنوں تک کرناٹک میں اسکول اور کالج بند کرنے کی ہدایت جاری کرکے یہ بھی بتادیا ہے کہ وہ اظہار رائے اور مذہبی آزادی کا تحفظ کرنے میں ناکام ہے۔
ریاست کے وزیراعلیٰ بسوا راج سومپا بومئی(بی ایس بومئی)نے باقاعدہ ٹوئٹ کرکے یہ جانکاری عام کی ہے کہ حجاب پر جاری تنازع کی وجہ سے کرناٹک میں تمام اسکول اور کالج تین دن تک بند رہیں گے۔ وزیراعلیٰ بومئی نے اپنے ٹوئٹ میں یہ کہا ہے کہ انہوں نے امن اور ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کیلئے تمام ہائی اسکول اور کالج بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ ادھر کرناٹک کی ہائی کورٹ بھی اس معاملہ میں دائر عرضیوںکی سماعت آج مکمل نہیں کرپائی اور اسے کل بدھ کو بھی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ معزز عدالت نے طلبا اور کرناٹک کے عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ وہ امن و امان برقراررکھیں۔ عزت مآب جسٹس کرشنا شری پد نے اپنی اپیل میں کہا ہے کہ اس عدالت کو عوام کی دانشمندی پر پورا بھروسہ ہے اور امید ہے کہ اس کا خیال رکھا جائے گا۔
معزز عدالت حجاب کو متنازع بنانے کی اس کوشش کو کس رنگ میں لیتی ہے اوراس بابت کیا حکم صادر کرنے والی ہے، اس کا پتہ تو سماعت مکمل ہونے کے بعد ہی چل پائے گا لیکن اس معاملہ کو ریاستی حکومت اور بھگوا جماعت نے جس طرح کا سیاسی رنگ دینا شروع کیا ہے اور طلبا کے ذہنوں میں فرقہ واریت کازہر انڈیل رہی ہے، وہ ہندوستان کو پتھر کے دور میں لے جانے کی مذموم کوشش اور آئین کی توہین ہے۔
کرناٹک تاریخی اور ثقافتی لحاظ سے ایک قابل فخرورثہ کا حامل ہے۔ریاست کے دارالحکومت بنگلورنے آئی ٹی مرکز کے طور پر پوری دنیا میں اپنی منفرد شناخت قائم کی ہے اور نوجوانوں کے روشن مستقبل کا مرکز بھی بنا ہوا ہے لیکن دائیں بازو کی شدت پسندانہ روش اور نفرت انگیز سیاست اب کرناٹک کو نوجوانوں کے روشن مستقبل کامرکز بنانے کے بجائے اسے پھر تاریکی کے گہرے غار میں دھکیلنے کی کوشش کررہی ہے اوراس میں بہت حد تک کامیاب بھی کہی جاسکتی ہے۔نفرت اتنی بڑھ گئی ہے کہ کرناٹک کے کئی تعلیمی اداروں میں مسلم طالبات کے حجاب کومتنازع بنادیاگیا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ان طالبات نے پہلی بار حجاب پہنا ہو لیکن اب نہ صرف اس پر پابندی لگائی جا رہی ہے بلکہ طلبا و طالبات کو استعمال کر کے مکروہ سیاست بھی ہونے لگی ہے۔ حجاب پہننے والی طالبات کے خلاف احتجاج میں طلبا و طالبات کا ایک گروہ زعفرانی انگوچھے اوڑھ کر آرہاہے اور ان کے ساتھ آنے والے شرپسندوں کی بھیڑ حجاب پہنی ہوئی تنہا مسلم طالبہ کے سامنے اشتعال انگیز نعرے لگاکر انہیں دہشت زدہ کر رہی ہے۔ مکروہ سیاست نے ماحول کچھ ایسا بنادیا ہے کہ جن بچوں کواپنی پڑھائی اور دیگر تعلیمی،ثقافتی سرگرمیوں پر توجہ دینی چاہیے تھی، جنہیں تعلیم حاصل کرنے اور اپنے لیے روزگار کے مواقع تلاش کرنے کی فکر ہونی چاہیے تھی وہ اس تنازع میں ملوث ہوگئے ہیں کہ مسلم لڑکیاں حجاب کیوں پہن رہی ہیں اور جبر اً ان کاحجاب ختم کرناچاہتے ہیں۔
ہندوستان کے آئین کی دفعہ 25(1)ضمیر کی آزادی، آزادی سے مذہب قبول کرنے، اس پر عمل درآمد اوراس کی تبلیغ کرنے کے مساوی حق کی ضمانت دیتی ہے۔یہ ایک ایسا حق ہے جو آزادی معکوس کا بھی ضامن ہے۔ یعنی ریاست اس بات کو یقینی بنائے گی کہ اس آزادی کے استعمال میں کوئی مداخلت یا رکاوٹ نہ ہو۔لیکن بجائے اس کے حکومت امن و امان کے نام پر تعلیم گاہوں کو ہی بندکررہی ہے۔ اگر کسی ریاست کا وزیراعلیٰ سنیاسیوں کے لباس میں رہ کر تمام آئینی ذمہ داریوں کو پورا کر سکتا ہے، اگر سکھ مذہب کے پیروکاروں کو اپنی مذہبی علامتیں پہننے کی آزادی ہے تو پھر مسلم طالبات پرحجاب پہننے کی پابندی کیوں لگائی جا رہی ہے؟
ویسے بھی حجاب تہذیب و شائستگی اور اخلاقیات پر مکمل عمل درآمد کا نام ہے۔حجاب پہننا یا نہ پہننا مسلم طالبات کا ذاتی فیصلہ ہے۔اس کے پہننے میں رکاوٹ کا مطلب تہذیب، شائستگی اور اخلاقی محاسن سے انکار ہے۔یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹنے اور آئین پر عمل درآمد اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائے۔ حجاب جیسی شائستگی کی علامت کو مکروہ اورغلیظ سیاست کیلئے استعمال کرنا اورحجاب کے نام پر طالبات کو تعلیم حاصل کرنے سے روکنا براہ راست آئین کی توہین ہے۔
[email protected]