گجرات سلسلہ وار بم دھماکہ معاملہ : 28ملزمین باعزت بری، 49قصوروار، سزاؤں کا تعین آج

0

نئی دہلی (ایس این بی) : صدر جمعیۃ علماء ہندمولانا ارشد مدنی نے 2009 میں احمدآبادوسورت میں ہوئے سلسلہ وار بم دھماکوں کے مقدمات سے 13 سال
بعد28 مسلم نوجوانوں کے بری ہونے پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حصول انصاف کی امید لئے عدالتی جنگ لڑ رہے ہیں، اس سے بے قصور افراد
کو حوصلہ ملتاہے۔اس مقدمے کی طرح اور بھی مقدموں میں پولیس والوں کی سست روی کی وجہ سے عدالتوں کو فیصلہ صادر کرنے میں برسوں لگ جاتے ہیں،
جس کا خمیازہ بے قصور لوگوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ سب سے بڑاسوال تویہ ہے کہ ان بے گناہوں کی زندگی کے جو قیمتی13سال بربادہوئے ہیں ان کی تلافی کون
کرے گا، کون اس کا ذمہ دار ہے؟ کیوں نہیں ایک مقررہ مدت میں مقدمات کا خاتمہ ہوتا ہے، اس سب سوالوں کا جب تک جواب نہیں ملے گا، ایسے ہی بے قصوروں
کو سالوں جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے گزارنے پڑیں گے۔ مولا نا مدنی نے کہا کہ28 لوگوں کا بری ہونا اس بات کا ایک اور واضح ثبوت ہے کہ متعصب تحقیقی
ایجنسیاں اور افسران کس طرح بے قصور مسلمانوں کو دہشت گردی کے فرضی معاملات میں پھانس کر ان کی زندگی اور کرئیر کو تباہ اور بربادکررہے ہیں۔انہوں نے
مزیدکہاکہ ہم مسلسل یہ مطالبہ کرتے آئے ہیں کہ بے گناہ نوجواں کی زندگیوں سے کھلواڑکرنے والے پولیس والوں کی جواب دہی طے ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا
کہ فرقہ پرست طاقتیں مسلمانوںکی سماجی و اقتصادی اور تعلیمی ترقی کے خلاف ہیں۔چنانچہ تعلیم یافتہ مسلم نوجوانوں گی زندگی تباہ کرنے کیلئے دہشت گردی کوایک
ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جانے لگا ہے،آپ اعداد وشمار اٹھا کر دیکھ لیجئے کہ دہشت گردی کے الزام میں گرفتار ہونے والوں میں ایک بڑی تعداد تعلیم یافتہ مسلم
نوجوانوں کی ہے اور اس مقدمے میں ماخوذ ہندوستان کے مختلف شہروں کے تعلیم یافتہ نوجوان ہی تھے۔
مولانا ارشد مدنی نے ایک ملزم پر ایک ہی الزام کے تحت 10-10 مقدمات درج کئے جاتے ہیں،تاکہ وہ پوری زندگی مقدمات لڑنے میں ہی صرف کردے، اور جب
اخیرفیصلہ آتا ہے، تب تک اس کے اہل خانہ ختم اور اس کی بھی زندگی کے قیمتی ایام گزر چکے ہوتے ہیں۔مولانامدنی نے کہا کہ عدالتی نظام میں تیزی لانا وقت کی
ضرورت ہے، دنیاکے بہت سے ملکوںمیں ایک معینہ مدت کے اندر مقدمہ ختم کرنے کاقانون ہے ،لیکن ہمارے یہاں ایساکوئی خصوصی قانون نہیں ہے اور جو قانون
ہے، اس پر کوئی عمل نہیں کرتا،جس کی وجہ بے قصوروں کو برسوں جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے رہنا پڑتا ہے۔مگر امید افزابات یہ ہے کہ تمام ریشہ دوانیوں
کے باوجود ملک کی اکثریت فرقہ پرستی کے خلاف ہے اوراس ملک میں ایک بڑی تعدادانصاف پسند لوگوں کی موجودہے، جو فرقہ پرستی ، مذہبی شدت پسندی
اوراقلیتوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف نہ صرف صدائے احتجاج بلند کررہے ہیں، بلکہ نڈرہوکر حق کااظہارکرنے کے ساتھ ساتھ ان فرقہ پرستوں کے
خلاف عدالت کا رخ کررہے ہیں۔