بنگلہ دیش میں’بندی‘لگانے پر پولیس افسر نے کیا ہراساں،خاتون پروفیسر کا دعویٰ

0

ڈھاکہ، (پی ٹی آئی) : بنگلہ دیش میں ایک پرائیویٹ کالج کی خاتون پروفیسر نے الزام لگایا ہے کہ بندی لگانے پر ایک ’پولیس افسر‘نے انہیں ہراساں کیا اور جان سے مارنے کی دھمکی دی۔ ایک میڈیا رپورٹ میں اتوار کو اس بات کا انکشاف ہوا۔ ڈھاکہ ٹربیون اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہاں تیج گائوں کالج میں تھیئٹر اور میڈیا اسٹڈیز کی لکچرر لوٹا سومدیر نے کہا کہ ہفتہ کی صبح ان کے کالج کے پاس پیش آنے والے اس واقعہ کے بعد سے وہ غیر محفوظ محسوس کر ہی ہیں۔ پولیس کو دی جانے والی اپنی شکایت میں لوٹا نے کہا کہ موٹر سائیکل پر سوار ایک ’پولیس افسر‘نے بندی لگانے کو لے کر توہین آمیز تبصرہ کیا اور پریشان کیا۔ برصغیر ہند میں سنگار کے طورپر خواتین پیشانی پر بندی لگاتی ہیں۔ خاتون پروفیسر نے کہا کہ جب انہوں نے پولیس افسر کی حرکت کی مخالفت کی تو اس نے انہیں جان سے مارنے کی دھمکی بھی دی۔
لوٹا سومدیر نے کہا کہ پولیس افسر نے اپنی بائک سے انہیں ٹکر مارنے کی کوشش بھی کی لیکن انہوں نے تیزی سے ایک طرف جا کر خود کو بچا لیا لیکن سڑک پر گرنے کے سبب انہیں چوٹیں آئیں۔ شیر بنگال سٹی پولیس تھانہ کے سینئر افسر اتپل بروآ نے کہا کہ پروفیسر کو ملزم ’پولیس افسر‘کا نام یاد نہیں ہے۔ حالانکہ خاتون نے موٹر سائیکل کا رجسٹریشن نمبر پولیس کو بتایا ہے۔