بیچ میں لٹکتی نظر آرہی ہے برو – بازآبادکاری

0

پنکج چترویدی

گزشتہ سال حکومت کی کوششوں سے اپنے لیے زمین کے ایک ٹکڑے کی امید لگائے اپنے ہی ملک میں تین دہائیوں سے پناہ گزیں برو قبائلیوں کے لیے تریپورہ میں مقامی میزو اور بنگالی کمیونٹی کے سبب بحران کے نئے بادل نظر آرہے ہیں۔اپریل2021 میں تریپورہ حکومت نے عزم کیا تھا کہ اگست 2022تک37ہزار ریانگ یعنی برو قبائلیوں کو دوبارہ آباد کردیا جائے گا۔ لیکن دیگر کمیونٹی کی جانب سے مزاحمت، آبادکاری کے لیے مقررہ جگہ اور بنیادی سہولیات، جیسے دیگر کئی مسائل کی وجہ سے یہ کام نامکمل ہے،واضح ہو کہ دسمبر2020 میں برو قبائلیوں کو بسانے کے لیے تشدد ہوا تھا اور اس میں دو افراد ہلاک بھی ہوئے تھے۔ اس بار جے ایم سی یعنی سنیکت مورچہ کمیٹی، جس میں ناگرگ سرکشا منچ(این ایس ایم) سمیت کئی تنظیمیں شامل ہیں، برو لوگوں کے غیر منصوبہ بند، ان کی روزی روٹی، معاشی حالت وغیرہ جیسے مسائل کو لے کر سڑکوں پر ہیں۔
این ایس ایم کا کہنا ہے کہ حکومت پہلے سے ہی کنچن پور سب ڈویژن کے گاؤں میں540برو جلاوطنوں کو آباد کر چکی ہے اور اب کیے گئے معاہدے کے برعکس مزید1250 لوگوں کو آباد کرنا چاہتی ہے۔ چونکہ یہ ایک چھوٹا سا علاقہ ہے اور یہاں پہلے سے میزو اور بنگالی جیسے سودیشی معاشرے کے لوگ صدیوں سے اتحاد و اتفاق اور ہم آہنگی کے ساتھ رہتے ہیں۔ ایسے میں یہاں برو لوگوں کو بڑی تعداد میں آباد کرنے سے آبادی کے اعداد و شمار گڑبڑ ہوجائیں گے اور نئی کشیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔ این ایس ایم کا مطالبہ ان پناہ گزینوں کو دیگر کسی علاقے میں بسانے کا ہے۔
جان لیں کہ برو قبائلیوں کے تقریباً 7364 خاندان، جن میں38072ارکان ہیں، پہلے سے ہی کنچن پور اور اس کے قریبی پانی ساگر سب ڈویژ ن کی پناہ گزیں بستی میں رہ رہے ہیں۔ جنوری2020میں مرکزی حکومت، تریپورہ اور میزورم حکومت و برو قبائلیوں کے درمیان ہوئے چار فریقی معاہدے کے ساتھ ان کے مستقل آباد ہونے کی جب بات شروع ہوئی تو انہیں مستقل طور پر تریپورہ میں آباد کرنے کی بات پر کچھ مقامی لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور پرتشدد مظاہرے کیے تھے۔ معاہدے کے تحت تریپورہ میں باقی 37136 برو قبائلیوں کو تریپورہ کے چار اضلاع میں مختلف مقامات پر آباد کیا جانا تھا۔ اس کے لیے مرکزی حکومت نے ریاست کو600کروڑ کے ایکشن پلان کو بھی منظوری دی تھی۔
تاریخ کے مطابق تو ان کا اصل گھر میزورم میں ہی ہے۔ لیکن میزورم کے باشندے انہیں میانمار سے آئے غیر ملکی کہتے ہیں۔ وہ گزشتہ پچیس سال سے جس ریاست میں رہ رہے ہیں وہاں کے لوگ بھی نہیں چاہتے کہ وہ یہاں آباد ہوں۔ تریپورہ کے شمال مشرق میں انہیں مستقل طور پر آباد کرنے کی بات ہوئی تو تشدد پھوٹ پڑا۔ یہ قبائلی برادری درج فہرست قبائل کے سرکلر میںتو یہ پی وی ٹی جی(PVTG) یعنی غائب ہونے والی برادری کے طور پر درج کی گئی ہے۔ لیکن برو نامی قبائلی کے ان لوگوں کا اپنا کوئی گھر یا گاؤں نہیں ہے۔ پناہ گزینوں کے طور پر رہتے ہوئے ان کی اصل روایات، رہائش، فن، ثقافت وغیرہ کو خطرات لاحق ہیں۔
روایت کے مطابق تریپورہ کے ایک راج کمار کو ریاست سے باہر نکال دیا گیا تھا اور وہ اپنے حمایتیوں کے ساتھ میزورم میں جاکر آباد ہوگیا تھا۔ وہاں اس نے ایک آزاد مملکت قائم کی۔ برو خود کو اسی راج کمار کی اولاد سمجھتے ہیں۔ اب اگرچہ اس کہانی کی سچائی کا کوئی ثبوت نہ ہو لیکن اس کی وجہ سے ہزاروں لوگ بے گھر ہیں۔ ان کے پاس نہ تو مستقل رہائش کا کوئی ثبوت ہے اور نہ ہی آدھار کارڈ۔ ووٹر لسٹ کے حوالے سے بھی ابہام ہے۔ اعداد و شمار تو یہی کہتے ہیں کہ برو یا ریانگ میزورم کا سب سے کم آبادی والی قبائلی برادری ہے۔
میزورم کے مامیت، کولاسیب اور لنگلیئی اضلاع میں ہی ان کی آبادی تھی۔1996میں برو اور اکثریتی میزو کمیونٹی کے درمیان فرقہ وارانہ فساد ہوگیا۔ میزورم میں میزو کمیونٹیز کے لوگ برو قبائلیوں کو بیرونی یا غیر ملکی سمجھتے ہیں اور انہیں نسلی تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔ گزشتہ کئی سالوں سے مرکزی اور ریاستی حکومتیں تریپورہ کے ریلیف کیمپوں میں مقیم برو پناہ گزینوں کی میزورم واپسی کے لیے کوششیں کر رہی تھیں۔ حکومت کی طرف سے سیکورٹی اور روزگار کی تمام یقین دہانیوں کے باوجود زیادہ تر برو قبائلی میزورم واپس جانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
دوسری طرف میزو قبائلی تنظیمیں اس بات پر آمادہ رہیں کہ برو لوگوں کے نام ریاست کی ووٹر لسٹ سے ہٹائے جائیں کیوں کہ وہ باہری ہیں۔ اسی طرح کے مسائل پر پرتشدد جھڑپوں کے بعد1997میں ہزاروں برو افراد نے بھاگ کر پڑوسی ریاست تریپورہ کے کنچن پورہ بلاک کے ڈوبری گاؤں میں پناہ لی تھی۔ دو دہائیوں سے زیادہ وقت سے یہاں رہنے اور حقوق کے لیے لڑائی لڑنے کے بعد انہیں یہاں بسانے کا معاہدہ طے پایا تھا۔
ویسے تو برو لوگ جھوم کاشت کے ذریعہ اپنی روزی کماتے رہے ہیں۔ ان کی عورتیں بُنائی میں ماہر ہوتی تھیں۔ پناہ گزیں کیمپ میں آنے کے بعد ان کی روایتی مہارتیں ختم ہوگئیں۔ وہ مرکزی حکومت سے حاصل ہونے والے امدادی سامان، ایک بالغ کے لیے5روپے اور 600 گرام چاول فی دن اور نابالغ کے لیے 2.5 روپے اور 300گرام چاول پر منحصر ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں روزمرہ استعمال کی اشیاء بھی ملتی ہیں جس کا بڑا حصہ فروخت کرکے وہ کپڑے، ادویات وغیرہ کی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ گھر، بجلی، صاف پانی، اسپتال اور بچوں کے لیے اسکول جیسی کئی بنیادی سہولیات سے وہ محروم ہیں۔
ویسے تو برو لوگوں نے نائسنگپرا، آشاپرا اور ہیجاچیرا کے تین موجودہ ریلیف کیمپوں کو دوبارہ گاؤں میں تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی جامپوئی پہاڑیوں پر بیتھ لنگ چپ کی چوٹی کے پاس فول ڈنگ سیئی گاؤں سمیت پانچ متبادل جگہوں پر غور کرنے کی بھی درخواست کی تھی۔ اس پر مقامی قبائلیوں کو خدشہ ہے کہ اس سے ان کے لیے کھیتی باڑی اور مویشی چرانے کی جگہ کم ہو جائے گی۔
آج جس جگہ پر برو لوگوں کو آباد کیا گیا ہے، وہ ان کے ابھی تک کے گھر یعنی پناہ گزین کیمپ سے تقریباً100 کلومیٹر دور ہے۔ بالکل ویران ہے اور روزگار، تعلیم، صحت کے وسائل فروغ دینے میں وہاں وقت لگے گا۔ تریپورہ کی قبائلی تنظیمیں اس بات کے لیے رضامند بھی ہوئیں کہ عام بستی سے دور اس جگہ پر فی الحال ان کا دخل نہیں ہے۔ حالاں کہ جب یہ پہلا جتھہ ’اپنے گھر‘ کے لیے بسوں سے روانہ ہوا تھا تو ان کی آنکھیں نم تھیں، ایک تو ان کی دوسری نسل اسی کیمپ میں جوان ہوئی جسے انہیں چھوڑنا پڑرہا تھا، دوسرا بازآبادکاری کے دیگر 11کیمپ بھی بہت دور دور آباد ہونے والے ہیں اور ممکن ہے کہ ان سے کئی ایسے لوگ بچھڑ جائیں جو دو دہائیوں سے ساتھ رہ رہے تھے۔ سب سے بڑا خوف دوسرے قبائلیوں خصوصاً میزو کی طرف سے حملہ کا بھی ہے۔ تبھی وہ پاس پاس رہنا چاہتے ہیں اور مقامی معاشرہ کی مخالفت بھی یہی ہے۔
اگر ہم اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو شمال مشرقی ریاستوں میں آبادی کی کثافت اتنی زیادہ نہیں ہے، وہاں میلوں تک اِکادکا قبائل آباد ہیں، لیکن ایک قبائلی برادری کو بہتر زندگی بسر کرنے کے لیے زمین نہیں مل رہی ہے۔ حالاں کہ اس بار حکومت کی بحالی کی کوششوں پر شک نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اپنے وسائل- زمین- حقوق کی تقسیم مقامی معاشرے کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ کچھ سیاسی جماعتیں بھی اس آگ کو ہوا دے رہی ہیں اور اب مستقل سکونت سے زیادہ امن اور ہم آہنگی کی زیادہ ضرورت ہے۔
[email protected]