عاملہ ،عدلیہ اور مقننہ کے وقار میں بتدریج تنزلی

0

خواجہ عبدالمنتقم
عاملہ (انتظامیہ)، عدلیہ اور مقننہ جمہوریت کے وہ اہم ستون ہیں جن پر ملک کی پوری عمارت کھڑی ہے۔ اگر ان میں سے کسی بھی ستون میں کمزوری آجائے،اس کے وقار میں تنزلی آنے لگے یا وہ اپنے فرائض منصبی کی انجام دہی میں کوتاہی برتنے لگے تو یہ گمان یقینی ہے کہ یہ عمارت اگر خستہ حال نہیں تو اس کی مضبوطی میں کمی ضرور آئی ہے۔ماضی بعید، ماضی قریب اور دور حاضر میں اس قسم کے ناخوشگوار واقعات رونما ہوتے رہے ہیں۔ان میںسے بہ اعتبار نوعیت کچھ واقعات قابل حیرت، کچھ باعث افسوس تو کچھ باعث مذمت ہیں یا رہے ہیں۔حال ہی میں پنجاب میں وزیراعظم کے قافلہ میں بادی النظر میںجو رکاوٹ آئی یا ڈالی گئی یا یہ محض اتفاق تھا اس کے بارے میں کوئی حتمی رائے تو قائم نہیں کی جا سکتی ، یہ تو بعد از تحقیق و تفتیش ہی معلوم ہو پائے گا لیکن اس میں تو کوئی شبہ نہیں کہ یہ ناگہانی واقعہ ہر لحاظ سے باعث افسو س اور باعث مذمت تو ہے ہی بلکہ اس سے زیادہ قابل حیرت ہے چونکہ ہندوستان کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا۔
اس سے قبل دہلی میں برسراجلاس عدالت کے روبرو بدمعاشوں کاقاتلانہ حملہ، عدلیاتی افسران کے بچوں کو جان سے مارنے کی دھمکیاں، عدالتوں کے احاطہ میں بم پھٹنا، کچھ جج صاحبان کا ارباب حکومت کی تنقید(خواہ بجا ہو یا بے جا)، چیف جسٹس آف انڈیا کا یہ بیان کہ حکومت سپریم کورٹ کے فیصلوں کا احترام نہیں کر رہی ہے، عدلیہ اور انتظامیہ کے وقار میںتنزلی کااشارہ نہیں تو اور کیا ہے؟عدلیہ کے وقار میں تنزلی کو محض حکومت وقت سے منسوب نہیں کیا جاسکتا۔ اب سے تقریباً 25سال قبل ہماری سپریم کورٹ نے والسمّا پال بنام کوچین یونیورسٹی والے معاملے (1996(3)، جی ایل آر92ایس سی)میں،جس کا ہم اپنے مضامین میں اکثر حوالہ دیتے رہے ہیں، اپنی اس رائے کا اظہار کیا تھا کہ جج ایک ایسا قانون داں ہونا چاہیے، جو ایک لیجسلیٹری کی طرح دانشمند ہو، ایک تاریخ داں کی طرح سچائی کا متلاشی ہو، بصارت پیغمبری(Prophet’s Vision)کا حامل ہو اور اس میں حال و مستقبل کے تقاضوں کو پورا کرنے کی بھرپور صلاحیت ہو، تاکہ وہ کسی اثر و رسوخ کے بغیر میلان طبع یا جانبدارانہ فکر و عمل سے پہلو تہی کرتے ہوئے ایک معروضی اور غیر جانبدارانہ فیصلہ کرسکے مگر افسوس کچھ جج صاحبان نے خواہ وہ جسٹس سمتراسین ہوں یا پرویڈنٹ فنڈمعاملے میں ملوث دیگر جج، ان تمام صفات اور صلاحیتوں کو نہ صرف نظر انداز کرتے ہوئے بلکہ بالائے طاق رکھتے ہوئے، مبینہ طور پر ایسی غلط روی، بداعمالی اور بد اطواری کا ثبوت دیا جس سے عدلیہ سے متعلق ہرشخص شرمسار ہو گیا تھا اور چیف جسٹس آف انڈیا کو کلکتہ ہائی کورٹ، جس نے کلکتہ کا نام بدلنے کے باوجود اپنا پرانا نام ہی برقرار رکھا ہے،کے جج جسٹس سمتراسین کو ان کی بداطواری کی پاداش میں عہدے سے ہٹانے کی سفارش کرنی پڑی۔علاوہ ازیںماضی میں بھی سپریم کورٹ کے کتنے ہی فیصلوں پر عمل درآمد نہیں کیا گیا مگر اس نے توہین عدالت کے کئی انتہائی اہمیت کے حامل معاملوں میں نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے کتنے ہی مجرمین کو ایک دن کی تا برخاست عدالت کی سزا دینے پر ہی اکتفا کیا۔
انتظامیہ نے بھی سپریم کے کتنے ہی فیصلوں پر عمل درآمد نہ کرنے کی نیت سے راہ فرار اختیار کرتے ہوئے قانون سازی کا سہارا لیا۔جمہوری ممالک میں یہ بات اکثر کہی جاتی ہے کہ قانون بنانے والوں سے تو قانون کی تعبیر کرنے والے زیادہ طاقتور ہیں، لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے۔ اگر سپریم کورٹ کسی قانون کو باطل قرار دے دیتی ہے یا اس میں کسی قسم کی خامی کی طرف اشارہ کرتی ہے تو سرکار اس قانون میں ترمیم کرکے یا نیا قانون بنا کر ایک نئی راہ نکال سکتی ہے، جیسا کہ شاہ بانو کے معاملے میں کیا گیا تھا اور جیسا کہ سپریم کورٹ اور دہلی ہائی کورٹ کے ملازمین کی تنخواہوں کی تخفیف کے معاملے میں نیا بل لاکر کیا گیا۔ لہٰذا یہ کہنا کہ سپریم کورٹ زیادہ مضبوط ہے یا پارلیمنٹ، کوئی صحت مند بحث نہیں ہے۔ دونوں مختلف صورتوں میں بوقت موقع، بتقاضۂ مصلحت و مفاد عامہ یا بغرض انصاف دونوں ہی وقتاً فوقتاً اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں۔
کسی بھی ملک کا قانون، وہاں کے عوام اور وہاں کے قانون ساز اداروں کی نمائندگی کرتا ہے۔ لیجسلیچر، عوام یا قوم کا نمائندہ ہوتا ہے۔ اسی لیے اس کے ذریعہ بنایا گیا قانون نہ صرف ان اداروںبلکہ عوام کے جذبات کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ بالفاظ دیگر کسی بھی قانون سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کسی ملک کے عوام، خاص طور سے جمہوری ملک کے، اپنے ملک میں کس قسم کا نظام چاہتے ہیں۔ جب ہم کسی قانون کی بات کرتے ہیں تو اس میں قوانین کے تحت بنائے گئے ضابطے بھی شامل ہوتے ہیں۔دریں صورت قانون سازی کے معاملہ میں حکومت وقت سے ہمیشہ یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ ایسے قوانین بنائے جو حقیقی معنوں میں عوام کے جذبات کی عکاسی کرتے ہوں لیکن کبھی کبھی حکومت ایسے قانون بنادیتی ہے جن کی مابعد عوام مخالفت کرتے ہیں اور حکومت کو ایسے قوانین واپس لینے پڑتے ہیں اور اس کی ہزیمت بھی ہوتی ہے۔ حال ہی میں کسانوں سے متعلق قانون واپس لیا گیا،ماضی میں پوٹا واپس لیا گیا، اب افسپا واپس لینے کی بات کی جارہی ہے تو دوسری جانب بی ایس ایف سے متعلق قانون میں جو ترامیم کی گئی ہیں، ان کی پنجاب میں مخالفت کی جارہی ہے۔ ایسی صورت میں جب ایسے معاملات نظیری عدالتوں کے روبرو آتے ہیں اور وہ ان میں سے کچھ قوانین کو یا ان کی کچھ دفعات کو باطل و کالعدم قرار دے دیتی ہیں تو کبھی کبھی اس سے ا نتظامیہ اور عدلیہ کے مابین قدرے ٹکراؤ کی سی صورت حال پیدا ہوجاتی ہے،جس سے ان کے وقار اور ساکھ پر منفی اثر پڑتا ہے۔
اس کے علاوہ کبھی کبھی ریاستی حکومتیں ایسے ایسے ضوابط وقواعد وضع کردیتی ہیں یا ایسی ہدایات جاری کردیتی ہیں جس سے عوام کی روزی روٹی تک چھیننے کا خدشہ پیدا ہوجاتا ہے اور ایسے معاملات میں انسانی حقوق سے متعلق ادارے اور کبھی کبھی ہماری عدالتیں از خود نوٹس لیتے ہوئے انتظامیہ کی توجہ اس کی جانب مبذول کراتی ہیں اور کبھی کبھی انہیں واپس لینے یا ان میں ترامیم کرنے کی ،حسب صورت ،مشورہ یا ہدایات دیتی ہیں۔ اس طرح کی صورت حال پیدا ہونے سے انتظامیہ کی نیت پر بھی کبھی کبھی عوام کی جانب سے شبہات کا اظہار کیا جانے لگتا ہے۔یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، ایک طویل عرصے سے اس طرح کی صورت حال پیدا ہوتی رہی ہے۔ جب سپریم کورٹ کے کچھ ججز نے حکومت وقت پر کولیجیم کے سلسلے میں تنقید کی تو اس سے عوام کی نظر میں عدلیہ اور انتظامیہ دونوں کے ہی وقار میں کمی آئی۔دریں صورت مقننہ کو چاہیے کہ وہ قانون بناتے وقت عوام کے جذبات کا خیال رکھے،عدلیہ کو چاہیے کہ وہ اپنے احکامات پر عمل درآمد کرانے کے لیے حکم عدولی کے مرتکب افراد اور اداروں، خواہ ان کی حیثیت کچھ بھی ہو،کے ساتھ نرمی نہ بر تے اور انتظامیہ عدلیاتی احکامات پر ایمانداری سے عمل کرے اور کروائے۔
(مضمون نگار آزاد صحافی،مصنف و سابق بیوروکریٹ ہیں۔ وہ این سی پی یو ایل کے لاء پینل کے رکن بھی ہیں اورامیٹی یونیورسٹی میں وزیٹنگ پروفیسر رہ چکے ہیں)
[email protected]