یوکرین پرروس غذائی بحران میں قصداً شدت پیدا کررہا ہے

0

کیف(ایجنسیاں) : یوکرین کے صدر ولادی میر زلنسکی نے کہا ہے کہ ’روس نے ماہ اکتوبر میں، غذائی بحران میں قصداً شدت پیدا کرنا شروع کر دی ہے۔زیلنسکی نے ٹیلی گرام پیج سے جاری کردہ ویڈیو پیغام میں روس وزارت دفاع کے، اناج راہداری سمجھوتے کو التوا میں ڈالنے کے، فیصلے کا جائزہ لیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ آج روس کی طرف سے اناج راہداری سمجھوتہ منسوخ کئے جانے سے متعلق بیان جاری کیا گیا ہے۔ فیصلہ آئندہ حالات کی واضح عکاسی کر رہا ہے۔ لیکن اصل میں ان کا یہ فیصلہ کوئی آج کا فیصلہ نہیں ہے۔زیلنسکی نے اقوام متحدہ اور جی 20 ممالک سے روس کے خلاف ردعمل ظاہر کرنے کی اپیل کی اور کہا ہے کہ روس، ماہِ ستمبر سے ہی اناج راہداری سمجھوتے کے ذیل میں یوکرینی بندرگاہوں سے نکلنے والے 176 بحری جہازوں کا راستہ روکتا چلا آ رہا تھا۔یوکرین کے وزیر خارجہ دمترو کولیبا نے بھی ٹویٹر سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ہم نے متنبہ کیا تھا کہ روس بحیرہ اسود اناج کاروائی کو سبوتاڑ کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ اس وقت ماسکو، کروڑوں انسانوں کی غذائی سلامتی کے ضامن، اناج راہداری سمجھوتے کا راستہ روکنے کے لئے بے بنیاد بہانے استعمال کر رہا ہے۔ میں تمام ممالک سے اپیل کرتا ہوں کہ روس کی طرف سے شروع کردہ بھوک کے کھیلوں کو روکنے کے لئے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔دوسری طرف امریکہ کے وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے بھی کہا ہے کہ ہمیں روس کی، اناج راہداری سمجھوتے سے، دستبرداری پر افسوس ہوا ہے۔ ہم تمام فریقین سے سمجھوتے کی کاروائیاں جاری رکھنے کی اپیل کرتے ہیں۔بلنکن نے کہا ہے کہ اس وقت تک بحیرہ اسود اناج کاروائی کے ذریعے 9 ملین میٹرک ٹن سے زائد خوراک کی ترسیل کی گئی اور اس ترسیل کے طفیل پسماندہ ا ور درمیانے درجے کی آمدنی والے ممالک میں کلیدی اہمیت کی حامل خوراک کی قیمتوں میں کمی آئی ہے۔ روس کے حالیہ اقدام سے دنیا بھر کے انسان غذائی ضروریات کے لئے زیادہ اخراجات کرنے پر یا پھر بھوک برداشت کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔بلنکن نے کہا ہے کہ سمجھوتے کو التوا میں ڈال کر روس نے دوبارہ خوراک کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ روس وزارت دفاع نے کل، الحاق شدہ علاقے کریمیا کے شہر سیواسٹوپول میں روس کے جنگی اور سِول بحری جہازوں پر یوکرینی حملے کا اعلان کیا تھا۔بیان میں کہا گیا تھا کہ حملہ ڈرون طیاروں سے کیا گیا جنہیں تباہ کر دیا گیا ہے اور یہ کہ حملے کا نشانہ بننے والے بحری جہاز اناج راہداری کے سلامتی امور میں شامل تھے۔مزید کہا گیا تھا کہ روسی جہازوں کے خلاف دہشت گردانہ کاروائی کو پیش نظر رکھتے ہوئے روسی فریق نے اناج راہداری سمجھوتے میں اپنے شرکت کو التوا میں ڈال دیا ہے۔یاد رہے کہ عالمی غذائی بحران کے حل کے لئے ترکیہ کے زیرِ انتظام جاری بحیرہ اسود اناج راہداری سمجھوتہ استنبول میں صدر رجب طیب ایردوان کی زیرِ قیادت یوکرین، روس ، ترکیہ اور اقوام متحدہ کے درمیان طے پایا تھا۔روسی حکام کی طرف سے ، یوکرینی اناج کے ضرورت مند ممالک تک نہ پہنچنے اور سمجھوتے کے روسی اناج کی برآمد کو روکنے سے متعلق جاری کردہ بیانات نے اس 120 روزہ اناج راہداری سمجھوتے کے مستقبل کو متنازع بنا دیا تھا۔