غزلیں

0

عجیب موڑ کہانی میں آنے والا ہے
وہ پھر سے عہد جوانی میں آنے والا ہے

زمانہ پہلے فلک نے جسے اٹھا لیا تھا
وہ پھر سے عالم فانی میں آنے والا ہے

جو مدتوں رہا ویران لفظ کی صورت
وہ آج حسن معانی میں آنے والا ہے

نہیں ضروری کہ اولیٰ ہی سب سے اعلیٰ ہو
ابال مصرعۂ ثانی میں آنے والا ہے

عذاب اس نے جسے کب سے روک رکھا تھا
وہ سیل آب روانی میں آنے والا ہے

ڈاکٹر فریاد
¡ ¡

 

چہرے تو بدلے ہوئے ہیں عشق کے بازار میں
بے وفائی کے سوا اور کیا ہے دنیادار میں
آگئی مطلب پرستی جب سے ان ہشیار میں
زندگی کا لطف بھی جاتا رہا سنسار میں
اب سیاست کے ہنر پر لوگ ہنسنے بھی لگے
خود پرستی ہے سیاست دانوں کے کردار میں
ان بہاروں کے حسیں موسم میں حق کا گل کھلے
آؤ چلتے ہیں جگانے ذوق چوکیدار میں
یہ تو ہے بزم ادب سچ بولنا بھی سیکھ لو
میں تو ہوں مشہور حق گوئی کے کاروبار میں

محمد فاروق گیاوی

Sarwan Market,Barachatti
Gaya-824201
¡ ¡

 

لوٹ کر اپنے گھر گیا ہوں میں
لوگ کہتے ہیں مر گیا ہوں میں
اب کسی سے نہیں کوئی شکوہ
اپنے سائے سے ڈر گیا ہوں میں
اپنے دل کے سکون کی خاطر
جانے کس کس کے در گیا ہوں میں
درد تنہائی، کروٹیں ، دھڑکن
سب ترے نام کر گیا ہوں میں
جی وہاں بھی نہیں لگا منظرؔ
جس جگہ عمر بھر گیا ہوں میں

منظرؔ اعظمی

Sarai Mir
Azamgarh-276305
¡ ¡