غازی آباد گینگ ریپ : پولیس کو کیسے پتہ چلا کہ اسے اغوا کیا گیا ہے اور اسے کہاں رکھا گیا ہے؟

0

نئی دہلی (ایسجنی ) لڑکی کے ساتھ درندگی کی تمام حدیں پار کردیں ان درندوں نے۔ انسانیت کو تارتار کردیا۔ وہ درندے اس لڑکی کے جسم کو نوچ رہے تھے۔ان درندوں نے اس کو بیچنے کی کی کوشش بھی کی ۔ لڑکی کی حالت اس قدر نازک حالت تھی کہ خریدنے والے پیچے ہٹ گئے۔ ملزم سے رابطہ کرنے پر دو خریدار بھی آئے لیکن لڑکی کی حالت دیکھ کر پیچھے ہٹ گئے۔ اس سے پہلے کہ ملزم لڑکی کو بیچنے کے لیے کسی دوسرے گاہک سے رجوع کرتا، ان درندوں کو پولیس نے پکڑ لیا۔

متاثرہ لڑکی کی والدہ کا کہنا ہے کہ ملزم نے اس کی بیٹی کو دو دن تک جنگل میں رکھ کر اجتماعی زیادتی کی اور پھر ملزم کی ایک بہن کے گھر لے جا کر زیادتی کی۔ ملزموں نے بیٹی کے جسم کو دانتوں سے کاٹا اور بیڑی سگریٹ سے داغا بھی ۔ اس کے بعد ملزم نے اپنی بیٹی کو فروخت کرنے کا منصوبہ بنایا۔ دو لوگ اس کی بیٹی کو خریدنے آئے تھے۔

ملزم نے اس سے دو لاکھ روپے کا مطالبہ کیا لیکن اس لڑکی کی حالت اس قدر نازک تھی کہ خریداروں نے انکار کردیا۔ اس کے بعد ملزم نے دوسرے گاہکوں کی تلاش شروع کر دی تاہم اسی دوران پولیس موقع پر پہنچ گئی اور ملزم کو پکڑ لیا۔ متاثرہ لڑکی کا کہنا تھا کہ پہلے تو ملزمان اسے بیچنے کی بات کرتے تھے لیکن جب خریداروں نے انکار کیا تو اسے قتل کرنے کی باتیں کرنے لگے۔

اس لڑکی کی حالت دیکھ کر اسپتال کا عملہ بھی رو پڑا

۔لڑکی کی والدہ کا کہنا ہے کہ ملزمان نے ان کی بیٹی کو اس قدر تشدد کا نشانہ بنایا کہ وہ ڈھائی ماہ سے بھی جسمانی تکلیف میں مبتلا ہے۔ دو سرجریوں کے باوجود وہچلنے پھرنے سے قاصر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسپتال لے جانے پر ان کی بیٹی کی حالت دیکھ کر نرسیں بھی رو پڑیں۔ اس کے ساتھ ڈاکٹروں نے بھی افسوس کا اظہار کیا۔

ان کی بیٹی پاگلوں کی طرح چیخنے لگتی ہے… وہ مجھے مار دے گی۔

متاثرہ لڑکی کی والدہ کا کہنا ہے کہ اس واقعے کا ان کی بیٹی پر ذہنی اثر ہوا ہے۔ وہ اسپتال میں علاج کے دوران بھی چیخ و پکار کرتی تھی۔ ڈھائی ماہ بعد بھی وہ پاگلوں کی طرح چیخنے لگتی ہے۔ گھبراہٹ کے عالم میں وہ کہتی ہیں کہ وہ لوگ آئے ہیں۔ وہ اسے مار ڈالیں گے۔ ماں کا کہنا ہے کہ بیٹی کی یہ حالت دیکھ کر وہ اور بیٹے بھی کونے میں بیٹھ کر رونے لگتے ہیں۔ اس واقعے کے بعد سے ان کی بیٹی بے بسی کی زندگی گزار رہی ہے۔

علاج قرض لے کرنا پڑرہا ہے۔ مالی حالت کافی کمزور ہے ۔ ڈی ایم نے یقین دلایا ہے کہ وہ متاثرہ کی مالی مدد کریں گے۔اپنی بیٹی کا علاج اپنے زیورات اور دیگر اشیاء بیچ کر کروارہی ہے۔ پیسے نہ ہونے کی وجہ سے وہ بیٹی کو اسپتال سے گھر لے آئی۔ لیکن ڈھائی ماہ گزرنے کے بعد بھی اس کا خون بند نہیں ہوا۔ وہ کہتی ہیں کہ کبھی وہ کسی سے ہزار روپے اور کسی سے 500 روپے لے کر اپنی بیٹی کا علاج کروا رہی ہیں۔ علاج پر تقریباً دو لاکھ روپے خرچ ہوئے ہیں۔ وہ مقروض ہو گئی ہیں۔ متاثرہ کی ماں کا کہنا ہے کہ ڈی ایم نے انہیں مالی مدد کا یقین دلایا ہے۔

پولیس والوں کو سزا ملنی چاہئے تبھی ان کو سکون ملے گا:متاثرہ

متاثرہ لڑکی کا کہنا ہے کہ اگر پولیس اسے آدھی رات کو آدھار کارڈ لینے کے لیے نہ بھیجتی تو وہ ظلم کا نشانہ نہ بنتی۔ اس واقعے کے ذمہ دار پولیس والے ہیں۔ ڈھائی ماہ کے بعد تین پولیس اہلکاروں کی معطلی کی خبر سن کر انہیں سکون ملا لیکن انہیں جیل جانے کے بعد ہی سکون ملے گا۔

متاثرہ خاندان کا پولیس سے یہ سوال

لڑکی کو آدھی رات کو آدھار کارڈ لانے پر کیوں مجبور کیا گیا؟
آدھار کارڈ کے بغیر لڑکی کی ماں اور بھائی کو نہیں چھوڑا جا سکتا تھا تو جب لڑکی واپس نہیں آئی تو دونوں کیسے رہ گئے؟
پولیس کو کیسے پتہ چلا کہ اسے اغوا کیا گیا ہے اور اسے کہاں رکھا گیا ہے؟
-پولیس کو کیسے پتہ چلا کہ لڑکی کس گھر میں ہے؟