غزلیں

0

بند آنکھیں کروں اور خواب تمہارے دیکھوں

تپتی گرمی میں بھی وادی کے نظارے دیکھوں

اوس سے بھیگی ہوئی صبح کو چھو لوں جب میں
اپنی پلکوں پہ میں اشکوں کے ستارے دیکھوں

اب تو ہر گام پہ صحرا و بیاباں میں بھی
اپنی وادی کے ہی صدقے میں نظارے دیکھوں

میں کہیں بھی رہوں جنت تو مری وادی ہے
چاند تاروں کے پڑے اس پہ میں سائے دیکھوں

مجھ کو چھو جاتی ہے آ کر جو کبھی صبح تری
ہر طرف پھولوں کے دلچسپ نظارے دیکھوں

——————————————-

کہیں گھر اجڑ رہے ہیں کہیں گولی چل رہی ہے
کہیں چیختے ہیں انساں کہیں لاش جل رہی ہے
یہ رقم جو کر رہا ہوں وہی روز دیکھتا ہوں
کہیں بٹ رہی ہے نفرت کہیں گھات پل رہی ہے
کہیں قتل کی ہماری کوئی رچ رہا ہے سازش
انہیں خوف دہشتوں میں مری رات ڈھل رہی ہے
مجھے اپنے گھر کو دیکھے ہوئے ماہ و سال کتنے
یہاں قید میں پڑا ہوں وہاں ماں مچل رہی ہے
یہ جو دن گزر رہے ہیں ابھی اور ہوں گے بدتر
یہی سنتے سنتے اخترؔ مری عمر ڈھل رہی ہے

شمیم اخترؔ

5PM Bustee, 4Th Lane
Shibpur, Howrah-711102
¡ ¡

 

————————————————–

عشق کی پہلے اسٹڈی کرنا
بعد میں یار شاعری کرنا
چاند سمجھو، چراغ یا جگنو
کام میرا ہے روشنی کرنا
تم کو دکھ جائے کوئی تم سا جب
دوڑ کر اس سے دوستی کرنا
دل دہکتے ہیں آگ میں دن رات
کتنا مشکل ہے دشمنی کرنا
صرف اتنا ہے کام اس کا نفیسؔ
میرے کمرے میں روشنی کرنا

نفیسؔ وارثی

Deehpur,Kheri Town
District Kheri-262702

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS