جـنـتـا کا ’جـنـرل‘

0

ہندوستانی فوج کا بہادر سپوت چلا گیا۔ یہ ممکن ہے کہ ملک کے پہلے سی ڈی ایس جنرل پبن راوت کے لیے ان کے قریبیوں کے اس ہمدردانہ خطاب کی تخلیق اتفاقاً ہوئی ہو، لیکن اس کے ’اپ بھرنس‘ میں جس بہادر لفظ کی گونج ہے، اسے جنرل راوت نے کسی یوگی کی طرح حب الوطنی کی اپنی انتھک کوشش سے گڑھا تھا۔ اس ہفتے جمعہ کو جب پورے ملک نے جنرل روات کو آخری وداعی دی تو ہر زبان کے بول اور ہر آنکھ کی نمی اپنے چہیتے فوجی کی یہ تصویر بیاں کرتی نظر آئی۔ اس کی وجہ بھی ہے۔ جس طرح ایک ہی چتا پر وداع ہو کر جنرل راوت نے اپنی اہلیہ سے تاعمر ساتھ رہنے کے عہد کو نہیں توڑا، اسی طرح ملک اور فوج سے کیا کوئی وعدہ بھی نہیں ٹوٹنے دیا۔
تقریباً 43 برسوں کے اپنے فخریہ کرئیر کے دوران جنرل راوت نے وردی کے وقار کو ہی اپنا سب سے اعلیٰ اعزاز بنایا۔ جب ضرورت ہوئی تو ملک کے دشمنوں کو راست انداز میں سمجھایا اور جب حد پار ہوئی تو بنا لاگ لپیٹ کے انتباہ دیا۔
پانچ سال پہلے جب انہو ںنے بری فوج کی کمان سنبھالی تھی، تب وزیر اعظم نریندر مودی نے انہیں اس عہدے کے اہل دو سینئر افسروں کے آگے رکھتے ہوئے اتنی بڑی ذمہ داری سونپی تھی۔ تب جو سوال اٹھے تھے ان کا جواب گزرے وقت اور اس وراثت نے دے دیا ہے، جو جنرل راوت اپنے پیچھے چھوڑ کر گئے ہیں۔ چین، پاکستان کے ساتھ نارتھ ایسٹ میں ان کی حکمت عملی ملک کے لیے ’سرکشا کوچ‘ ثابت ہوئی۔ ڈوکلام اور گلوان گھاٹی میں چین کو لے کر ہمارے جوانوں کی ایسی جارحیت ملک نے پہلی بار دیکھی۔ اگر ڈوکلام تنازع کے وقت پہلی بار بھوٹان کے علاقے میں تعمیر کرنے پر چین کو چیلنج ملا، تو گلوان میں ہندوستانی سرحد کے قریب فوج کی موجودگی بڑھانے کے چین کی چال کو انہوں نے اونچے علاقوں میں ہمارے فوجیوں کی تعداد بڑھا کر ناکام کیا۔ چین کی سرحد تک بارہ ماسی سڑکوں کی تعمیر کا خیال بھی جنرل راوت کی سوچ کی دین ہے۔ اسی طرح اوری اور پلوامہ کے بدلے کے طور پر سرحد پار جا کر دہشت گردی کے ٹھکانوں پر سرجیکل اسٹرائک اور بالاکوٹ ہوائی حملوں کی پالیسی کو انجام دے کر انہو ںنے پاکستان کو بھی باور کرا دیا کہ لڑائی بھلے ہی وہ شروع کرے، لیکن اسے ختم ہندوستان ہی کرے گا۔ ساتھ میں یہ مضبوط پیغام بھی کہ نئے اور بدلے بھارت میں پاکستان کو اب ایٹمی طاقت کی گیدڑبھبکی کا ڈر دکھا کر دہشت گردوں کو ایل او سی پار کرنے کی چھوٹ نہیں ملنے والی ہے۔ اس سرجیکل اسٹرائک کی ایک ’ریہرسل‘ ہم نے 2015 میں بھی دیکھی تھی، جب منی پور میں دہشت گردانہ حملے میں شہید 18 ہندوستانی جوانوں کا بدلہ لینے کے لیے ہندوستانی فوج ان کی ہی کمان میں دہشت گرد تنظیم این ایس سی این (کے) کو نیست و نابود کرنے کے لیے آسمان سے آفت بن کر ٹوٹی تھی۔
دشمن کو چونکانے کی اس قابلیت اور مشکل سے مشکل فیصلے لینے کی جنرل راوت کی ہمت نے ہندوستانی فوج کو ہر مورچے پر اپنے مخالفین سے دو قدم آگے رکھا۔ اس لیے جب دو سال پہلے سی ڈی ایس کے طور پر ملک کی سیکورٹی کے سب سے بڑے پالیسی ساز کو چننے کا موقع آیا تو جنرل بپن راوت اس عہدے کی پہلی اور اکلوتی پسند بن کر ابھرے۔ نئی ذمہ داری کے تحت جنرل راوت بری، بحری اور فضائیہ کو ایک چھتری کے نیچے لانے کے چیلنج سے پر مشن پر تھے۔ فوج کی جدید کاری کے منصوبے کا یہ مشن جنرل راوت کے دل کے بہت قریب تھا اور اپنی ہر ذمہ داری کی طرح وہ اسے بھی پورے حوصلے کے ساتھ پورا کرنے میں لگے ہوئے تھے۔ آرمی اور ایئر فورس کو متحد کرکے لداخ میں چینی دراندازی روک کر انہوں نے دنیا کو اس کی پہلی جھلک بھی دکھا دی تھی۔ ان کی جرأت اور ہمت کی تو پوری دنیا قائل تھی، لیکن سی ڈی ایس بننے کے بعد ملک نے ان کے اندر کے اس نوکر شاہ کو بھی دیکھا جس نے بڑی کامیابی سے فوج کے جدید کاری اور اسلحوں کے شعبے میں ہندوستان کی خود انحصاری کی راہ میں لال فیتہ شاہی کے تمام راستے بند کر دیے۔ بڑی بات یہ تھی کہ مقبولیت کی چاہت انہیں کبھی ایمانداری کی راہ سے الگ نہیں کر پائی۔ اس خوبی نے انہیں ملک کے باشندوں کے ساتھ ہی موجودہ سیاسی قیادت کا بھی ’لاڈلا‘ بنایا۔
یہ بھی قدرت کا عجیب المیہ ہے کہ جس اونچائی والے علاقوں میں دشمن بھی ان کی جنگی صلاحیت کا لوہا مانتے تھے، وہی علاقہ آخر کار انہیں ہم سب سے بے وقت چھیننے کی وجہ بھی بنا۔ ساتھ ہی اس حادثے نے ایسے مشکل علاقوں میں وقت رہتے حیات بخش مدد پہنچانے میں ہماری محدود طاقت کو بھی ظاہر کیا ہے۔ پہاڑی علاقوں میں جہاں ہر حادثہ ایک ایمرجنسی اور وقت ہی زندگی ہے، وہاں ہم آخر کب تک پچھڑتے رہیں گے؟ حالانکہ اب یہ جانچ کا موضوع ہے اس لیے اس پر زیادہ تبصرہ فی الحال ٹھیک نہیں ہے لیکن یہ جاننا ضروری ہے کہ کیا اس حادثے میں وقت رہتے مدد پہنچ جاتی تو اتنے بڑے نقصان کو ٹالا جاسکتا تھا؟
بڑا سوال اس بات کا بھی ہے کہ جنرل راوت نے ملک کے لیے جو سپنا دیکھا، اسے اب کون پورا کرے گا؟ نئے سی ڈی ایس پر نہ صرف جنرل راوت کے طے کیے ہوئے اعلیٰ پیمانوں پر کھرا اترنے کا دبائو رہے گا، بلکہ دفاعی شعبے میں تبدیل ہونے والی اصلاحات کو آگے بڑھانے کا چیلنج بھی رہے گا۔ جب جنرل راوت نے یہ ذمہ داری سنبھالی تھی، تب چین مخالف کے طور پر اتنا کھل کر سامنے نہیں آیا تھا۔ اصل مخالف پاکستان تھا اور اس کے ساتھ ہی ملک کے اندرونی علاقوں میں دہشت گردی کا چیلنج تھا۔ لیکن ڈوکلام اور گلوان کے بعد حالات بدل گئے ہیں۔ دو محاذ پر جنگ کے امکانات اب دور کی کوڑی نہ ہو کر فوری خطرے کی جانب بڑھ گئے ہیں۔ اس میں شمال مشرق میں چین حمایت یافتہ انتہا پسندی کو جوڑ لیا جائے تو ڈھائی مورچے کی جنگ کی تھیوری صحیح ہوتی دکھ رہی ہے۔ بڑا چیلنج فوجیوں کے اتحاد کے محاذ پر بھی رہے گا۔ جنرل راوت ہندوستانی فوج کو ایک نیا رنگ دینے کے مشن پر تھے۔ ملک کے نئے سی ڈی ایس کے کندھوں پر اب اس وراثت کو آگے لے کر جانے کی بڑی جوابدہی رہے گی۔ بیشک نیا سی ڈی ایس نئی سوچ لے کر آئے گا لیکن یہ دلچسپی کا موضوع تو ہے ہی کہ جنرل راوت کو آخر کون سی سوچ ترغیب دیتی تھی؟ ایک بار جنرل راوت نے خود اس سوال کا جواب دیا تھا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیاوہ تنقید سے متاثر ہوتے ہیں تب انہوں نے کہا تھا کہ میں ’اِمیون‘ نہیں ہوں لیکن مجھے پتہ ہے کہ میں اپنے اوراپنے ادارے کے تئیں سچا ہوں۔ یہی بات معنی رکھتی ہے۔ واقعی ملک کی خدمت کے لیے اس سے سچا پیغام کیا ہو سکتا ہے؟
(کالم نگار سہارا نیوز نیٹ ورک کے
سی ای او اور ایڈیٹر اِن چیف ہیں)

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS