معیشت کا ایندھن بحران

0

…سروج کمار

آج کے وقت میں معیشت کا رشتہ ایندھن سے کچھ اسی طرح ہے ، جس طرح انسانی زندگی کا رشتہ آکسیجن سے ہے۔ ہندوستان ایک ترقی پذیر معیشت ہے اور دنیا کا تیسرا سب سے زیادہ ایندھن کھپت کرنے والا ملک بھی۔ چوں کہ ہندوستان اپنی کھپت کا زیادہ تر حصہ درآمد کرتا ہے، لہٰذا ایندھن کی قیمت معیشت کو راست طور پر متاثر کرتی ہے۔ ایندھن کی قیمت میںاضافہ سے نقل و حمل اور مینوفیکچرنگ کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے اور اس کا نتیجہ مہنگائی کے طور پر دیکھنے کو ملتا ہے۔ گاڑیوں کی فروخت میں کمی آتی ہے تو معیشت کے دوسرے شعبے بھی متاثر ہوتے ہیں، کیوں کہ آٹوانڈسٹری روزگار مہیا کرانے والا ایک اہم شعبہ ہے۔ اس حالت کا بڑا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔
گزشتہ ماہ پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات ختم ہونے کے بعد پٹرول-ڈیژل کی قیمتوں میں اضافہ کا سلسلہ پھر سے شروع ہوگیا۔ مئی میں ہی اب تک درجن بھر سے زیادہ مرتبہ پٹرول-ڈیژل کی قیمتوں میں اضافہ ہوچکا ہے اور کئی شہروں میں پٹرول 100روپے کے پار جاچکا ہے۔ فی الحال اس کی وجہ بین الاقوامی بازار میں کچے تیل کی قیمت میں اضافہ بتایا جارہا ہے۔ بیشک کچے تیل کی قیمت میں اس وقت تیزی کی طرف رجحان ہے لیکن جب قیمتیں بالکل نیچے آگئی تھیں، تب بھی اس کا فائدہ عام صارفین کو دینے کے بجائے حکومت نے ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کرکے منافع اپنی جیب میں رکھ لیا تھا۔ اب کچے تیل کی قیمت میں اضافہ پر بھی حکومت ایکسائز ڈیوٹی کم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ جب کہ رواں مالی سال کے آغاز میں اگر حکومت ایکسائزڈیوٹی ساڑھے 8روپے فی لیٹر کم کردیتی تو بھی 2021-22کے تین لاکھ 20ہزار کروڑ روپے کے تخمینہ بجٹ کا ہدف پورا ہوجاتا۔ ایکسائزڈیوٹی کی موجودہ شرح سے حکومت کو چار لاکھ 35ہزار کروڑ روپے کی کمائی ہوسکتی ہے۔

سالانہ جی ڈی پی شرح میں ایک فیصد کی کمی کا مطلب ہوتا ہے فی شخص ماہانہ آمدنی میں 105روپے کی کمی۔ جس ملک میں کسانوں کو 500روپے دینا بھی اعزاز کی بات ہے، اور جہاں اضافی 23کروڑ لوگوں کی کمائی کم ہوکر 375روپے کی کم ازکم یومیہ اجرت سے بھی نیچے چلی گئی ہے، وہاں ماہانہ آمدنی میں اب اور 105روپے کی کمی کے کیا معنی ہیں، اس کی گواہی آنے والے وقت میں معیشت ہی دے گی۔

پٹرول اور ڈیژل پر مرکز کے ساتھ ہی ریاستی حکومتیں بھی ٹیکس وصول کرتی ہیں۔ موجودہ وقت میں پٹرول کی کل قیمت کا تقریباً 63فیصد حصہ مرکز اور ریاست کے ٹیکس کا ہے۔ اسی طرح ڈیژل پر دونوں ٹیکس کا حصہ قیمت کا تقریباً 60فیصد ہے۔ وبا کے سبب لوگوں کی کمائی کم ہوگئی ہے۔ عظیم پریم جی یونیورسٹی کی ایک ریسرچ کے مطابق ملک کی 23کروڑ آبادی غریبی لائن سے نیچے چلی گئی ہے، جس کی کمائی 375روپے کی کم ازکم روزانہ دہاڑی سے بھی کم رہ گئی ہے۔ ایسے میں پٹرول-ڈیژل کی اونچی قیمتیں لوگوں کی جیب کے ساتھ ان کے دل بھی جلا رہی ہیں۔ مہنگے ہوئے ایندھن سے جو حالات بن رہ ہیں، وہ معیشت کو کسی بھی حال میں اونچائی پر لے جانے والے نہیں ہیں۔
بین الاقوامی بازار میں کچے تیل کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ دنیا کے بڑے تیل درآمد کرنے والے ممالک میں کورونا کا ٹیکہ آجانے اور ٹیکہ کاری شروع ہوجانے سے معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اس سے ڈیمانڈنکلنے کا سلسلہ بننا شروع ہوا ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب نے امریکہ اور ایشیا کے لیے کچے تیل کی قیمت میں اضافہ کردیا ہے۔ اوپیک ممالک نے بھی بازار میں تیزی کے مقصد سے تیل کی پیداوار روک رکھی ہے۔ اس کے علاوہ ایران پر سے امریکی پابندی ہٹائے جانے سے متعلق غیریقینی صورت حال قائم ہے۔ ان سب اسباب سے کچے تیل کی قیمت میں تیزی کا رُخ ہے اور اس کے آگے بھی برقرار رہنے کا اندازہ ہے۔
کچے تیل کی قیمت اگر ڈیمانڈ کے سبب بڑھتی ہے تو اسے معیشت کے لیے برا نہیں سمجھا جاتا۔ لیکن قیمت میں اضافہ اگر سپلائی کی رکاوٹوں کے سبب ہوتا ہے تو یہ معیشت کے لیے اچھا نہیں سمجھا جاتا ہے۔ فی الحال کچے تیل کی قیمت میں اضافہ کے پیچھے دونوں ہی اسباب ہیں اور ہندوستانی معیشت کے لیے یہ حالت اچھی نہیں ہے۔ کچے تیل کی قیمت میں اضافہ سے درآمد پر بوجھ بڑھتا ہے اور اس سے مالی خسارہ اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ میں اضافہ ہوتا ہے۔ ہندوستان کچے تیل کی اپنی ضرورت کے لیے چوں کہ زیادہ تر درآمد پر منحصر ہے، لہٰذا قیمت میں معمولی اضافہ بھی خزانہ پر بڑا اثر ڈالتا ہے۔ ہنددوستان ایک ترقی پذیر معیشت ہے۔ ساتھ ہی امریکہ اور چین کے بعد دنیا کا تیسرا سب سے زیادہ ایندھن کھپت کرنے والا ملک بھی ہے۔ لیکن یہاں ایندھن کے ذرائع نہیں ہیں۔ کھپت کا تقریباً 86فیصد حصہ درآمد ہوتا ہے۔ سال 2013اور 2015کے درمیان کچے تیل کی قیمت میں بھاری کمی کا ہندوستان کو بہت فائدہ ہوا تھا۔ نتیجتاً مالی سال 2014 اور 2016کے درمیان مالی خسارہ مجموعی گھریلو پیداوار(جی ڈی پی) کا 0.6فیصد کم ہوگیا تھا۔ سال 2015میں کچے تیل کی قیمت2014کے 93.17ڈالر فی بیرل سے کم ہوکر 48.66ڈالر فی بیرل ہوگئی تھی۔ سال2016میں یہ اور نیچے گئی اور قیمت 43.29ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ لیکن 2017میں کچے تیل میں پھر تیزی کا رُخ شروع ہوا اور بین الاقوامی بازار میں تیل کی قیمت 50.80ڈالر فی بیرل تک چلی گئی۔ اس کے بعد سے ہی اس میں اضافہ کا رجحان قائم ہے۔ سال 2018میں کچا تیل 65.23ڈالر فی بیرل ہوگیا اور اسی سال ایک وقت میں قیمت 2014 سے اب تک کی اعلیٰ ترین سطح 77.41 تک پہنچ گئی۔ حالاں کہ 2019 میں تھوڑی بہتری ہوئی اور قیمت 56.99ڈالر فی بیرل رہی۔ وبا کی پہلی لہر کے دوران عالمی لاک ڈاؤن کے سبب جب ساری معاشی سرگرمیاں بند تھیں، تب کچے تیل کی قیمت بھی ایک دم نیچے آگئی تھی۔ نتیجتاً 2020میں کچا تیل 39.68ڈالر فی بیرل تھا اور لاک ڈاؤن کی مدت کے دوران تو یہ 11ڈالر فی بیرل تک آگیا تھا۔ لیکن تیل کی قیمت میں اس گراوٹ کا فائدہ عوام کو نہیں دیا گیا۔ حکومت نے اس مدت میں مارچ سے مئی کے دوران دومرتبہ میں پٹرول پر 13روپے اور ڈیژل پر 16روپے ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کرکے پورا فائدہ اپنی جیب میں رکھ لیا تھا۔ اگر ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ نہیں کیا گیا ہوتا تو آج عام صارفین تھوڑی راحت محسوس کرتے۔ ابھی بھی حکومت کا ارادہ ایکسائز ڈیوٹی کم کرنے کا نہیں لگ رہا ہے۔ موجودہ وقت میں پٹرول پر 32.90 روپے اور ڈیژل پر 31.80روپے فی لیٹر ایکسائز ڈیوٹی ہے۔ ریاستوں کا ٹیکس الگ سے ہے۔
یو ایس انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (ای آئی اے) کے تازہ قلیل مدتی توانائی کے منظر کے اندازے بتاتے ہیں کہ 2021میں کچے تیل کی قیمت اوسطاً60.67ڈالر فی بیرل رہ سکتی ہے۔ اس لحاظ سے 2021میں ہندوستان کو کچے تیل کے لیے فی بیرل تقریباً 21ڈالر اضافی خرچ کرنے ہوں گے۔ اس سے کرنٹ اکاؤنٹ کے خسارہ میں 20ارب ڈالر سے زیادہ کا اضافہ ہوجائے گا اوور جی ڈی پی تقریباً ایک فیصد سے زیادہ کم ہوجائے گی۔ یہ ملک کی معاشی صحت کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔ جی ڈی پی میں کمی کا سب سے زیادہ خمیازہ غریبوں کو بھگتنا پڑتا ہے، کیوں کہ ہندوستان ایک ایسا معاشرہ ہے، جہاں عدم مساوات کی کھائی آج بھی بہت چوڑی ہے۔ سالانہ جی ڈی پی شرح میں ایک فیصد کی کمی کا مطلب ہوتا ہے فی شخص ماہانہ آمدنی میں 105روپے کی کمی۔ جس ملک میں کسانوں کو 500روپے دینا بھی اعزاز کی بات ہے، اور جہاں اضافی 23کروڑ لوگوں کی کمائی کم ہوکر 375روپے کی کم ازکم یومیہ اجرت سے بھی نیچے چلی گئی ہے، وہاں ماہانہ آمدنی میں اب اور 105روپے کی کمی کے کیا معنی ہیں، اس کی گواہی آنے والے وقت میں معیشت ہی دے گی۔ ایندھن قیمتوں میں اچھال معیشت کے لیے کسی زلزلہ سے کم نہیں ہے اور روپے کی قدر میں کمی اس میں نئے معنی جوڑے گی۔
(بشکریہ: جن ستّا)

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here