مقتول پرنسپل کے احباب و اقارب کا سری نگر میں سیول سکریٹریٹ کے باہر دھرنا

0
image:thehindu

سری نگر: (یو این آئی) سری نگر کے عید گاہ علاقے میں جمعرات کو نامعلوم اسلحہ برادروں کے ہاتھوں قتل ہونے والی اسکول پرنسپل کے اہلخانہ، رشتہ داروں اور دیگر احباب و اقارب نے جمعے کے روز یہاں سیول سکریٹریٹ کے باہر دھرنا دیا اور انصاف کا مطالبہ کیا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ سکھ برادری سے وابستہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد، جن میں زیادہ تر مقتولہ کے رشتہ دار شامل تھے،نے آلوچی باغ سے سیول سکریٹریٹ تک پیدل مارچ کیا اور وہاں پہنچ کر خاموش دھرنا دیا۔ انہوں نے کہا کہ رشتہ داروں نے مقتولہ کی لاش کو ایک اسٹریچر پر اٹھا رکھا تھا۔ اس دوران سینیئر پولیس افسران جائے موقع پر پہنچ گئے اور انہوں نے اہلخانہ کو مقتولہ کی لاش کو بٹہ مالو لے کر آخری رسومات انجام دینے پر راضی کیا۔
اہلخانہ نے بٹہ مالو روانگی سے قبل انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے قاتلوں کو قرار واقعی سزا سنانے کا مطالبہ کیا۔
بعد ازاں مقتولہ کی بٹہ مالو میں آخری رسومات انجام دی گئیں اور اس موقع پر لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔
بتا دیں کہ سری نگر کے عید گاہ میں جمعرات کی صبح نامعلوم بندوق برداروں نے بائز ہائر سیکنڈری اسکول عید گاہ کی پرنسپل سپندر کور ساکن آلوچی باغ اور ان کے ساتھی دیپک چند ساکن جموں کو گولیاں برسا کر ابدی نیند سلا دیا۔
دو اساتذہ کی ہلاکت کا یہ واقعہ معروف دوا فروش مکھن لال بندرو کی نامعلوم اسلحہ برداروں کے ہاتھوں ہلاکت کے ایک روز بعد پیش آیا۔ نامعلوم بندوق برداروں نے مکھن لال بندرو کو منگل کی شام اپنی دکان واقع اقبال پارک سری نگر کے باہر گولیاں بر سا کر ابدی نیند سلا دی تھا۔ اسی شام سری نگر کے لال بازار میں بہار کے پانی پوری بیچنے والے ایک شہری اور حاجن کے ایک سومو اسٹینڈ صدر کو بھی گولیاں بر سا کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ جموں و کشمیر کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں نے اس واقعے کی شدید الفاط میں مذمت کی ہے۔

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here