اظہار خیال کی آزادی نقصان دہ نہ ہو

0

نیلم مہاجن
رواں 21ویں صدی میں کہیں بھی مذہبی روا داری کا ماحول نہیں دکھائی دے رہا ہے۔ پچھلے دنوں سلمان رشدی کو چھرا گھوپنے سے اظہار خیال کی آزادی کے نظریہ اور اصول کو نئے طریقے سے سمجھنے اور اس پر بات کرنے کا دور شروع ہوا ہے۔ نیو جرسی کے ایک 24سالہ نوجوان ہادی مسٹر کو موقع واردات سے گرفتار کرلیا گیا تھااور اس پر دوسرے درجے کے قتل اور ہتھیار سے حملے کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروںنے ابھی تک عوامی طور پر یہ بات نہیں بتائی ہے کہ حملے کے پس پشت کیا عوامل تھے۔ اس کے بارے میں سلمان رشدی کے خاندان کا کہنا ہے کہ ان کو ایسے زخم لگے ہیں جن سے کہ ان کاطرز زندگی بدل جائے گا۔ مصنف سلمان رشدی پر حملہ امریکہ کے نیویارک کے چتائو انسٹی ٹیوشن کے ایک پروگرام میں ہوا۔ یہ وہ ادارہ ہے جو گزشتہ 150سال سے ثقافتی اور عیسائی لیڈرو ںکی میزبانی کررہاہے۔
حملے کے بعد دنیا بھر کے مصنفوںاور عالمی لیڈروں نے سلمان رشدی کو اظہار خیال کی آزادی کی علامت کے طور پر تسلیم کیا جبکہ ان کے ناول ’ دی سیٹنک ورسز‘ کے ارد گرد اختلاف رائے کی کیا حدود ہیں، یہ بات واضح نہیں ہو پائی ہے۔ جبکہ اسی طرح ایک اور عالمی شہرت یافتہ فنکار مقبول فدا حسین نے جب درگا کی تصاویر بنائی تو ہندو وادیوں نے دیوی کی توہین کا الزام لگایا تھا۔ یہاں تک کہ ایم ایف حسین کے لیے زمین تنگ کردی گئی اور انہیں کویت کی شہریت لینی پڑی تھی بعد میں لندن میں گمنامی کی زندگی گزارتے ہوئے ان کی موت واقع ہوگئی تھی۔ حال ہی میں نوپور شرما اور نوین کمار جندل جو کہ بی جے پی کے ترجمان تھے کے پیغمبر اسلام محمدؐ پر توہین آمیز بیان دینے والے معاملے پر پوری دنیا میں مذمت کی گئی۔ یہاں تک کہ ہندوستان کے بین الاقوامی سفارتی تعلقات بھی متاثر ہوگئے۔ ہندوستان کی سرکار نے بڑی مشکلوں سے حالات کو سنبھالا۔ ابھی بھی مسلم سماج ان سے ناراض ہے۔ کیا یہ مذہبی رواداری ہے۔ دو سال پہلے سلمان رشدی کے ایک کھلے مکتوب پر دستخط کرتے ہوئے کچھ اہم شخصیات نے دنیا بھر میں آپسی عدم رواداری کے ماحول کی مذمت کی تھی اور اس میں آگاہ کیا گیاتھا کہ اطلاعات اور ذاتی خیالات کا تبادلہ اوراظہار خیال کی آزادی ایک لبرل سماج کی جان ہے۔ ماحول دن بہ دن خراب ہوتا جارہا ہے۔ ان اصولوں پر عمل درآمد کرنے کا اعلان تھا جسے سلمان رشدی نے 1989میں وضع کیے تھے۔ جب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ روح اللہ خمینی نے ان کو قتل کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس طرح وہ اظہار خیال کی آزادی کے مخالف کے طور پر بن کر ابھرے۔ ’ہارپر‘ میگزین کے ذریعہ 2020میں شائع ایک خط امریکہ میں نسلی انصاف کے اظہار کے درعمل پر سیات کرنے والے لوگوں نے اس کی مذمت کی۔ ایک نقاد نے ان پر ’ امیر بے وقوفوں‘ کے ذریعہ کہہ کر تنقید کا نشانہ بنا یا۔ رشدی نے لکھا کہ اسے اس طرح سے دیکھیں۔ ’برے دور میں میرے لیے کھڑے ہونے والے لوگ اب ایسانہیں کرسکتے ہیں۔‘ انہوں نے 2021میں ایک مشہور اخبار دی گارجین کو بتایا کہ ’ یہ نظریہ کے ناراض ہونا ایک جائز تنقید ہے۔ ‘اس ضمن میں بہت زیادہ کوشش کی ہے۔ نے بہت زیادہ رسہ کشی کے درمیان ایک لطیف خط ہے۔ جب 1988میں سٹنک ورسز شائع ہوئی تھی تب اظہار خیال کی آزادی کو لے کر یہ خطوط واضح نہیں ہوئے تھے۔ اس ناول میں پیغمبر اسلامؐ کی زندگی کے کچھ تصوراتی نکات پیش کیے گئے تھے جس نے کئی مسلمانوں کو ناراض کیا او رکچھ لوگو ںکے ذریعہ اس پر توہین رسالت کا لیبل لگا دیا گیا۔ ہندوستان سمیت دنیا بھر میں اس کے خلاف پرتشدد مظاہرے ہوئے۔ 1989درجنوں لوگ مارے گئے۔ بمبئی میں پولیس نے مظاہرین پر گولیاں چلائیں۔ مغربی ممالک میں سلمان رشدی کی سیکورٹی کے زبردست انتظامات کیے گئے ۔ دنیا بھر کے ملکوں میں ان کی کتاب پر پابندی عائد کی گئی۔ سابق امریکی صدر جمی کارٹر نے 1989میں دی نیویارک ٹائمز میں لکھتے ہوئے اس فتوے کی مذمت کی لیکن سلمان رشدی پر پیغمبر محمدؐ کو بدنام کرنے اور قرآن کی توہین کرنے کے لیے بھی مذمت کی۔ انہوںنے لکھا کہ ہم انہیں اوران کی کتاب، ان لاکھوں مسلمانوں کی سیدھی بے عزتی ہے ان کی مقدس تعلیمات کی پیروی کرتے ہیں اور وہ لوگ خاموشی سے اس کے اثرات کوبرداشت کرتے رہے ہیں۔ مڈ نائٹ چلڈرن (1981) سلمان رشدی کے شاندار کتاب ہے ۔ جدید ہندوستان کے مستقبل کے بارے میں سلمان رشدی کی دوسرے ناول کوبُکر پرائز ملا تھا۔ کہانی ہندوستان کی آزادی کے وقت کی ہے اور سلیم سینائی کی زندگی پر مبنی ہے۔ رشدی 1947میں ایک خوشحال اور روشن خیال مسلم خاندان میں پیدا ہوئے۔ مصر کے ناول نگار نے اس کتاب کو توہین آمیز قرار دیا ہے۔ مگر رشدی کے پبلیشر نے ا س کا دفاع کیا۔
1990میں سلمان رشدی نے فتویٰ کو واپس کرانے کی ایک ناکام کوشش کی اور محتاط الفاظ میں معافی مانگی۔ ہم اس کو اظہار ندامت بھی کہہ سکتے ہیں۔ فتوے کے آنے کے بعد سالوں تک لندن میں سخت حفاظتی انتظامات رہتے تھے کیونکہ ان کے کئی مترجمین اور پبلیشر پر حملہ کیاگیا۔ 1998میں جب ایران حکومت نے کہاکہ وہ اس فتوے کی مزید حمایت نہیں کرے گی تو وہ وہاں سے نیویارک چلے گئے جہاں وہ ادبی اور سماجی سرگرمیوں میں ایک سرگرم شخصیت بن گئے۔ سلمان رشدی پر فتویٰ جس کو باقاعدگی کے ساتھ منسوخ نہیں کیا گیاتھا، اس فتوے کی اہمیت ختم ہوتی جارہی تھی۔ گفتگو اور اظہار خیال کی آزادی کا دور شروع ہوگیا ۔ خاص طور پر امریکہ میں یہ بات سامنے آتی گئی کہ جارحانہ تقریر بھی تشدد کا ایک رخ ہے۔ اس نظریے نے کافی جڑ پکڑ لی کیونکہ نوعمر ترقی پسندوں نے اظہار خیال کی نظریوں پر سخت نکتہ چینی کی جو اکثر نفرت انگیز تقریروں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتی تھی۔ ’ آزاد تقریر‘ قدامت پسند طاقتوں کا ایک حربہ بن گئی اور انہوںنے اس حربے کو لبرل طبقے کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شروع کردیا جس پر وہ مخالف نظریات کو سینسر کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔ 2015میں اظہار خیال کے آزادی پر کچھ کشیدگی کم ہوئی۔ کچھ قلمکاروں کے گروپ پین امریکہ نے فرانسیسی میگزین چارلی ہبڈو کو بہادر کا ایوارڈ دینے کا فیصلہ کیا۔ جس نے فرانسیسی مسلم دہشت گردوں کے ذریعہ اپنے حملے میں 12اسٹاف ممبران کے قتل کے بعد بھی اپنی اشاعت جاری رکھی۔ انعام کے بارے میں 6مصنفین نے اس جرأت کے اعتراف میں دیے جانے والے بیان کے بارے میں اپنے تحفظات کے بارے میں پین امریکہ کے سالانہ پروگرام کی میزبانی سے علیحدگی اختیار کرلی کہ اس کو بنیاد بنا کر میگزین نے نسل پرستی اور اسلامو فوبیا کو فروغ دیاتھا۔ بعد میں 140سے زیادہ قلمکاروں نے اعزاز کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ایک مکتوب پر دستخط کیے۔ احتجاج پر رشدی کا رد عمل بالکل دو ٹوک تھا۔ انہوںنے کہا ’ مجھے امید ہے کہ ان کی کوئی بھی پیروی نہیں کرے گا۔‘ یہ بات انہوںنے نیویارک ٹائمز سے بات چیت کرتے ہوئے کہی تھی۔ ٹوئٹر پر 6مصنفین کو انہوںنے واپس بلایا جن میں سے کچھ ان کے اچھے دوست تھے۔ ایک فحش نام کے ساتھ ’ چھوٹے کردار کی تلاش میں 6مصنفین‘قرار دیا۔ حالیہ حملے کے بعد اور کئی بین الاقوامی لیڈر اظہار یکجہتی کے لیے سامنے آگئے۔ فرانس کے صدر ایمویل میکروں نے انہیں ’نفرت اور بربریت والی طاقتوں ‘ کے خلاف آزادی اور فحاشی کے خلاف لڑائی کا مجسمہ قرار دیا۔ سلمان رشدی کی جاپانی مترجم ہتوشی اگارشی کو 1991میں قتل کردیاگیاتھا۔ یہ معمہ ابھی تک حل نہیں ہوا ہے کہ ان کو کیوں مارا گیا؟
چھڑا گھونپنے کے بعد کئی لوگوں نے رشدی کو اظہار خیال کی آزادی کا مجسمہ قراردیا۔ ایک دوسرے طبقے نے آزادی خیال پر ضرورت سے زیادہ سیاست کرنے کے لیے حملے کو چارے کے طور پر استعمال کرنے سے ہچکچاہٹ کے اظہار کے طور پر استعمال کیا۔ لیکن ادبی حلقوں میں کچھ اور حلقوں اور مبصرین نے کئی خطوں میں ان پر حملہ کیے جانے کے پس پشت طاقتوں کا نام لینے میں تامل دکھایا۔ جنہوںنے طویل عرصے سے اپنی نکتہ چینی کا نشانہ بنا یا تھا۔ میرا خیال ہے کہ اس ماحول کو اب کنٹرول کیا جانا چاہیے۔ ادب معاشرہ کا آئینہ ہوتا ہے۔ تحریر کی آزادی کے نام پر ہمیں کسی مذہب اس کے دیوی دیو تائوں عیسیٰ مسیح، محمد صاحب پر توہین آمیز حملے نہیں کر ناچاہیے۔ ہم جب واسو دیو کٹمبھ کم کے نظریات کو اختیارکرتے ہیں تو تمام مذاہب اور بنی نوع انسانیت کو بھی ہمیں اپنانا ہوگا۔ ہمیں عالمی امن کی طرف بڑھنا ہوگا۔
(مضمو ن نگار سینئر صحافی اور سالیٹسر برائے انسانی حقوق ہیں)
[email protected]