جمعیت علماء یوتھ کلب کے’مدنی یوتھ سینٹر‘کا سنگ بنیاد

0
Image: Deoband Times

دیوبند(ایجنسی):آج یہاں جمعیت علماء ہند یوتھ کلب کے مدنی یوتھ سینٹر کا گاؤں کیندوکی میں علماء کے ہاتھوں سنگ بنیاد رکھا گیا۔ اس کے ذریعے بچوں کو تربیت دے کر انہیں ملک اور معاشرے کی خدمت کے لیے تیار کیا جائے گا۔ ملک کے مسلمانوں کی سب سے بڑی تنظیم جمعیت علمائے ہندکی دیوبند کے گاؤں کیندوکی میں 25 ایکڑ اراضی پر مدنی یوتھ سنٹر قائم کرنے کی تجویز ہے۔ جس کا تعمیراتی کام جمعرات سے شروع ہو چکا ہے۔
مذکورہ سینٹر کا سنگ بنیاد دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی اور جمعیت کے قومی صدر مولانا محمود مدنی کے ہاتھوں رکھا گیا۔ اس موقع پر مولانا محمود مدنی نے بتایا کہ جمعیت یوتھ کلب کے اس سینٹر پر ملک بھر کے بچوں کو اسکاؤٹ گائیڈ کی تربیت دی جائے گی۔ جمعیت یوتھ کلب گزشتہ کئی سالوں سے مسلسل قوم اور معاشرے کی خدمت کر رہا ہے اور ہر مشکل وقت میں ہر ضرورت مند کے ساتھ بلا امتیاز کھڑا ہے۔
اس موقع پر جمعیت یوتھ کلب اور قائم ہونے والے “مدنی یوتھ سنٹر” کے کام کے بارے میں معلومات دی گئیں۔ اس سنٹر میں بھارت اسکاؤٹ گائیڈ جمعیت یوتھ کلب کے بچوں کو تربیت دی جائے گی ، اس کا مقصد ملک بھر میں ایک ٹیم بنانا ہے تاکہ ملک کی خدمت کی جاسکے اور ضرورت کے وقت مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کی جائے۔ بتایا گیا ہے کہ جس زمین پر جمعیت علماء ہند نے جمعیت یوتھ کلب کے ذریعے مدنی یوتھ سنٹر شروع کیا ہے وہ تقریبا 25 ایکڑ ہے۔ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی اور جمعیت علماء ہند کے قومی صدر مولانا سید محمود مدنی نے دعا کے ساتھ اس کا آغاز کیا ، اور بتایا کہ جمعیت یوتھ کلب گزشتہ کئی سالوں سے مسلسل ملک کی خدمت کر رہا ہے۔ ہر مشکل وقت میں بلا امتیاز ہر ضرورت مند کے ساتھ کھڑا ہے۔ اس سنٹر کا مقصد ایسے نوجوانوں کو اسکاؤٹ اور گائیڈ ٹریننگ دے کر تیار کرنا ہے جو کہ نازک حالات میں ملک کے کام آسکیں اور بلا امتیاز متاثرین کی مدد کے لیے ہمیشہ آگے رہیں۔اس موقع پر مفتی سلمان منصورپوری ، مولانا سلمان بجنوری ، مولانا نیاز فاروقی ، قاری شوکت علی ، مفتی راشد اعظمی ، مولانا حکیم الدین قاسمی ، مولانا محمد مدنی ،سہیل صدیقی، قاری یامین ، مولانا حسین مدنی ، ذہین احمد ، مولانا احمد عبداللہ ، مولانا شفیق وغیرہ موجود تھے۔

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here