جانوروں سے بچاؤ کیلئے جنگلوں کا تحفظ ضروری

0

پنکج چترویدی
سال کے پہلے دن ہی شملہ کے سب سے مقبول سیاحتی مقام مال روڈ سے متصل یو ایس کلب کے پیڑ پر تیندوا بیٹھا ملا، جسے بعد میں محکمہ جنگلات نے پکڑا۔ 25دسمبر کو بہار کے چھپرہ کے سون پور علاقہ میں بیجل پور دِیارا میں بستی میں گھس کر تیندوے نے لوگوں کو زخمی کردیا۔ 19دسمبر کو جے پور کی مانسروور کالونی میں تین گھنٹے تک ایک چیتا اچھل کود کرتا رہا۔ 2؍دسمبر کو یوپی کے علی گڑھ میں ایک انٹرکالج کے اندر گھس کر چیتے نے بچوں کو زخمی کیا۔ تھوڑی سی ٹھنڈ کیا بڑھی ملک کے مختلف علاقوں سے کنکریٹ کے جنگل میں ہرے جنگلوں کے گوشت خور جانوروں کے گھومنے کی خبر آنے لگی۔ بندیل کھنڈ کا چھترپور شہر اپنے آس پاس کا گھنا جنگل تقریباً چار دہائی قبل ہی ختم کرچکا ہے اور وہاں کی آبادی مطمئن تھی کہ اب اس علاقہ پر اس کا ہی راج ہے اور اچانک ہی گزشتہ ایک ہفتہ سے وہاں کی گھنی/گنجان بستیوں کے سی سی ٹی وی میں ایک تیندوا گھومتا نظر آرہا ہے۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے گھر سے 100میٹر دور، شہر کی سب سے گنجان بستی میں بھی۔ گزشتہ ماہ کانپور میں نواب گنج کے پاس گلیوں میں تیندوا گھوم رہا تھا، پھر وہ اناؤ کے پاس دیکھا گیا، اب اس کی چہل پہل لکھنؤ شہر کے گوڈمبا تھانہ کے پہاڑ پور چوراہے پر دیکھی جارہی ہے۔ گزشتہ دو ہفتہ میں بھوپال اور ناگپور میں بھی گنجان بستی میں تیندوا گھومتا نظر آیا ہے۔ دہلی سے متصل غازی آباد کے سب سے پاش علاقہ راج نگر میں تو کئی مرتبہ تیندوے کو ٹہلتے دیکھا گیا۔
یہ توسبھی جانتے ہیں کہ جنگل کا جانور انسان سے سب سے زیادہ خوفزدہ رہتا ہے اور وہ بستی میں تبھی گھستا ہے جب وہ پانی یا کھانے کی تلاش میں بھٹکتے ہوئے آجائے۔ چوں کہ تیندوا کتے سے لے کر مرغی تک کو کھاسکتا ہے لہٰذا جب ایک مرتبہ لوگوں کی بستی کی راہ پکڑ لیتا ہے تو آسانی سے شکار ملنے کی لالچ میں بار بار یہاں آتا ہے۔ کبھی کبھار محکمہ جنگلات کے لوگ انہیں پنجرہ لگا کر پکڑتے ہیں اور پھر پکڑے گئے مقام کے نزدیک ہی کسی جنگل میں چھوڑ دیتے ہیں۔ اور تیندوے کی یادداشت ایسی ہوتی ہے کہ وہ پھر سے لوٹ کر وہیں آجاتا ہے۔
زبردست ٹھنڈ میں تیندوے کے بستی میں آنے کی سب سے بڑی وجہ ہے کہ جنگلوں میں قدرتی پانی کے ذرائع کم ہورہے ہیں۔ ٹھنڈ میں ہی پانی کی کمی سے ہریالی بھی کم ہورہی ہے۔ گھاس کم ہونے کا مطلب ہے کہ تیندوے کا شکار کہے جانے والے ہرن وغیرہ کی کمی یا نقل مکانی کرجانا۔ ایسے میں بھوک پیاس سے بے حال جانور سڑک کی جانب ہی آتا ہے۔ ویسے بھی زیادہ ٹھنڈ سے اپنے آپ کو بچانے کے لیے جانور زیادہ کھانا کھاتے ہیں تاکہ جسم کی گرمی قائم رہے۔ واضح رہے کہ گھنے جنگل میں بلّی ماسی کے کنبہ کے بڑے ممبر چیتے کا قبضہ ہوتا ہے اور اسی لیے فیملی کے چھوٹے ممبر جیسے تیندوے یا گلدار بستی کی طرف بھاگتے ہیں۔ المیہ ہے کہ جنگل کے نگراں جانور ہوں یا پھر کھیتی کسانی میں معاون مویشی، ان کے لیے پانی یا کھانے کی کوئی پالیسی نہیں ہے۔ جب کہیں کچھ ہنگامہ ہوتا ہے تو فوری انتظامات تو ہوتے ہیں لیکن اس پر کوئی طویل مدتی پالیسی نہیں بنی۔
قدرت نے زمین پر انسان، نباتات اور حیوانات کو جینے کا مساوی حق دیا، لیکن انسان نے مادّی آسائشوں کی ہوس میں خود کو اعلیٰ سمجھ لیا اور قدرت کی ہر ایک نعمت پر اپنا زیادہ حق جما لیا۔ یہ صحیح ہے کہ حیوانات یا نباتات اپنے ساتھ ہوئی ناانصافی کی نہ تو مزاحمت کرسکتے ہیںاور نہ ہی اپنا درد کہہ پاتے ہیں۔ لیکن اس تفریق کا بدلہ خود قدرت نے لینا شروع کردیا۔ آج ماحولیاتی بحران کی انتہائی شکل سامنے نظر آرہی ہے، اس کا بنیادی سبب انسان کے ذریعہ فطرت میں پیدا کیا گیاناہموار توازن ہی ہے۔ نتیجہ سامنے ہے کہ اب زمین پر وجود کا بحران ہے۔ سمجھنا ضروری ہے کہ جس دن فوڈچین ٹوٹ جائے گی زمین سے زندگی کی ڈور بھی ٹوٹ جائے گی۔ مکمل فوڈ چین کی پیداوار اور کھپت انتہائی منصوبہ بند عمل ہے۔ جنگل بہت وسیع تو اس سے ملنے والی ہریالی پر زندگی گزارنے والے اس سے کم تو ہریالی کھانے والے جانوروں کو مار کر کھانے والے اس سے کم۔ ہمارا قدیم معاشرہ اس سائیکل/نظام سے بہت اچھی طرح واقف تھا تبھی وہ ہر ایک مخلوق کی اہمیت کو سمجھتا تھا، اس کے وجود کی قدر کرتا تھا۔ جنگلوں میں قدرتی پانی کے وسائل کا استعمال اپنے لیے قطعی نہیں کرتا تھا- نہ کھیتی کے لیے نہ ہی ضائع کرنے کے لیے اور نہ ہی اس میں گندگی ڈالنے کو۔
واضح ہو کہ تیندوا ایک شاندار شکاری تو ہے ہی کسی علاقہ کے ماحولیاتی نظام کے معیاری پیمانہ کی علامت بھی ہوتا ہے۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ حال میں اس کا وجود ہی سوالات کے گھیرے میں ہے۔ جنگلی بلیوں کے کنبے کی بنیادی خصوصیات سے برعکس ان کا برتاؤ حالات کے مطابق خود کو ڈھال لینے کا ہوتا ہے۔ جیسے کہ یہ چوہوں اور ساہی سے لے کر بندروں اور کتوں تک کسی بھی چیز کا شکار کرسکتے ہیں۔ وہ گھنے جنگلات اور انسانی بستیوں کے پاس پنپ سکتے ہیں۔ یہ حسب ضرورت صلاحیت، انہیں کہیں بھی چھپنے اور انسان کے ساتھ جینے کے قابل بنادیتی ہے۔ لیکن جب تیندوے جنگلوں کے باہر کثیر انسانی آبادی والے علاقوں میں پائے جاتے ہیں تو ہمیں لگتا ہے کہ وہ بھٹک گئے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ یہ ان کا بھی گھر ہے، اتنا ہی ہمارا بھی ہے۔
تیندوا اپنا جنگل چھوڑ کر اگر لمبا سفر کرتا ہے تو اس کا سبب کھانے کے علاوہ اپنی جنسی عمل کے لیے ساتھی تلاش کرنا ہوتا ہے۔ ایک جنگل سے دوسرے جنگل میں جانے کے لیے، تیندوے قدرتی گلیاروں کا استعمال کرتے ہیں جو زیادہ تر ندیوں اور کھیتوں کے ذریعہ ہوتے ہیں۔ چوں کہ یہ کاریڈور انسانی بستیوں کی بے تحاشہ توسیع کے سبب ٹوٹ گئے ہیں، اس لیے تیندوے-انسانی رابطہ کے امکانات پیدا ہوجاتے ہیں۔ حالاں کہ تیندوے جتنا ہوسکے انسانی رابطہ سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ہندوستان میں بہت سے محفوظ جنگلاتی علاقے ڈیولپ کیے گئے اور وہاں انسانی سرگرمیوں پر پابندی کے احکامات بھی دیے، لیکن بدقسمتی سے سبھی ایسے جنگلوں کے نزدیک تیزرفتار والی سڑکیں بنوا دی گئیں۔ اس کے لیے پہاڑ کاٹے گئے، جانوروں کے آنے جانے کے قدرتی راستوں پر کالی سڑکیں بچھائی گئیں۔ اس تعمیر کے سبب کئی جھرنے، نہریں متاثر ہوئیں۔ جنگل کی ہریالی کم ہونے اور ہریالی بڑھانے کے لیے غیر مقامی درخت لگانے کے سبب بھی جانوروں کو کھانے کی کمی محسوس ہوئی۔ اب بندر کو لے لیجیے، حقیقت میں وہ جنگل کا جانورہے۔ جب تک جنگل میں اسے بیج والے پھل کھانے کو ملے وہ کنکریٹ کے جنگل میں نہیں آیا۔ بندر کے مسکن اجڑنے و پانی کی کمی کے سبب وہ سڑک کی جانب آیا۔ جنگل سے گزرتی سڑکوں پر آمدورفت کے سبب اس پر ہی بس گیا۔ یہاں اسے کھانے کو تو مل جاتا ہے لیکن اس کے پیچھے پیچھے تیندوا بھی آجاتا ہے۔
ہر ایک جنگل میں سیکڑوں چھوٹی ندیاں، تالاب اور جوہڑ ہوتے ہیں۔ ان میں پانی کی آمد برسات کے ساتھ ساتھ جنگل کے پہاڑوں کے جھرنوں اور چشموں سے ہوتا ہے۔ اصل میں پہاڑ جنگل اور اس میں بسنے والے جانوروں کے تحفظ کی چھت ہوتا ہے۔ چوں کہ یہ پہاڑ مختلف معدنیات کے ذخائر ہوتے ہیں۔ لہٰذا معدنیات کی کھدائی کے اندھادھند دیے گئے ٹھیکوں نے پہاڑوں کو زمیں دوز کردیا۔ کہیں کہیں پہاڑ کی جگہ گہری کھائیاں بن گئیں اور کئی مرتبہ پیاسے جانور ایسی کھائیوں میں بھی گرکر مرتے ہیں۔
تیندوے کو اگر ایک مرتبہ انسان کے خون کی لت لگ جائے تو یہ خطرناک ہوتا ہے۔ گھنے جنگلوں کے ختم ہونے اور وہاں کے جانوروں کے مسلسل انسان کے رابطہ میں آنے کے سبب ہم ان دنوں کووڈ کا المیہ جھیل ہی رہے ہیں۔ جنگل کا اپنا ایک سائیکل ہوا کرتا تھا، سب سے اندر گھنے اونچے پیڑوں والے جنگل، گھنی گھاس جو کہ کسی باہری دخل سے آزاد رہتی تھی، وہاں انسان کے لیے خطرناک جانور شیر وغیرہ رہتے تھے۔ وہیں ایسے نہایت چھوٹے جرثوموں کا بسیرا ہوتا تھا جو اگر مسلسل انسان کے رابطہ میں آئیں تو اپنی فطرت کو انسان کے جسم کے مطابق بدل سکتا تھا، اس کے باہر کم گھنے جنگلوں کا گھیرا-جہاں ہرن جیسے جانور رہتے تھے، گوشت خور جانور کو اپنے کھانے کے لیے محض اس سائیکل تک آنا ہوتا تھا، اس کے بعد جنگل کا ایسا حصہ جہاں انسان اپنے پالتو مویشی چراتا، اپنی استعمال کی جنگلی پیداوار کو تلاش کرتا اور اس گھیرے میں ایسے جانور رہتے جو جنگل اور انسان دونوں کے لیے مفید تھے، تبھی اس پرامڈ میں شیر کم، ہرن سب سے زیادہ، خشکی اور پانی میں رہنے والے جانور اس سے زیادہ اور اس کے باہر انسان، ٹھیک یہی ترکیب جنگل کے گھنے پن میں نافذ ہوتی۔ جنگلوں کی بے تحاشہ کٹائی اور اس میں بسنے والے جانوروں کے قدرتی مسکن کے تباہ ہونے سے انسانی دخل سے دور رہنے والے جانور راست انسانی رابطہ میں آگئے۔
اگر انسان چاہتا ہے کہ وہ جنگلی جانوروں کا نوالہ نہ بنے تو ضروری ہے کہ قدرتی جنگلوں کو چھیڑا نہ جائے، جنگل میںانسانوں کی سرگرمیوں پر سختی سے پابندی عائد ہو۔
[email protected]

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here