توجہ تعلیم پرضروری

0

کورونا وائرس کے منفی اثرات سے تعلیم کا شعبہ بھی بچا نہیں ہے۔ یونیسکو کی رپورٹ کے مطابق، اسکولوں کے پوری طرح یا کسی حد تک بند ہونے کی وجہ سے دنیا کے تقریباً نصف طلبا و طالبات کی پڑھائی متاثر ہوئی ہے۔ غریب ملکوں کے جن طلبا کے پاس اینڈرائیڈ موبائل نہیں، ٹیب یا لیپ ٹیپ نہیں، انٹرنیٹ کی سہولتیں نہیں، ان کی تعلیم پر کورونا نے برا اثر ڈالا ہے، اس لیے عالمی سطح پر تعلیم کے شعبے میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک اپنے یہاں حصول علم کے لیے زیادہ سے زیادہ سہولتیں اسکول انتظامیہ ، اساتذہ ، طلبا و طالبات اور ان لوگوں کو فراہم کریں جو تعلیم کے فروغ کی تحریک سے وابستہ ہیں۔ کیا وطن عزیز ہندوستان میں اس سلسلے میں کام ہو رہا ہے؟ یہ جاننے سے پہلے یہ جان لینا ضروری ہے کہ کورونا کی روک تھام کے لیے لاک ڈاؤن کرنا پڑا، لوگ بے روزگار ہوئے یا گھر میں بیٹھے تو اس کا اثر ان کی تنخواہوں پر پڑا۔ کئی لوگ پوری فیس ادا کرنے کے اہل نہیں رہے یا کسی طرح فیس کی کچھ رقم ادا کر سکے۔ فیس صحیح سے نہ ملنے کی وجہ سے اسکولوں کو 20 سے 50 فیصد تک آمدنی کم ہوئی۔ اسکول انتظامیہ اس پوزیشن میں نہیں رہا کہ اساتذہ کی پوری تنخواہیں دے سکے۔ اس سلسلے میں ہندوستان میں معیار تعلیم پر نظر رکھنے والے این جی او، سینٹرل اسکوائر فائونڈیشن کی رپورٹ کہتی ہے کہ 55 فیصد اساتذہ کی تنخواہیں کم کی گئی ہیں۔ اس کی رپورٹ یہ بھی کہتی ہے کہ ’کم فیس والے اسکولوں نے 65 فیصد اساتذہ کی تنخواہ روک رکھی ہے جبکہ زیادہ فیس والے اسکولوں نے 37 فیصد اساتذہ کی تنخواہ روک رکھی ہے۔ کم از کم 54 فیصد اساتذہ کی آمدنی کا کوئی دیگر وسیلہ نہیں ہے جبکہ 30 فیصد اساتذہ ٹیوشن پڑھا رہے ہیں۔‘
صورت حال گاوؤں میں زیادہ خراب ہے۔ وہاں کے 77 فیصد اسکولوں کے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے دور میں وہ اسکول چلانے کے لیے قرض لینا نہیں چاہتے۔ 3 فیصد اسکول انتظامیہ نے ہی لون لے کر اسکول چلانے کی ہمت دکھائی ہے۔ 5فیصد اور وہ اسکول ہیں جن کے انتظامیہ نے قرض لینے کا عمل جاری رکھا ہوا ہے۔ان حالات میں کچھ باتیں صاف نظر آرہی ہیں۔ پہلی بات یہ کہ وہ اسکول جو پیسے کی کمی کی وجہ سے بند ہو گئے، انہیں نئے سرے سے کھولنا آسان نہیں ہوگا۔ دوسری بات یہ کہ وہ اسکول جو قرض لے کر چلائے جا رہے ہیں، وہ قرض کی ادائیگی کے لیے فیس میں اضافہ کریں گے۔ تیسری بات یہ کہ وہ اساتذہ جن کی تنخواہوں میں بڑی کٹوتی ہوئی ہے، وہ گھر چلانے کے لیے دیگر ذرائع تلاش کرنے میں اگر کامیاب ہو گئے اور اگر انہیں یہ محسوس ہوا کہ استاد بن کر زندگی گزارنا زیادہ دشوار ہے تو پھر وہ درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ نہیں ہونا چاہیں گے، کیونکہ یہ بات مان لینی چاہیے کہ کم ہی لوگ درس و تدریس کے پیشے میں تعلیم کے فروغ کے لیے آتے ہیں، ورنہ زیادہ تر لوگ نوکری کرنے کے لیے ہی آتے ہیں۔ ایسی صورت میں یہ بات سمجھنا زیادہ مشکل نہیں ہے کہ اسکولوں اور اساتذہ کی کمی کا اثر ان طلبا و طالبات پر زیادہ پڑے گا جن کے والدین غریب ہیں۔ مطلب یہ کہ پڑھ لکھ کر غریب کے بچوں کی خوش حال بننے کی امیدوں پر کوروناپانی پھیر رہا ہے، انہیں مایوس کرنے کی وجہ بن رہا ہے، اس لیے سرکاروں کا یہ فرض ہے کہ اپنے ملک کے طلبا و طالبات کو مایوسیوں کی دلدل سے نکالیں۔ اپنے عمل سے طلبا و طالبات کو یہ احساس دلائیں کہ ان کا کام صرف پڑھنا ہے، انہیں پڑھنے کے لیے سہولتیں دینا سرکاروں کا کام ہے اور یہ کام وہ کریں گی۔
انتخابی موسم میں کوئی پارٹی طلبا کو لیپ ٹیپ، کوئی سائیکل تو کوئی کچھ اور سہولتیں دینے کا وعدہ کرتی ہے اور حتی الامکان وعدے پورے کرنے کی کوشش بھی کرتی ہے تو پھر اقتدار میں رہتے ہوئے مختلف پارٹیاں کورونا کی وجہ سے پیدا ہوئیں طلبا و طالبات کی نئی ضرورتوں پر توجہ کیوں نہیں دے رہی ہیں؟ آج کے غریب طلبا و طالبات کو جینے کے لیے خوراک کی اور پڑھنے کے لیے اینڈرائیڈ فون، ٹیب، لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کے کنکشن کی ضرورت ہے۔ سرکاریں اگر طلبا و طالبات کو یہ سہولتیں نہیں دے سکتیں تو کم سے کم طلبا و طالبات کے لیے تعلیمی ضرورتوں کے مد نظر اینڈرائیڈ فون، ٹیب، لیپ ٹاپ کی خریداری پر سے ٹیکس ختم کریں، یہ بھی مدد ہی ہوگی۔ اس سلسلے میں مدد کا ہاتھ بڑھانے کے لیے این جی اوز اور عام لوگوں کو بھی آگے آنا چاہیے۔ مدرسوں کے اور مسجدوں میں چلنے والے مکتبوں کے طلبا و طالبات کو سہولتیں فراہم کرنا بھی حالات کا تقاضا ہے۔ مولوی حضرات کی تنخواہیں پہلے ہی کم ہیں، ان کی تنخواہوں میں اور کٹوتی ہوجائے گی تو وہ اشیائے ضروریہ کیسے خریدیں گے، یہ ذی ہوش اور خوش حال لوگوں کو خود سوچنا چاہیے اور اسی مناسبت سے مدد کا ہاتھ دراز کرنا چاہیے۔
[email protected]

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here