بنگال اسمبلی الیکشن میں شیتل کوچی کا خوف

0

کہنے کو توانتخابی عمل جمہوریت اور جمہوری نظام حکومت کا بنیادی لازمہ ہوتا ہے لیکن جب یہ انتخابی عمل ننگی طاقت کا مظاہرہ بن جائے اور عام ووٹرخود کو غیرمحفوظ محسوس کرنے لگیںتو جمہوریت کی بساط لپٹتے دیر نہیں لگتی ہے۔مغربی بنگال میں ہونے والے اسمبلی انتخاب میں بھی کچھ ایسا ہی نظر آرہاہے۔ چوتھے مرحلہ میں کوچ بہار کے شیتل کوچی میں عام ووٹروں پر مرکزی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ اور چار ووٹروں کی ہلاکت کے بعد طاقت اور زور زبردستی کا سلسلہ دراز ہوتا جا رہا ہے۔ بھارتیہ جنتاپارٹی کے قائدین اس ہلاکت کو نہ صرف جائز ٹھہرا رہے ہیں بلکہ ان کا کہنا ہے کہ سینٹرل فورسز نے صرف 4کے سینے میں گولی ماری اس کو تو 8 کو مارنا چاہیے، اس لاپروائی پر فورسیز کے خلاف شو کاز نوٹس ہونا چاہیے۔ بی جے پی لیڈر سیانتن بوس کا کہنا ہے کہ سینٹرل فورسز نے جو کیا ٹھیک کیا ہے کیوں کہ اسی حلقہ میں پولنگ شروع ہوتے ہی ایک نوجوان ووٹر آنند برمن کو شرپسندوں نے گولی کا نشانہ بنایا تھاجس میں اس کی موت ہوگئی وہ لوگ سمجھے کہ اب کچھ نہیں ہوگا لیکن ٹھیک چار گھنٹے بعد ہم لوگوں نے چار کو مار کرگرادیا۔ بی جے پی ورکروں کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے، وہ ایک مارے گا تو ہم اب چار ماریں گے جیسا کہ شیتل کوچی میں کیا گیا ہے۔
بنگال میں بی جے پی کے سب سے بڑے لیڈر دلیپ گھوش نے تو تمام اخلاقی حدودتوڑتے ہوئے زہرا فشانی کی انتہا کردی۔انہوں نے کہا کہ چپ چاپ ووٹ دو نہیں تو ہر جگہ شیتل کوچی بنے گا۔یہ وہی دلیپ گھوش ہیں جو گائے کے دودھ میں سونا تلاش کرکے پوری دنیا میں اپنی جگ ہنسائی کراچکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پانچویں مرحلہ میں 17تاریخ کو بھی ہر بوتھ پر سینٹرل فورسز تعینات رہیں گی آپ لوگ ووٹ دینے ضرور جائیے گا اور چپ چاپ کنول چھاپ پر ووٹ دیجئے گا اگر کسی نے بھی مخالفت کی اور کود پھاند کیا تو یاد رکھئے ہر جگہ شیتل کوچی بنادیا جائے گا۔
الیکشن کمیشن اور مرکزی حکومت سینٹرل فورسز کی فائرنگ کو جائز اور وقت کی مجبوری بتارہی ہیں لیکن سیاسی لیڈروں کے یہ بیانات اس شبہ کو تقویت دینے کیلئے کافی ہیں کہ اس فائرنگ کے پیچھے سیاسی دبائو کام کررہاتھا اور فورسز کا غلط استعمال کیاجارہاہے۔بنگال کے عوام بھی خود کو دہشت زدہ ہی محسوس کررہے ہیں۔اس واقعہ کے خلاف کلکتہ ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی داخل کی گئی ہے اوراس کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیاگیا ہے۔
اب تحقیقات میں کون سے حقائق سامنے آئیں گے یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن اتنا ضرور ہے کہ سینٹرل فورسز کی کارروائی سے بنگال کے عام ووٹروں میں دہشت پھیل گئی ہے اوراس دہشت کو بی جے پی لیڈروں کے بیانات بھی بڑھارہے ہیں۔اس کے ساتھ الیکشن کمیشن کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات بھی عوام میں اضطراب کا سبب بن گئے ہیں۔ شیتل کوچی فائرنگ واقعہ کے بعد پورے کوچ بہارضلع میں سیاسی لیڈروں کے داخلہ پر پابندی عائد کردی گئی اور اس کے ٹھیک دوسرے دن وزیراعلیٰ ممتابنرجی کی انتخابی مہم پر24 گھنٹوں کی بندش لگادی گئی۔کمیشن کا کہنا ہے کہ ممتابنرجی نے مرکزی فورسز کے خلاف بیان دیاتھاجس پر انہیں نوٹس بھیجاگیا لیکن ان کا جواب اطمینان بخش نہ ہونے کی وجہ سے ان پر پابندی عائد کردی گئی۔ وزیراعلیٰ ممتابنرجی نے کمیشن کے اس فیصلہ کو غیر آئینی اور غیر جمہوری بتاتے ہوئے اسے جمہوریت کا کالا باب قرار دیا اور اس کے خلاف دھرنا پر بیٹھ گئیں۔ممتابنرجی کاکہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کارویہ متعصبانہ ہے اوروہ صرف بی جے پی کی بات سنتی ہے۔بی جے پی لیڈروں کو ہر کام کی آزادی ہے۔اس کے برخلاف دوسری پارٹیوں کی ایک حرکت پر سو نوٹس بھیجے جاتے ہیں۔
مغربی بنگال کے تعلق سے الیکشن کمیشن کے کئی ایسے فیصلے ہیں جو تنازعات کا سبب بنے ہوئے ہیں اور اس کا خمیازہ عام ووٹر بھگت رہے ہیں۔ممتا بنرجی کی انتخابی مہم پر پابندی بھی ان ہی فیصلوں میں سے ایک ہے جس کی پورے ملک میں مخالفت کی جارہی ہے۔ جب یہ مخالفت طول پکڑنے لگی تو کمیشن نے بی جے پی رہنما راہل سنہا پربھی پابندی عائد کردی۔سینٹرل فورسز کی فائرنگ میں 4ووٹروں کی ہلاکت پربی جے پی لیڈروں کا جو ر ویہ رہاہے وہ اس بات کا تقاضاکرتا ہے کہ ایسے تمام لیڈروں پر نہ صرف پابندی لگائی جانی چاہیے تھی بلکہ نقض امن کے خطرہ کے پیش نظرانہیں گرفتار کرلیا جانا چاہیے تھا لیکن اس کے برخلاف کمیشن نے ممتابنرجی پر پابندی عائد کرکے اپنے رویہ کو مشتبہ بنالیاہے۔انتخاب میں طاقت کا مظاہرہ چاہے وہ سیاسی پارٹیوں کی جانب سے یا ریاستی اداروں کی طرف سے عوام میں خوف و دہشت کا سبب بنتا ہے۔مضبوط جمہوریت کیلئے لازم ہے کہ انتخابات پر امن اور ہر طرح کے خوف و خطر اور تشدد سے پاک ہوں اوراس کی پہلی ذمہ داری الیکشن کمیشن کی بنتی ہے کہ وہ اسے یقینی بنائے۔امید کی جاتی ہے کہ باقی ماندہ4مرحلوں کی پولنگ میں کوئی دوسرا شیتل کو چی کا واقعہ نہیں ہوگااور لوگ بے خوف ہوکر اپنا ووٹ ڈال سکیں گے۔
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS