بابائے سبز انقلاب ایم ایس سوامی ناتھن: ڈاکٹر عبید الرحمن ندوی

0

ڈاکٹر عبید الرحمن ندوی
استاد دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ

ماہرِ علم تکوین ، معروف زرعی سائنسداں،بین الاقوامی منتظم اور بطور بابائے سبز انقلاب سے مشہور ایم ایس سوامی ناتھن کا 28ستمبر 2023کو98 سال کی عمر میں چنئی میں انتقال ہوگیا۔
ان کی ولادت 7اگست 1925کو مدراس پرسیڈنسی کے کومبھ کونم میں ہوئی ۔جب وہ صرف 11برس کے تھے ان کے والد کا انتقال ہوگیا اور ان کی پرورش ان کے چچا ایم کے مرایاناسوامی نے کی۔یہ بات دلچسپی کا باعث ہے کہ ان کے والد گاندھی جی کے ایک پرجوش پیروکار تھے۔ ایک مرتبہ انہیں ایک ریلی میں لایاگیا، جس میں برطانوی کپڑے نذر آتش کیے گئے تھے۔ یہ ان کی زندگی کے لیے ایک سبق تھا۔ اسی دن سے انہوںنے حلف لیا کہ وہ ملک کی خدمت کریںگے۔ چنانچہ انہوں نے اپنی پوری زندگی ملک کی خدمت کے لیے وقف کردی۔ ہمیں یاد ہے کہ ہندوستان 1960اور 1970 کی دہائی میں غربت اور اناج کی قلت سے متاثر تھا۔یہ ڈاکٹر سوامی ناتھن ہی تھے جنہوں نے ہندوستان میں سبز انقلاب کی داغ بیل رکھی۔گیہوں اور چاول کی متنوع فصل میں بھاری پیداوار کے بعد ہی ہندوستانی زراعت میں ایک مثالی تبدیلی ممکن ہوئی۔
تعلیم:انہوںنے کومبھ کونم کے کیتھولک لٹل فلاور ہائی اسکول سے 1940 میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ اسی طرح انہوں نے علم حیوانات میں بی ایس سی کیا اور زراعت میںبھی بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔ 1949 میںانہوں نے IARIسے اپنی پوسٹ گریجویٹ کی ڈگری امتیازی نمبروں سے حاصل کی۔ وہ UPSCکے امتحان میں شریک ہوئے اور IPSکے لیے کوالیفائی کیا۔ انہیں ہالینڈ میں UNESCOکی جانب سے ریسرچ کے لیے وظیفہ ملا۔1952 میں انہوںنے اپنی پی ایچ ڈی کیمبرج یونیورسٹی برطانیہ سے مکمل کی۔
خدمات: کیمبرج یونیورسٹی سے اپنی پی ایچ مکمل کرنے کے بعد سوامی ناتھن نے کٹک میں Indian Council for Agricultural Researchکی ایک اکائی Central Rice Research Centreمیں شمولیت اختیار کی اور اس سے دو دہائیوں تک جڑے رہے۔
علاوہ ازیںانہوں نے غریب کسانوں کے کھیتوں میں متنوع گیہوں اور چاول کی تخم کاری سے بھاری پیداوار کے فروغ اور پیش رفت میں مرکزی کردار ادا کیا۔ان کا پرجوش مطمحِ نظر یہ تھا کہ ہندوستان نیز پورے عالم کوبھوک اور غربت سے نجات ملے۔ دراصل انہیں کسانوں کی مددکی تحریک بنگال میں جو قحط برپا ہواتھا اس سے ملی تھی۔ انہوںنے وزیر اعظم لال بہادر شاستری کے عہد میں خدمت انجام دی تھی۔1966 میںنئی دہلی کے باہر انہوں نے نمونے کے طور پر2000 کھیتوں کی تشکیل کی کسانوں کو یہ دکھانے کے لیے کہ ان کا بیج کیا کام کرسکتاہے۔اسی طرح انہیں مالی تنگی کے وقت حکومت سے 18000 ٹن میکسکو کے بیج کی درآمدگی کی ضررورت پیش آئی۔شاستری جی کی جانشین اندرا گاندھی نے ان سے دریافت کیا کہ کس طرح ہندوستان درآمدگی سے آزاد ہوسکتاہے۔ چنانچہ انہوںنے سوامی ناتھن کو ایک زراعتی پروگرام کے تنظیم کی مکمل آزادی عطاکی۔حقیقی معنوں میں وہ ایک ماہرِ علم تکوین نیز ایک لائق منتظم تھے۔ انہوں نے انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ(ICAR) کی سربراہی کی اور فلیپینس میں انٹرنیشنل رائس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر جنرل ہوگئے۔
دو دوہائیوں تک وہ(بیشترانڈین سول سروس میں) متعدد ریسرچ اور انتظامی عہدوں پر رہے۔ان کی نمایاں خدمات اور قابلِ قدر کارکردگیوں کے لیے ان کی عزت افزائی ہوئی اورانعامات سے نوازا گیا۔
ایوارڈ:
1961 میں حیاتیاتی علوم کے لیے شانتی سوروپ بھٹناگر ایوارڈ ملا۔
1967 میں پدم شری۔
1972 میں پدم بھوشن۔
1989 میں پدم وبھوشن۔
1971 میں سماجی قیادت کے لیے رومن میگسے سے ایوارڈ۔
1987 میں پہلا عالمی غذائی انعام(نوبل پرائز کے مساوی)۔
لال بہادر شاستری نیشنل ایوارڈ۔
1999 میں یونیسکو مہاتما گاندھی گولڈ میڈل۔
2013 میں قومی یکجہتی کے لیے اندرا گاندھی ایوارڈ۔
اشوک گلاٹی نے سچ کہاہے:’’ان کی خدمات کے دوررس نتائج ہوئے۔ ہندوستان کو گیہوں اور چاول کے انقلاب کا تجربہ ہوا۔ اس سے ملک کو قلیل مدت میں تحفظِ اناج کے معاملے میں ضروری راحت اور اعتماد حاصل ہوا۔ کون یقین کرسکتاتھا کہ ہندوستان ایک دن اناج برآمد کرنے والا ایک اہم ملک کے طور پر ظاہرہوگا۔ پچھلے تین برسوں2020-21سے2022-23 تک ہندوستان نے عالمی تحفظِ اناج میں 85ملین ٹن اناج درآمد کیا ۔چالیس فی صدی عالمی درآمدگی ہندوستان سے ہوئی۔ اس تبدیلیٔ صورت کی بیج سوامی ناتھن اوران کی انڈین ایگری سائنٹسٹس کی ٹیم کی بوئی ہوئی تھی، جو سیدھے طور پر Borlaugکے ساتھ کام کررہے تھے۔اس کا سہرا انہیں کو جاتا ہے اور وہ ہمارے تشکر کے مستحق ہیں‘‘۔
کسی نے بالکل درست کہاہے کہ:’’سبزانقلاب کے بارے میں سوامی ناتھن کے نظریات بالکل درست تھے اور انہوں نے بیرون ممالک کی پیداوار جو بحری راستے سے بلاواسطہ صارفین تک پہنچتی تھی اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کی غیر معمولی کاوشوں کی وجہ سے ہندوستان اناج کے معاملات میں خود کفیل ہوگیا۔ ان کا مقصد ’’سبز انقلاب‘‘ کے بارے میں بالکل درست تھا، جو خود ان کے الفاظ میں:’پیداوار میں مستقل بہتری بغیرارضی مضرت رسانی کے‘۔
اطلاعات کے مطابق کاشت کار اور مجسمہ ساز منجیت سنگھ گل نے پنجاب کے موگرا ضلع کے گھال کھالا گاؤں کے اپنے کھیت میں ایک مجسمہ بنایا۔ تب سے صوبے کے مختلف حصوں کے کسان ڈاکٹر ایم ایس سوامی ناتھن کے مجسمے کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے اور اس کی سیلفی لینے کے لیے اس کھیت میں آچکے ہیں۔یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ہم کسانوں کے لیے وہ ہمارے سب کچھ تھے۔حالانکہ پنجاب کے کسان انہیں ان کے نام سے جانتے ہیںکیونکہ ان کی رپورٹ (سوامی ناتھن رپورت کے نام سے مشہور) کاشتکاری اور زراعت سے متعلق ہر معاملے میں ہمیشہ بہ طور حوالہ کے پیش کی جاتی ہے۔گل کا کہنا ہے کہ :’’لہٰذاہم نے ان کا مجسمہ اپنے گاؤں میں نصب کرکے انہیں انوکھی خراج تحسین پیش کی ہے‘‘۔قطعی طور پر ان کے انتقال سے ایک نہ پُر ہونے والا خلا پیداہوگیاہے۔ انہوںنے ہندوستان میں اناج کی خود کفالت اور زراعتی بہتری میں انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ وہ اپنی قابلِ قدر خدمات کے لیے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے خاص طور سے 1960 میں جب ملک طول وعرض میں قحط سالی سے دوچار تھا۔

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS