روزہ اور تربیت نفس

0

حافط محمد ہاشم قادری مصباحی جمشید پور
قرآن مجید انسانوں کونہ صرف سیدھا راستہ دکھاتا اوربتاتاہے بلکہ اس راستے پر چلانے اور منزل مقصود تک پہنچانے کے لئے رہنمائی بھی کرتا ہے۔ چنانچہ بہت ہی اچھوتے انداز میں یہ بات ذہن نشین کرائی جارہی ہے’’قسم ہے نفس کی اور اس کو درست کرنے والے کی ،پھر اس کے دل میں ڈال دیا اس کی نافرمانی اور اس کی پارسائی کو۔یقینا فلاح پا گیا وہ جس نے اپنے نفس کو پاک کر لیا اور یقینا نا مراد ہوا جس نے اس کو خاک میں دبا دیا‘‘(سورہ91،آیت7تا 10)۔تزکیہ نفس کے بارے میں ارشاد رسول اللہ ہے’’دانا(عقلمند) اور زیرک (بہادر)شخص وہ ہے جو اپنے نفس کو زیر کئے ہوئے ہواور ما بعد موت کے لئے عمل کرے اور عاجز و درماندہ شخص وہ ہے جو اپنی خواہشات ِ نفس کا غلام ہواور خدا سے (اجرو ثواب اور مغفرت )کی آرزو رکھتاہو‘‘۔روزہ کا مطلب یہ ہے کہ ایک مسلمان طلوع صبح صادق سے غروب آفتاب تک کھانے پینے اور جائز جنسی خواہش کو پورا کرنے سے رک جائے۔ اللہ چاہتا ہے روزہ دار ایک محدود وقت(Limited Time) تک کھانے پینے اور جنسی خواہش پوری کرنے سے رک کر فرشتوں کی مشابہت کرے اور اپنے اندر فرماں برداری اور تقویٰ (خوف خدا) پیدا کرے ۔ روزہ قربت الہٰی کا بہترین ذریعہ ہے ۔ اسی ذریعہ سے اللہ نے رسولوں کو انعامات اور کلام سے بھی نوازا ہے۔
روزہ کے مقاصد اور حکمتیں:قرآن مجید سے یہ واضح ہوتاہے کہ روزے کے تین بنیادی مقاصد ہیں۔(1)تقویٰ یعنی خوفِ خدا رکھنا(2) اللہ کی ہدایت پر اس کی عظمت کا اظہار (3) اللہ کی نعمت پر اس کا شکریہ ادا کرنا ۔ارشاد ربانی ہے ’’ اے ایمان والو!تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے انبیاء کے پیرؤوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم پر ہیزگار بن جاؤ‘‘(سورہ2،آیت185) ۔

کورونا کال میں رمضان المبارک کی عبادتیں جاری وساری رہیں،صحت کی حفاظتی تدابیر کو اپناتے ہوئے کورونا وائرس سے بچاؤ کی جو گائیڈ لائین حکومتوں نے بنائی ہیں ان کو فالو کرتے ہوئے عبادات کو جاری رکھیں۔ اللہ حامی وناصر ہے ۔اللہ ہمیں اور تمام انسانوں کو اس موذی وائرس بیماری سے محفوظ رکھے آمین۔

روزہ کی اصل روح:روزے کے شرعی مقاصد میں یہ بات داخل ہے کہ انسان کو بھوک اور پیاس کی حالت میں رکھ کر اسے صبر و تحمل کا عادی بنایا جائے۔ کوئی آپ کی تحقیر و تذلیل کرے تو آپ صبر و تحمل سے کام لے کر نظر انداز کر دیجئے۔ نبی کریم ؐکا ارشاد گرامی ہے کہ تم میں سے جب کوئی روزے سے ہوتو اپنی زبان سے بے شرمی کی بات نہ نکالے اور نہ شورو ہنگامہ کرے اور اگر کوئی اسے گالم گلوج کرے یا لڑنے پر آمادہ ہو تو اس روزہ دار کو سوچنا چاہئے کہ میں تو روزہ دار ہوں، میں کیسے گالم گلوج اور لڑائی کر سکتا ہوں(بخاری)۔ روزہ رکھ کر اپنے اندر اخلاق و کردار کی تعمیر کرے۔ آدمی وہ کام کرے جس سے اخلاق سدھریں، جذبات و خواہشات قابو میں رکھے ،خوف خدا کے ساتھ اپنے اندر تقویٰ پیدا کرے جو اصل روزے کی روح ہے ۔ اسی لئے حدیث پاک میں فرمایا گیا کہ روزہ رکھنا ،کھانا پینا چھوڑنے کا نام نہیں بلکہ روزہ تو ہے کہ روزہ دار لغو اور برے کاموں سے بھی اجتناب کرے(السنن الکبریٰ البیہقی ج۴،صفحہ ۲۷۰)۔ تقویٰ پر عمل کی قبولیت کا مدارہے۔ قرآن کریم میں ہے ’’اللہ متقیوں کا ہی عمل قبول فرماتا ہے‘‘ ( سورہ المائدہ، آیت27) ۔تقویٰ (خوف خدا) بہت ہی اونچی اور اعلیٰ صفت ہے ۔ بلکہ تمام خوبیوں کی روح تقویٰ ہے۔ جس کو یہ اعلیٰ ترین صفت میسر ہے اس کے لئے دنیا و آخرت کی بے شمار نعمتوں کی خوشخبری سنائی گئی ہے۔ قرآن کریم میں ہے ’’بے شک متقیوں کے لئے ان کے رب کے یہاں نعمتوں سے لبریز جنتیں ہیں‘‘(القلم آیت34)۔ یہی نہیں بلکہ ان سے دنیا میں بھی آسمان و زمین کی برکتوں کا وعدہ کیا گیاہے۔’’ اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ کی روش اختیار کرتے تو ضرور ہم ان پرزمین و آسمان کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو تقویٰ کا حکم فرمایا اور اس امت سے پہلے لوگوں کو بھی تاکید فرمائی۔ارشاد باری ہے کہ یقینا جنھیں تم سے پہلے کتاب دی گئی انھیں اور تم کو ہم نے تاکید فرمادی ہے کہ اللہ سے ڈرتے رہو۔ یقینا اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے ۔ خوف خدا رکھنے والوں کو اللہ تعالیٰ جنت کے باغات میں داخل فرمائے گا۔یقینا اللہ سے ڈرنے والے باغوں اور چشموں میں ہوں گے ۔
زبان و آنکھ ، کان کا روزہ :ارشاد باری ہے’’ کوئی بات وہ زبان سے نہیں نکالتا کہ اس کے پاس ایک محافظ تیارنہ بیٹھا ہو لکھنے کے لئے‘‘(سورہ ق،آیت17)ہر انسان کے ساتھ دو فرشتے رہتے ہیں ۔ایک دائیں ایک بائیں۔دایاں نیکیاں لکھتا ہے بایاں گناہ۔ حدیث پاک میںہے یہ فرشتے بیمار کا کراہنا بھی لکھتے ہیں ۔ نیکی والا فرشتہ ایک کی دس لکھتا ہے۔ برائی والا ایک کی ایک ہی لکھتا ہے ۔ اگر بندہ توبہ استغفار کرے تو محو(مٹادیتا)کر دیتا ہے۔روزے میں ہربرائی اور ہر مصیبت سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ روزے کا مقصد ہی زندگی کو پاکیزہ بنانا ہے۔ بد کلامی، فضول گوئی، طنز، لعن طعن، جھوٹ، بہتان، لڑائی جھگڑا،گالی گلوج سے مکمل اجتناب کرنا ہے ۔
کورونا کال میں عبادتوں میں تبدیلیاں:کورونا وائرس جب سے ہندوستان پہنچا تو ایک جانب مندر،مساجد ،گرجا گھروں ،گرودواروں کو بند تو نہیں کیا گیامگر عبادتوں، نمازوں کے اجتماعات کو انتہائی محدود کردیا گیاجمعہ کی نماز جماعت کو چند لو گوں تک کر دیاگیا۔ ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہو ا عالمی سطح پر کورونا وائرس کے اثرات سے کوئی جگہ ایسی نہیں بچی جو متاثر نہ ہوئی ہو۔دوسرے مذاہب اور اسلام کے عقیدے اور عبادات کے طریقوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔نماز جیسی اُم العبادت کسی حال میں معاف نہیں۔ لہٰذا کورونا کال میں رمضان المبارک کی عبادتیں جاری وساری رہیں،صحت کی حفاظتی تدابیر کو اپناتے ہوئے کورونا وائرس سے بچائو کی جو گائیڈ لائین حکومتوں نے بنائی ہیں ان کو فالو کرتے ہوئے عبادات کو جاری رکھیں۔ اللہ حامی وناصر ہے ۔اللہ ہمیں اور تمام انسانوں کو اس موذی وائرس بیماری سے محفوظ رکھے آمین اور رمضان المبارک کی تمام رحمتیں،عظمتیں،برکتیں ہمیں سمیٹنے کی توفیق عطا فر مائے ۔ n

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
1
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here