روزہ: زندگی کو بہتربنانے کا موقع

0

محمد شفاء اللہ ندوی

روزہ ایک ایسی عبادت ہے جس سے نہ صرف یہ کہ بارگاہ خداوندی میں قربت حاصل ہوتی ہے بلکہ اس سے روزہ داروں میں جفا کشی کی طاقت و قوت پیدا ہوتی ہے۔ راہ حق پر ثبات قدمی نصیب ہوتی ہے اوردنیا وی زندگی کو بھی ایک بہترین نظم وضبط میسر ہوتاہے ۔ روزہ دن بھر بھوکا پیاسا رہنے کانام نہیں ہے ،یہ زیادہ سے زیادہ عبادت و ریاضت کرنے کے ایک ربانی عمل کے طور پر فرض کردہ ایک عبادت بدنی ہے۔ خداکی خوشنودی حاصل کرنا ،گناہوں سے اجتناب کرنا ،نفس امارہ کو مغلوب اور نفس مطمئنہ کو غالب کرنا اس کا بنیادی اور اساسی مقصد ہے ۔
روزہ کے اصل مقصد پر مختلف مفکروں نے مختلف انداز میں روشنی ڈالی ہے ۔ مولانا اشرف علی تھانوی ؒ نے اپنی تصنیف ’’ احکام اسلام عقل کی نظر میں ‘‘ روزہ کے ظاہر ی اور باطنی فوائد یا مقاصد پر مفصل بحث کی ہے ۔ علامہ بن قیم ؒ روزہ کے مقصد کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’’ روزہ سے مقصود یہ ہے کہ نفس انسانی خواہشات اورعادتوں کے شکنجہ سے آزاد ہو سکے۔اس کی شہوانی قوتوں میں اعتدال اورتوازن پیدا ہو اور اس کے ذریعہ سے وہ سعادت ابدی کے گوہر مقصود تک رسائی حاصل کرسکے اور حیات ابدی کے حصول کے لئے اپنے نفس کا تزکیہ کرسکے،بھوک اور پیاس سے اس کی تیزی اورشہوت کی حدت میں تخفیف پیدا ہو اور یہ بات یاد آئے کہ کتنے مسکین ہیں جو نان شبینہ کے محتاج ہیں وہ شیطان کے راستوں کو اس پر تنگ کردے اور اعضاء وجوارح کو ان چیزوں کی طر ف مائل ہونے سے روک دے جن سے دنیا وآخرت دونوں کا نقصان ہے ۔اس لحاظ سے یہ اہل تقویٰ کی لگام ،مجاہدین کی ڈھال اور ابرارو مقربین کی ریاضت ہے ‘‘ (مستفاد از ارکان اربعہ)۔
روزہ دراصل انسان کے لئے ایک روحانی غذا اور محبت الٰہی کاایک بڑا عَلَم ہے ۔اس سے انسانی ہمدردی کے جذبات دل میں پیدا ہوتے ہیں ۔جسم اور روح دونوں صحت مند رہتے ہیں ،بنابریں اس میں دور ا ندیشی کا خیال ترقی کرتا ہے ۔مختصر یہ کہ یہ وہ عبادت بدنی ہے جس میں خدمت انسانیت کا درس ہمارے لئے پوشید ہ ہے ۔وہ اس طرح کہ روزہ رکھنے کے بعدہمیں معلوم ہو تاہے کہ محض چند ایام کے لئے کھانے ،پینے کی ترتیب کے بدل جانے سے ہمیں اتنی بے چینی محسوس ہو رہی ہے تو کیا حال ہوتاہوگا ان لوگوں کا جو غربت و تنگی کی وجہ سے فاقوں میں رہتے ہیں ،جن کے گھروں میں کھانے کے لئے غلّہ،پینے کے لئے پانی اورپہننے کے لئے کپڑوں کا صحیح انتظام نہیں وہ کس طرح مشکلات کے شکنجوں میں جکڑے اور بدحالیوں کے نرغوں میں پھنسے ہو ئے ہو ں گے؟ اگر کسی روزہ دار انسان پر اس احساس کے باوجود خدمت خلق کی بے چینی مسلط نہ ہو،اس کی آنکھوں کی نیند نہ اُڑے، اس کے دل میں غرباء پروری کا جذبہ اور تنگ دست لوگوں کی رعا یت و ہمدردی کا داعیہ پید انہ ہو تواس کا انسانیت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔بقول علامہ بن قیم ؒ ’’ روزہ جوارح ظاہر ی اور قوائے باطنی کی حفاظت میں بڑی تاثیر رکھتا ہے ۔فاسد ما دہ کے جمع ہو جا نے سے انسان میں جو خرابیاں پیدا ہو جا تی ہیں اس سے وہ اس کی حفاظت کرتا ہے جو چیزیں ما نع صحت ہیں ان کو خارج کر دیتا ہے اور اعضاء و جوا رح میں جو خرابیاں ،ہویٰ و ہوس کے نتیجہ میں ظاہر ہو تی رہتی ہیں وہ اس سے دفع ہو تی ہیں ،وہ صحت کے لئے مفید اور تقویٰ کی زندگی اختیار کرنے میں بہت ممد و معاون ہے‘‘۔

 جدید سائنسی تحقیق کی روشنی میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ روزہ بہت سی بیماریوں کا علاج بھی ہے اورتنائو ، ذہنی دبائو ،بلڈ پریشر اور مرگی ایک بہترین دوا بھی۔ وزن بڑھانے کی بیماریوں کے لئے روزہ ایک اکسیر کی حیثیت رکھتا ہے ۔یہ نظریہ اگر مسلم طبیبوں کا ہے تو غیر مسلم اطبا کی آراء بھی روزہ کے حوالے سے کچھ کم نہیں ۔

روزہ کے یہ ظاہری و باطنی فوائد روزہ دار کو اسی وقت حاصل ہو سکتے ہیں جب روزے پورے احساس و شعور کے ساتھ رکھے جائیں اور ان کے سبھی تقاضوں کو ملحوظ رکھا جائے ۔ روزہ کا اصل تقاضہ یہ ہے کہ روزہ دار اپنی ہر طرح کی صلاحیت و لیاقت کو مرـضیات الٰہی کے تابع بنائے ۔اپنی نفسانی خواہشات اور شیطانی تخیلات کو خوشنودی الٰہی کی غرض سے کچل ڈالے ،اپنے کانوں ،اپنی زبان،اپنی آنکھوں اور اپنے اعضائے جسمانی کو خدا کی منہیات سے بچائے ورنہ جو شخص روزہ رکھ کر کذب بیانی کرے،غیبت کرے، کوئی خلاف شرع کام کرے تو یہ روزہ نہیں بلکہ ایک طرح کی بھوک اور پیاس کو برداشت کرنے کا مشقت بھرا عمل ہو سکتاہے جس کا اللہ کے نزدیک کوئی فائدہ نہیں۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے کہ آپ ؐ نے ارشاد فرمایا جو شخص روزہ کی حالت میں جھوٹ ،دغا بازی اور فریب نہ چھوڑے تو اللہ کو کوئی حاجت نہیں کہ وہ کھا نا چھوڑ دے(بخاری)۔
انسان ملوکیت و بہیمیت کا جامع ہے ۔اس کی فطرت میں سفلی تقاضے بھی ہیں اور روحانیت و ملکوتیت کے روحانی جواہر بھی ۔لیکن انسان کی سعادت مندی اس میں ہے کہ اس کا ملکوتی اور روحانی جوہر بہیمی اور حیوانی عنصر پر غالب رہے ،اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب بہیمی و حیوانی پہلو ملکوتی اور روحانی پہلو کا فرمانبردار اور مطیع ومنقاد بن جائے ،روزہ انسان کے اسی بہیمی پہلو کو روحانی پہلو کی اطاعت و فرمانبرداری کا عادی اور نوکری وچاکری کا خوگر بناتا ہے،اسلام کا یہی نقطہ نظر ہے ۔جہاں تک جدید سائنس کا تعلق ہے تو یہ اس(روزہ) کو ایک انسانی ضرورت قرار دیتی اور انسانی صحت کے لئے ا سے ایک طرح کا معجزہ تصور کرتی ہے ۔ اس (سائنسی )نقطہ نظر سے روزہ عا م فاقہ سے مختلف ایک روحانی چیز ہے ۔اس سے انسان کو روحانی سکون ملتا ہے اور اس کے جذبات میں بھی انضباط و استحکام پیدا ہوتا ہے ۔اشتغال کی کیفیت کا فور ہو جاتی ہے ۔حضور ؐ کی حدیث ہے ’’ اگر کوئی آپ کے ساتھ گالی گلوج کرتاہے تو آپ اس کو جواب دیں کہ میں روزہ سے ہوں ‘‘ اس طرح ماہ رمضان میں ایک دوسرے سے ذاتی مخاصمت بھی کم ہو جاتی ہے ،یہی وجہ ہے کہ اس ماہ مقد س میں تمام اسلامی ممالک میں جرائم کی واردات میں واضح کمی آجاتی ہے۔ جدید سائنسی تحقیق کی روشنی میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ روزہ بہت سی بیماریوں کا علاج بھی ہے اورتنائو ، ذہنی دبائو ،بلڈ پریشر اور مرگی ایک بہترین دوا بھی۔ وزن بڑھانے کی بیماریوں کے لئے روزہ ایک اکسیر کی حیثیت رکھتا ہے ۔یہ نظریہ اگر مسلم طبیبوں کا ہے تو غیر مسلم اطبا کی آراء بھی روزہ کے حوالے سے کچھ کم نہیں ۔ چند آراء حسب ذیل ہیں:
(۱) روزہ رکھنے سے خیالات پر یشان نہیں ہو تے ،جذبات کی انگیخیت جاتی رہتی ہے ،برائیاں اور بدیاں دور ہوجاتی ہیں (ڈاکٹر مائکل)
(۲)فاقے کی بہترین صورت وہ روزہ ہے جو اہل اسلام کے طریقہ سے رکھا جائے ،ڈاکٹر جس طریقہ سے فاقہ کراتے ہیں وہ غلط ہے (ڈاکٹر ایمر سن)
(۳)روزہ دل میں سکون اور اطمینا ن پیدا کرتاہے اس سے قوت برداشت بڑھتی ہے اور سختیاں سہنے کی عادت پید ا ہوتی ہے (ڈاکٹر ہنری ایڈورڈ)
(۴) جذباتی انسانوں اور مجردوں کے لئے روزہ بہت مفید ہے ،اس سے خیالات درست رہتے ہیں اور شیطانی وسوسے قریب نہیں آتے (ڈاکٹر رام ہنری)
(۵) روزہ روح کی غذا ہے (ڈاکٹر جیک)
ان تمام تفصیلات سے یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ روزہ سے جہاں ایک طرف اخروی زندگی کی بہتر تعمیر ہو تی ہے تو وہیں دوسری طرف اس فانی زندگی میں بہت سے ایسے طبی فوائد بھی حاصل ہو جا تے ہیں جن کا اعتراف اطباء کو بھی ہے ۔
uuu

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here