فیکٹ چیک: کیا یوم آزادی 2020 کے موقع پر سری نگر لال چوک پر ترنگا لہرایا گیا؟

0

جبکہ ہندوستان نے ہفتہ کو اپنا 74 واں یوم آزادی منایا، جموں کشمیر میں اس ماہ 5 اگست 2019 کو دفعہ370 کو ختم کر دیا گیا تھا اور اس کا ایک سال مکمل ہو گیا ہے۔ 

سرینگر کے اہم مرکز لال چوک کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس پر ہندوستانی قومی پرچم اپنے  لہرایا گیا ہے۔

ٹویٹر پر اپلوڈ کی گئی ایسی ہی ایک تصویر کے عنوان پر لکھا گیا ہے، 5 اگست 2019 کے بعد سے کیا بدلا ہے؟ لال چوک سرینگر جو  کہ  سیستدانوں اور جہادیوں کے زریعہ ہندوستان مخالف مہم کی علامت رہا تھا اب وہ قوم پرستی کا تاج بن گیا ہے۔

ہم نے یہ دعوی گمراہ کن پایا۔ لال چوک میں یوم آزادی کے روز قومی پرچم نہیں لہرایا گیا۔ وائرل تصور 10 سال پرانی یعنی سنہ 2010 کی ہے۔
یہ تصویر فیس بک پر بھی وائرل  ہو رہی ہے۔
 فیکٹ چیک:
ریورس امیچ سرچ سے یہ معلو ہوا کہ یہ تصویر سنہ 2010 کی ہے اور اس وقت کی اس تصویر کو کمپیوٹر میں فوٹوشام کا استعمال کر کے تیار کیا گیا ہے۔
ہم 2010 کے ایک بلاگ پوسٹ پر ایک صارف ‘مبشر مشتاق’ کے ذریعہ اس تصویر تک پہنچے، جو خود کو ایک آزاد صحافی بتاتے ہیں۔  انہوں نے اپنے ایک مضمون میں جون 22 سنہ 2010 میں یہی تصویر شیئر کی جس میں قومی پرچم نہیں لگا ہوا ہے۔

اس مضمون کی تصویر کے ساتھ وائرل ہونے والی تصویر کا موازنہ یہ ثابت کرتا ہے کہ اس تصویر میں قومی پرچم شامل کرنے کے لئے فوٹو شاپ کا استعمال کیا گیا ہے۔
سرینگر کے لال چوک میں زمینی حقیقت پر سرینگر کے فوٹو جرنلسٹ طارق احمد لون نے تصدیق کی کہ یوم آزادی 2020پر لال چوک پر کوئی پرچم لہرانا نہیں گیا۔  

طارق کا کہنا ہے کہ 'میں آج صبح لال چوک گیا۔ اس کے  کلاک ٹاور کے اوپر کوئی جھنڈا لہرایا نہیں گیا ہے۔ آج سری نگر اور وادی کشمیر کے دیگر حصوں میں مکمل پابندیاں عائد ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پرانی عمارت جو وائرل ہونے والی کے تصویر میں دائیں  طرف ایک عمارت کو دیکھا جاسکتا ہے اسے پانچ سال قبل دوبارہ تعمیر کیا گیا تھا اور اب جو تصویر میں نظر آرہی ہے وہ ایسے نہیں ہے۔ 

ہم نے 15 اگست 2020 سے وائرل ہونے والی تصویر اور لال چوک کی ایک تصویر کے درمیان موازنہ کیا۔ اس سے ایک بار پھر صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وائرل ہونے والی تصویر حالیہ دنوں کی نہیں ہے۔
 وانی نے نمائندے کو بتایا کہ جشن آزادی کے موقع پر پولیس کنٹرول روم ، ایس کے اسٹیڈیم ، سیاسی جماعتوں کے صدر دفاتر ، اور سی آر پی ایف بٹالین ہیڈ کوارٹر میں پرچم لہرایا گیا ہے۔ لال چوک ایک حساس علاقہ ہے اور عام طور پر ، سیکیورٹی ایجنسیاں وہاں پرچم لہرانے سے گریز کرتی ہیں۔ پچھلی بار جہاں تک مجھے یاد ہے مرلی منوہر جوشی اور وزیر اعظم مودی نے 1992میں لہرایا تھا۔

کشمیر نیوز ٹرسٹ کے سرکاری فیس بک پیج پر لال چوک میں آج کے کرفیو کی ایک ویڈیو بھی  دیکھے گئی۔ ویڈیو میں لال چوک کی ویران گلیوں کو دکھایا گیا ہے اور اس کے  کلاک ٹاور کے اوپر کوئی  پرچم نہیں ہے۔

لہذا ، لال چوک کے کلاک ٹاور پر ہندوستانی قومی پرچم لہراتے ہوئے وائرل تصویر کو فوٹو شاپ کیا گیا ہے۔ 15اگست 2020 کو یا حالیہ دنوں میں سری نگر کے لال چوک پر قومی پرچم نہیں لہرایا گیا۔

بشکریہ انڈیا ٹوڈے

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS