اردو میں دیوالی سے متعلق اشتہار،بی جے پی رہنماؤں کے احتجاج کے بعد فیب انڈیا نے ہٹایا

0

نئی دہلی (ایجنسی): کپڑوں کے برانڈ فیب انڈیا کو احتجاج کے بعد اپنا ایک اشتہار ہٹانا پڑا۔ فیب اڈیا نے اپنے کپڑوں کے ایک مجموعے کو ‘جشنِ رواج’ کا نام دیا۔ اس کے بعد بی جے پی کے کچھ سینئر لیڈروں نے اس کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ دیوالی سے متعلق اشتہار کا نام اردو میں رکھا گیا ہے جو صحیح نہیں ہے۔ اب اس اشتہار سے متعلق سوشل میڈیا پوسٹ کو بھی ہٹا دیا گیا ہے۔


اس پوسٹ میں لکھا گیا تھا، ‘ہم محبت اور روشنی کے تہوار کا خیرمقدم کرتے ہیں، فیب انڈیا کا جشنِ رواج ایک مجموعہ ہے جو ہندوستانی ثقافت کا مکمل احترام کرتا ہے۔’ اشتہار میں


لکھا تھا، ‘ریشم کی سرسراہٹ،زری


کی چمک،زیورات کی روشنی،بالوں میں پھولوں کی خوشبو،مٹھائی کی مٹھاس اور گھر آنے کی خوشی۔ تہواروں کا آغاز جشنِ رواج سے کریں۔


اس کے اشتہار کو ہٹانے کے بعد فیب انڈیا نے یہ بھی کہا ہے کہ جشنِ رواج دیوالی کپڑوں کا مجموعہ نہیں تھا۔ ‘جھلمل دیوالی’ مجموعہ ابھی لانچ ہونا باقی ہے۔ بی جے پی کے فائر برانڈ رکن پارلیمنٹ تیجسوی سوریا نے ٹویٹ کرکے اس اشتہار کی مخالفت کی تھی۔ وہ پارٹی کے یوتھ ونگ کے صدر ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہندو تہواروں کو ‘ابراہیمائزڈ’ کیا جا رہا ہے۔ تیجسوی سوریا نے اپنے ٹویٹ میں لکھا، ‘دیپاولی کوئی جشن نہیں ہے۔ یہ ہندو تہواروں کی ابراہیمائزیشن کی کوشش ہے۔ اس میں حصہ لینے والی ماڈلز کا بائیکاٹ کیا جائے۔ فیب انڈیا کو بھی اس غلط مہم کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آر ایس ایس شاکھا سے باہر آنے والے لوگ اسمبلی میں گندی فلمیں دیکھتے ہیں۔ بی جے پی لیڈر سی ٹی روی نے ٹویٹر پر لکھا ، ‘اگر فیب انڈیا بہت سیکولر ہے تو اسے رہنے دیں۔ ہم کہیں اور سے خریدیں گے۔ تیجسوی سوریا کے ٹویٹ کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بالکل سچ ہے۔ فیب انڈیا کی مخالفت ہونی چاہیے۔ ٹوئٹر پر بہت سے لوگوں نے فیب انڈیا کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا۔ دوسری جانب بی جے پی لیڈر کپل مشرا نے کہا کہ یہ برانڈ اب ہمارے پیسوں کا مستحق نہیں ہے۔

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
1
+1
0
+1
0
+1
1

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here