شیخ الحدیث مفتی محمد شوکت قاسمی کے انتقال پر اظہار تعزیت

0

مہراج گنج (عبید الرحمٰن الحسینی)
جامعة القدسیات دیوبند کے شیخ الحدیث مفتی محمد شوکت قاسمی کے سانحہ ارتحال پر اپنے غم کا اظہار کرتے ہوئے دارالعلوم فیض محمدی ہتھیا گڈھ کے سربراہ اعلیٰ مولانا قاری محمد طیب قاسمی نے کہا کہ موت ہر انسان کے لئے مقدر ہے اور اس کی خبریں ہمارے کانوں میں روزانہ پڑتی رہتی ہے لیکن بعض ہستیاں ایسی ہیں کہ جن کے وجود سے ایک انجمن آراستہ رہتی ہے۔ ان کے جانے سے انجمن کی رونق ماند پڑ جاتی ہے دل تڑپ اٹھتا ہے اور ان کی چبھن برسوں محسوس ہوتی رہتی ہے۔ انہیں میں سے مفتی محمد شوکت قاسمی بھی تھے۔ جو ایک باکمال خطیب وجید عالم دین ہونے کے ساتھ فقہ وحدیث کے کامیاب استاذ تھے ، کچھ سالوں تک ضلع مہراج گنج کے دوتین مدرسوں میں درس وتدریس ونظامت کے فرائض وعلمی سوغات لٹاتے ہوئے دیوبند جا بسے، اور پھر وہیں پر آپ تقریبا سترہ سالوں سے جامعہ القدسیات دیوبند میں شیخ الحدیث کے طور تدریسی خدمات انجام دے رہے تھے ، آپ اپنے علمی جوہر اور گہری استعداد کی بنیاد پر ملک بھر کے مدارس کا دورہ کرکے وہاں کی علمی فضا معطر و مشکبار کرتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں آپ کے معتقدین ومتوسلین اور آپ کے تربیت وتعلیم یافتہ طلباء ملک کے کونے کونے میں موجود ہیں۔مرحوم سے میرا ناطہ ان کی علمی لیاقت وصلاحیت کی بنیاد پر بڑا گہرا تھا، ہمیشہ میں ان کا قدر داں ومداح رہا۔
مولانا قاسمی نے کہا کہ مفتی محمد شوکت قاسمی کی وفات جامعہ القدسیات للبنات دیوبند سمیت پوری ملت اسلامیہ کے لئے ایک عظیم خسارہ ہے۔ علمی و روحانی دنیا میں ایسا عظیم خلا پیدا ہوگیا ہے جس کا پر ہونا بظاہر ممکن نہیں۔ آپ کی شخصیت مختلف خصوصیات و کمالات کی حامل تھی۔ کامیاب ترین مدرس اور عظیم ترین محدث ہونے کے ساتھ ساتھ اللہ نے قرطاس وقلم کی بے پایاں قوت و استعداد سے بھی سرفراز کیا تھا۔مرحوم اپنی صائب رائے ، طویل تجربات کی بناء پر ادارہ کی انتظامیہ کے لئے بہترین مشیر اور خیر خواہ تھے۔
دارالعلوم فیض محمد ی کے مہتمم مولانا محی الدین قاسمی ندوی نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا آج ہم سب ایک عبقری شخصیت، بلند پایا محدث سے محروم ہوگئے۔ اللہ نے آپ کو ہر فن میں مہارت عطا کی تھی، حدیث پڑھانے کا انداز اتنا فقیہانہ اور محدثانہ ہوتا تھاکہ طلبہ آپ کے ارشادات کو قلم بند کرتے تو وہیں کچھ طلبہ بڑی پابندی کے ساتھ آپ کی توضیحات کو موبائلوں میں قید بھی کرتے۔ خطابت کے ساتھ آپ کے درس کا جواب نہیں تھا، نہایت سلیس سلجھا ہوا عام فہم ہوتا تھا۔ یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگاکہ آپ جہاں علم حدیث میںیدطولیٰ رکھتے تھے، وہیں آپ علم کلام نحووصرف اور علم فقہ میں بھی ممتاز و منفرد مقام رکھتے تھے۔ یقیناآپ کی رحلت سے علمی حلقوں کی فضاءمغموم ہوگئی ہے۔ اللہ آپ کے درجات کو بلند فرمائے، اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔آمین۔
اظہار تعزیت کرنے والوں میںماہ نامہ احیاءاسلام کے نائب مدیر مفتی احسان الحق قاسمی ، مولانامحمد انتخاب ندوی، ڈاکٹر محمد اشفاق قاسمی، مولانا محمد سعید قاسمی، مولانا وجہ القمر قاسمی ، مولانا محمدصابر نعمانی مولانا ظل الرحمان ندوی، مولانا شکراللہ قاسمی، حافظ ذبیح اللہ مولانا محمد یحیٰ ندوی ، ماسٹر محمد عمر خان ، ماسٹر جاوید احمد، محمد قاسم، ملا محمد مسلم و ماسٹر فیض احمدکے نام قابل ذکر ہیں۔